یو پی میں پانچویں مرحلے کی ووٹنگ راہل اور ورون جیسے لیڈروں کی قسمت ہوگی لاک

Share Article

اجے کمار

p-9اتر پردیش میں پانچویں مرحلہ میں 7 مئی کو 15 سیٹوں پر ووٹنگ ہوگی۔ اس دن تقریباً 80 فیصد امیدواروں کی قسمت ووٹنگ مشین میں قید ہو جائے گی۔ 7 مئی کو امیٹھی، سلطانپور، پرتاپ گڑھ، کوشامبی، پھولپور، الہ آباد، فیض آباد، امبیڈکر نگر، بہرائچ، قیصر گنج، شراوستی، گونڈا، بستی، سنت کبیر نگر اور بھدوئی کے ووٹرس اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں گے۔ یہاں بی جے پی کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں ہے، کیوں کہ اس دن جن 15 سیٹوں کے لیے انتخابات ہونے ہیں، ان میں سے 7 سیٹوں پر کانگریس کا، پانچ پر بی ایس پی اور تین سیٹوں پر سماجوادی پارٹی کا قبضہ ہے۔ بی ایس پی نے پانچ میں سے دو ،یعنی بستی اور بھدوئی کے موجودہ رکن پارلیمنٹ کو ٹکٹ نہ دے کر ان دونوں جگہوں پر نئے امیدوار کھڑے کیے ہیں۔ اس مرحلہ میں کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی، بی جے پی کے جنرل سکریٹری ورون گاندھی، بینی پرساد ورما، نرمل کھتری، اسمرتی ایرانی، کرکٹر سے سیاست میں کودے محمد کیف، ریورتی رمن سنگھ، شہ زور برج بھوشن شرن سنگھ وغیرہ لیڈروں کی قسمت کا فیصلہ ہونا ہے۔ جس سیٹ کو لے کر اس وقت سب سے زیادہ بحث ہو رہی ہے، وہ امیٹھی کی سیٹ ہے۔ امیٹھی میں راہل کو چنوتی دینے کے لیے بی جے پی نے ٹی وی سیریل کی ’بہو‘ تلسی، یعنی اسمرتی ایرانی کو میدان میں اتارا ہے، تو دوسری طرف عام آدمی پارٹی نے یہاں سے راہل کے خلاف کمار وشواس کو کھڑا کیا ہے۔ امیٹھی میں کجریوال نے کمار وشواس کی حمایت میں پرچار کیا، تو دس سالوں کے بعد کانگریس میں ایسا موقع بھی آیا، جب راہل کی سیٹ بچانے کے لیے کانگریس صدر سونیا گاندھی کو یہاں پہلی بار عوامی ریلی سے خطاب کرنا پڑا۔

ایک طرف امیٹھی ہے، تو اس سے سٹی ہوئی سلطانپور لوک سبھا سیٹ ہے۔ یہ سیٹ بھی گاندھی فیملی کے دبدبے والی سیٹ رہی ہے۔ بی جے پی نے یہاں سے گاندھی فیملی کے ہی رکن ورون گاندھی کو میدان میں اتارا ہے۔ ورون اس بھارتیہ جنتا پارٹی کے ٹکٹ سے یہاں سے تال ٹھونک رہے ہیں، جس کو روکنے کے لیے کانگریس سے لے کر 10 جن پتھ تک ایڑی چوٹی کا زور لگائے ہوئے ہے۔ کانگریس نے سلطانپور میں ورون کے خلاف ان کے والد سنجے گاندھی کے سب سے وفادار رہے ایم پی سنجے سنگھ کی بیوی امیتا سنگھ کو میدان میں اتارا ہے۔ ورون کا سلطانپور سے الیکشن لڑنا 10 جن پتھ کو راس نہیں آ رہا ہے، اسی لی پرینکا گاندھی نے ورون کے خلاف سیاسی مورچہ کھول رکھا ہے۔ وہ عوام سے ورون کو ہرانے کی اپیل کر چکی ہیں۔ سماجوادی پارٹی نے امیٹھی میں اپنا امیدوار اتارنے کی بھول اس بار بھی نہیں کی ہے۔ مطلب صاف ہے کہ الیکشن کے بعد کے ایکویشن پر سماجوادی پارٹی کی نظر ٹکی ہوئی ہے۔ وہیں بی ایس پی کے امیدوار دھرمیندر پرتاپ سنگھ فی الحال مقابلے سے باہر دکھائی دے رہے ہیں۔
بات اگر فیض آباد کی کی جائے، تو تنازع کی وجہ سے دہائیوں تک سرخیوں میں رہنے والے ایودھیا کی فیض آباد سیٹ پر سیاست کا اونٹ کس کروٹ بدلے گا، کوئی نہیں جانتا ہے۔ یہاں سے بی جے پی – بی ایس پی اور ایس پی کے چکرویوہ میں کانگریس کے ریاستی صدر اور موجودہ ایم پی نرمل کھتری الجھے ہوئے ہیں۔ کھتری کو بی جے پی کے سابق وزیر للو سنگھ چنوتی دے رہے ہیں۔ سماجوادی پارٹی نے یہاں سے پرانے داغی متر سین یادو اور بی ایس پی نے یو پی کانگریس کی صدر ریتا بہوگنا جوشی کا گھر جلانے کے ملزم جتیندر سنگھ بلو کو میدان میں اتارا ہے۔
سنت کبیر نگر سیٹ بھی موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ کبھی پوروانچل کے طاقتور لیڈروں میں شمار کیے جانے والے ہری شنکر تیواری اپنے بیٹے اور سنت کبیر نگر سے موجودہ بی ایس پی ایم پی بھیشم شنکر عرف کشل تیواری کو لڑا رہے ہیں۔ ان کو بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے سابق ریاستی صدر رما پتی رام ترپاٹھی کے بیٹے شرد ترپاٹھی کی چنوتی مل رہی ہے۔ یہاں کانگریس کی حالت کمزور دکھائی دے رہی ہے، تو سماجوادی پارٹی کے امیدوار بھال چندر یادو کو یادوؤں کے ساتھ ساتھ مسلم ووٹروں کا سہارا ہے۔ گونڈا میں بھی مقابلہ دلچسپ دکھائی دے رہا ہے۔ یہاں سے لگاتار دوسری بار قسمت آزمائی کر رہے کانگریس کے امیدوار اور اسٹیل منسٹر بینی پرساد ورما کو دو سابق ارکانِ پارلیمنٹ کیرتی وردھن سنگھ اور اکبر احمد ڈمپی سے چنوتی مل رہی ہے۔ کیرتی وردھن ایس پی اور بی ایس پی ہوتے ہوئے بی جے پی میں آئے ہیں، تو ڈمپی بی ایس پی کے سہارے اقلیتوں کے ووٹ کا پولرائزیشن کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پیس پارٹی بھی یہاں سے تال ٹھونک رہی ہے۔ اس نے یہاں سے مسعود احمد عالم کو میدان میں اتارا ہے۔
پانچویں مرحلہ میں سماجوادی حکومت کے تین وزیروں کی ساکھ بھی داؤ پر ہے۔ بی ایس پی کا مضبوط قلعہ تصور کیے جانے والے ضلع امبیڈکر نگر پر آج کی تاریخ میں بی ایس پی کے راکیش پانڈے کا قبضہ ہے۔ بی ایس پی نے انہیں ایک بار پھر میدان میں اتار دیا ہے۔ پانڈے کی راہ روکنے کے لیے ایس پی نے وزیر رام مورتی ورما کو آگے کیا ہے، تو بستی پارلیمانی حلقہ سے دوسرے وزیر راج کشور سنگھ میدان میں ہیں۔ یہ دونوں ہی سیٹیں بالترتیب بی ایس پی کے راکیش پانڈے اور اروِند چودھری کے قبضے میں ہیں۔ بستی میں بی جے پی یوا مورچہ کے ریاستی صدر رہے ہریش دویدی اور بی ایس پی کے ایم ایل اے رام پرساد چودھری زبردست طریقے سے تال ٹھونک رہے ہیں۔ تیسرے وزیر ونود کمار سنگھ عرف پنڈت سنگھ قیصر گنج سے میدان میں ہیں۔ یہاں کے موجودہ ایم پی برج بھوشن شرن سنگھ کے ذریعے ایس پی کا ٹکٹ لوٹانے کے بعد ملائم سنگھ نے پنڈت کو میدان میں اتارا ہے۔ برج بھوشن ایک بار پھر بی جے پی کے ٹکٹ سے اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ یہاں سے بی ایس پی نے اپنے ایم ایل اے کے کے اوجھا اور کانگریس نے مکیش شریواستو کو ٹکٹ دیا ہے۔
دلچسپ لڑائی نیپال کی سرحد سے لگی شراوستی سیٹ پر دیکھنے کو مل رہی ہے۔ یہاں سے دو شہ زور رضوان ظہیر اور عتیق احمد میدان میں ڈٹے ہوئے ہیں۔ بی ایس پی دورِ حکومت میں بھاگے بھاگے پھر رہے عتیق کو سماجوادی پارٹی نے الہ آباد سے لاکر یہاں کا امیدوار بنایا ہے، تو رضوان ظہیر کو جب بی ایس پی سے ٹکٹ نہیں ملا، تو وہ پیس پارٹی کے بینر تلے تال ٹھونک رہے ہیں۔ بی جے پی نے سابق وزیر ددّن مشرا، تو بی ایس پی نے سابق وزیر خزانہ لال جی ورما کو اتارا ہے۔ یہاں مقابلہ چہار رخی نظر آ رہا ہے۔ یہاں سے کانگریس کے ایم پی وجے کمار پانڈے پھر میدان میں ہے۔ مقابلہ پرتاپ گڑھ میں بھی دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ یہاں سے کمل تو نہیں کھلے گا، لیکن کمل کے سہارے اَپنا دَل کے امیدوار ٹھاکر ہروَنش جیت کا خواب سجائے بیٹھے ہیں۔ پرتاپ گڑھ کی موجودہ ایم پی راج کماری رتنا سنگھ کو ہروَنش کے علاوہ ایس پی کے پرمود پٹیل اور بی ایس پی کے آصف نظام الدین صدیقی سے بھی پار پانا ہوگا۔ بی ایس پی امیدوار دلت مسلم ووٹوں کے سہارے اپنی کشتی پار ہو جانے کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔
دو بار ملک کو لال بہادر شاستری جیسا وزیر اعظم دینے والی الہ آباد پارلیمانی سیٹ پر اس وقت سماجوادی پارٹی کے بزرگ لیڈر ریوتی رمن سنگھ کا قبضہ ہے۔ یہاں سماجوادی پارٹی کی مضبوط سیٹ ہے۔ ریوتی کو بی جے پی کے سابق رکن پارلیمنٹ شیام چرن گپت اور بی ایس پی چھوڑ کر کانگریس سے امیدوار بنے سابق وزیر نند گوپال نندی سے چنوتی مل رہی ہے۔ یہاں بھی مودی فیکٹر زبردست طریقے سے کام کر رہا ہے۔ الہ آباد کی پھولپور سیٹ بھی کبھی وی آئی پی سیٹ کہلاتی تھی۔ اس سیٹ سے ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو دو بار 1957 اور 1962 میں رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے تھے۔ 1962 میں نہرو نے لوہیا کو الیکشن میں ہرایا تھا۔ نہرو کی وفات کے بعد ان کی بہن وجے لکشمی پنڈت تین بار اور سابق وزیر اعظم وی پی سنگھ پہلی بار یہاں سے رکن پارلیمنٹ چنے گئے تھے۔ بات اگر اس بار کے الیکشن کی کی جائے، تو یہاں سے کانگریس کے امیدوار کے روپ میں کرکٹر محمد کیف کی سیاسی قسمت کو منزل مل پاتی ہے یا نہیں، یہ ان کے لیے فکرمندی کا باعث بنا ہوا ہے۔ اس سیٹ پر سب کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں۔ سماجوادی پارٹی نے یہاں سے دھرم راج پٹیل، بی جے پی نے کیشو پرساد موریہ اور بی ایس پی نے کپل منی کروریا کو ٹکٹ دیا ہے۔ ریزروڈ سیٹ کوشامبی سے سماجوادی پارٹی کے موجودہ ایم پی شیلندر کمار سنگھ میدان میں ہیں۔ ان کی ٹکر بی جے پی کے ونود سونکر اور بی ایس پی کے سریش پاسی سے ہے۔ عام آدمی پارٹی نے ڈاکٹر شیتلا پرساد کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔ بھدوئی سے سابق وزیر راکیش دھر ترپاٹھی بی ایس پی امیدوار کے روپ میں قسمت آزما رہے ہیں۔ کانگریس نے سرتاج امام، بی جے پی نے ویرندر سنگھ مست، سماجوادی پارٹی نے سیما مشرا کو میدان میں اتارا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *