یو پی میں قانون ساز کونسل کا انتخاب ہوا دلچسپ

Share Article

پربھات رنجن دین
p-4اقتدار اور سیفئی مہوتسو کے نشے میں ڈوبی سماجوادی پارٹی کو یہ بھی ہوش نہیں رہا کہ 23 جنوری کو ہونے والے قانون ساز کونسل کے انتخاب میں کسے امیدوار بنانا ہے اور کسے نہیں۔ قانون ساز کونسل کے جس رکن کی ابھی ڈیڑھ سال کی مدت باقی تھی، سماجوادی پارٹی نے اسے بھی اپنا امیدوار بنا دیا۔ سیفئی میں ناچ و رنگ کی محفل ذرا سست پڑی، تو کسی نے یاد دلایا، تب لیڈروں کو ہوش آیا۔ لہٰذا، آناً فاناً لسٹ بدلی گئی اور پھر نئے امیدواروں کا اعلان کیا گیا۔ لیکن اس نئی لسٹ کو لے کر بھی پارٹی کارکنوں میں ناراضگی ہے۔ دوسری طرف، بہوجن سماج پارٹی بھی بوکھلاہٹ کی شکار ہے، کیو ںکہ اس کا شیرازہ بکھر رہا ہے۔ ڈاکٹر اکھلیش داس نے کہہ دیا کہ مایاوتی ٹکٹ اور پوسٹ بیچتی ہیں۔ یہ بات مایاوتی کو بہت بری لگی تھی، اب جگل کشور نے اس کی تصدیق کر دی، تو شاہانہ انداز والی مایاوتی کو دلت یاد آنے لگے۔ بھارت رتن کے اعلان کے بعد اس انعام کو لے کر شروع کی گئی دلت سیاست دراصل پارٹی کے اندر برپا ہنگامے اور سوشل انجینئرنگ کا شیرازہ بکھرنے کی بوکھلاہٹ سے ہی پیدا ہوئی ہے۔ بی ایس پی نے قانون ساز کونسل کے انتخاب کے لیے اپنے امیدوار بھی اسی بوکھلاہٹ میں اعلان کرنے سے پہلے ہی کئی بار بدل دیے۔
سماجوادی پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری پروفیسر رام گوپال یادو نے 4 جنوری کو شام پونے چار بجے قانون ساز کونسل کے امیدواروں کی لسٹ جاری کر دی۔ پارٹی کی طرف سے جاری کی گئی اس لسٹ میں یشونت سنگھ کا نام بھی شامل تھا۔ اس لسٹ پر دیکھتے دیکھتے ملک بھر میں آگ لگ گئی۔ کارکنوں کو تو چھوڑئیے، لیڈروں کو بھی یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ پارٹی ہائی کمان یہ کون سی سیاست کرنے لگا۔ ایک عام کارکن کو بھی معلوم ہے کہ قانون ساز کونسل میں یشونت سنگھ کی مدتِ کار 6 جولائی، 2016 ہے۔ پھر یہ کیا ہوا؟ سماجوادی پارٹی کے ایک سینئر لیڈر نے جب یہ تصدیق کی تو خود یشونت سنگھ تک حیران رہ گئے۔ کوئی یہ خواب میں بھی نہیں سوچ سکتا تھا کہ قانون ساز کونسل کے لیے امیدوار طے کرنے والے لیڈر اقتدار کے نشے میں اس حد تک ڈوبے رہتے ہیں کہ انہیں اپنی ہی پارٹی کے ایم ایل سیز کی مدتِ کار تک کا علم نہیں ہوتا۔ اس کے بعد لیڈروں سے لے کر پارٹی دفتر تک کے فون بج اٹھے۔ یہاں تک کہ پارٹی سربراہ ملائم سنگھ یادو کی رہائش گاہ تک فون پہنچنے لگے۔ پھر ملائم کے یہاں سے فون کرکے یشونت سنگھ سے ہی ان کی مدتِ کار کے بارے میں پوچھا گیا۔ ملائم کی رہائش گاہ پر تعینات ایک اہل کار نے کہا کہ نیتا جی نے خود یشونت سنگھ سے بات چیت کی، تب جا کر شام کے آٹھ بجے یشونت سنگھ کا نام ہٹا کر آشو ملک کو امیدوار بنائے جانے کا اعلان ہوا۔ یہ ترمیم بھی سماجوادی پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری پروفیسر رام گوپال یادو کے دست مبارک سے ہی ہوئی۔ پارٹی کے کئی لیڈروں نے کہا کہ اس بھاری مگر مذاقیہ غلطی کو درست کرکے جاری کی گئی نئی لسٹ میں سے ابھی کئی اور نام ہٹ سکتے ہیں اور جڑ سکتے ہیں، آپ دیکھتے جائیے۔
بہرحال، آشو ملک کو لسٹ میں شامل کرتے ہوئے سماجوادی پارٹی نے احمد حسن، رمیش یادو، ڈاکٹر اشوک واجپئی، سروجنی اگروال، رام جتن راج بھر، صاحب سنگھ سینی اور ویرندر سنگھ گورجر کو قانون ساز کونسل کے لیے امیدوار بنایا گیا ہے۔ احمد حسن، رمیش یادو اور سروجنی اگروال کو قانون ساز کونسل کے لیے ایکسٹینشن ملا ہے۔ دیگر پانچ امیدوار نئے ہیں۔ امیدواروں کے انتخاب پر پارٹی گلیارے میں جو چرچا ہے، اس کے مطابق اس انتخاب میں رام گوپال کا فیصلہ یک طرفہ رہا۔ وزیر اعلیٰ کی ٹیم کے صرف ایک رکن آشو ملک کو لسٹ میں جگہ ملی، وہ بھی غلطی کو درست کرنے کی گنجائش کے بعد۔ ڈاکٹر اشوک واجپئی کو قانون ساز کونسل کا امیدوار بنائے جانے کی وجہ پارٹی لیڈروں کی آپسی رسہ کشی سے بچنے کی کوشش ہے۔ لوک سبھا الیکشن میں لکھنؤ پارلیمانی حلقہ سے سماجوادی پارٹی کے دانشور اور صاف ستھری شبیہ کے چہرے ڈاکٹر اشوک واجپئی کو امیدوار بنایا گیا تھا۔ لیکن بی جے پی کی طرف سے راجناتھ سنگھ کو امیدوار بنائے جائے کے بعد سماجوادی پارٹی نے ڈاکٹر واجپئی کو ہٹا کر اکھلیش مشر کو امیدوار بنا دیا تھا۔ پارٹی کے ہی لیڈروں کا کہنا تھا کہ راجناتھ سنگھ سے ملائم کی نزدیکیوں کو دیکھتے ہوئے کڑی ٹکر دینے والے امیدوار کو ہٹا کر راجناتھ کا راستہ آسان کر دیا گیا تھا۔ اس سے پارٹی لیڈروں کی پارٹی کے اندر ہی سخت مذمت ہوئی تھی۔ پھر، پارٹی نے ڈاکٹر اشوک واجپئی کو راجیہ سبھا کا موقع بھی نہیں دیا۔ اس سے لیڈروں کے خلاف پارٹی میں زبردست ناراضگی بڑھی۔ اس بار قانون ساز کونسل کے لیے ڈاکٹر اشوک واجپئی کو اپنا امیدوار بنا کر پارٹی ہائی کمان نے اپنی جھینپ کو مٹانے کی کوشش کی ہے۔
احمد حسن اکھلیش سرکار کے سینئر وزیر کابینہ ہیں۔ لہٰذا، ان کے ایکسٹینشن کی مدلل وجہ ہے۔ لیکن رمیش یادو اور سروجنی اگروال کے ایکسٹینشن سے پارٹی کے لیڈروں میں کافی ٹینشن ہے۔ اس فیصلے کو وہ رام گوپال یادو کا ایک طرفہ فیصلہ مانتے ہیں۔ یہ چرچا عام ہے کہ کیا پارٹی میں تیز طرار، با اثر اور عوامی حمایت والے لیڈرو ںکی کمی ہو گئی ہے کہ بے اثر اور گھسے پٹے لوگو ںکو اس طرح موقع دیا جا رہا ہے۔ پارٹی کارکن رمیش یادو، سروجنی اگروال، رام جتن راج بھر جیسے امیدواروں پر حیرت جتاتے ہیں۔ پارٹی کارکن کہتے ہیں کہ رمیش یادو کو تو اعلیٰ کمان سے رشتے کا تحفہ دیا گیا ہے۔ انتہائی پس ماندوں میں لوٹن رام نشاد، وِدیاوتی راج بھر یا سشیلا راج بھر، یادووں میں ڈاکٹر اوما شنکر یادو، سنیل یادو، رام ورکش یادو جیسے لیڈروں کو لے کر پارٹی کے کارکن امید لگائے ہوئے تھے کہ قانون ساز کونسل کے لیے انہیں موقع ملے گا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ صاحب سنگھ سینی بی ایس پی، بی جے پی اور کانگریس جیسی پارٹیوں کا چکر لگاتے ہوئے 2014 میں سماجوادی پارٹی میں شامل ہوئے تھے۔ سماجوادی پارٹی نے انہیں اس کثیر پارٹی پس منظر کا تحفہ دیا۔
اکھلیش سرکار میں وزیر مملکت رہ چکے آشو ملک کے بارے میں تو پارٹی کارکنوں کا اندازہ تھا کہ انہیں قانون ساز کونسل کے لیے موقع مل سکتا ہے۔ لیکن صاحب سنگھ سینی کا نام آنے سے مغربی یوپی اور خاص کر سہارنپور میں ایس پی کے کئی سینئر لیڈروں اور سابق وزیروں کی امیدیں ٹوٹ گئیں۔ قانون ساز کونسل کے لیے ضلع صدر چودھری جگپال داس مضبوط دعویدار مانے جا رہے تھے۔ جگپال داس ایس پی کے تا عمر ریاستی صدر رہ چکے آنجہانی چودھری رام شرن داس گوجر کے بیٹے ہیں۔ ایس پی سپریمو ملائم سنگھ یادو سہارنپور میں رام شرن داس کے نام پر یونیورسٹی بنوانے کا وعدہ بھی کر چکے ہیں، لیکن ان کے بیٹے کو موقع نہیں دیے جانے سے پارٹی کارکن اور لیڈر سبھی حیران ہیں۔ سابق وزیر مملکت سنجے گرگ لوک سبھا الیکشن سے پہلے بی ایس پی چھوڑ کر ایس پی میں شامل ہوئے تھے۔ ایس پی اعلیٰ کمان نے انہیں ضمنی انتخاب میں پارٹی کا امیدوار بنایا تھا۔ الیکشن ہارنے کے باوجود گرگ ووٹ بینک بڑھانے میں ناکام رہے۔ ایسے میں انہیں قانون ساز کونسل کے لیے موقع دیے جانے کی لوگوں کو امید تھی۔ پارٹی کارکنوں کو اعلیٰ کمان کے دو رنگی فیصلے پر حیرانی ہے۔ ووٹ بینک بڑھانے والے سنجے گرگ کو موقع نہیں دیا گیا، جب کہ ضمنی انتخاب میں سہارنپور کے انتخابی انچارج کے بطور ویرندر سنگھ گورجر کو ووٹ فیصد بڑھانے کے لیے انعام سے نوازا گیا۔ وزیر برائے شہری ترقی اعظم خان کے خاص، سابق وزیر مملکت سرفراز خان کو بھی اس لسٹ سے جھٹکا لگا۔ ملائم سنگھ یادو کے یومِ پیدائش پر رامپور میں نیتا جی کے ارد گرد گھومتے رہے سرفراز کو ملا جھٹکا اعظم خان کے لیے علامتی جھٹکا مانا جا رہا ہے۔ گورجر سماج کے علم بردار مانے جانے والے سابق وزیر چودھری یشپال سنگھ کے بیٹے چودھری رودر سین بھی قانون ساز کونسل کے لیے بھاگ دوڑ کر رہے تھے۔ ایک جنوری کو انہوں نے بڑا جلسہ کرکے اپنی عوامی طاقت بھی دکھائی، لیکن پارٹی نے انہیں موقع نہیں دیا۔ مجموعی جین سماج کے صدر راجیش جین بھی قطار میں تھے۔ اسمبلی کے ضمنی انتخاب میں وزیر کابینہ بلرام سنگھ یادو کی پہل پر راجیش جین نے بڑی تعداد میں جینیوں کو ایس پی سے جوڑا۔ لکھنؤ کی تجزیاتی میٹنگ میں ملائم نے سہارنپور کے جین سماج کا شکریہ بھی ادا کیا تھا۔ لیکن بلرام یادو کی سفارش کے باوجود انہیں قانون ساز کونسل کے لیے موقع نہیں دیا گیا۔ سابق وزیر رشید مسعود کے بیٹے شادان مسعود کی ایم ایل سی بننے کی دوڑ بھی ناکام ثابت ہوئی۔
سروجنی اگروال کو قانون ساز کونسل کے لیے ایکسٹینشن ملنے سے ویشیہ سماج کے مضبوط دعویدار سریندر موہن، گوپال اگروال، سنجے گرگ اور سندیپ بنسل جیسے لیڈروں کا پتہ کٹ گیا۔ اسی طرح پچھڑوں میں ڈاکٹر راجپال کشیپ، سنجے لاٹھر، اوما شنکر یادو، رام ورِکش یادو اور سنیل ساجن اور مسلم سماج سے جاوید عابدی اور ظفر امین ڈکو جیسے لیڈروں کا پتہ کاٹ دیا گیا۔ بھومی ہر شرومنی کنور ریوتی رمن کے بیٹے اجول رمن سنگھ اور محنت کش لیڈر آنند بھدوریا کی دعویداری ختم کر دینے کی وجہ سے بھومی ہر اور راجپوت، دونوں ہی سماج میں کافی ناراضگی ہے۔

ایس پی، بی ایس پی نے پھنسایا قانون ساز کونسل کا انتخاب
سماجوادی پارٹی کی طرف سے قانون ساز کونسل کے لیے 8 امیدوار میدان میں اتارے جانے سے انتخاب کافی دلچسپ اور کھینچ تان والا ہو گیا ہے۔ اب بلا مقابلہ انتخاب کے بجائے باقاعدہ ووٹنگ کا راستہ صاف ہوگیا دکھائی دیتا ہے۔ 30 جنوری کو اتر پردیش میں 12 ایم ایل سیز کی 6 سال کی مدتِ کار پوری ہونے جا رہی ہے۔ انہی سیٹوں کے لیے 23 جنوری کو الیکشن ہونا ہے۔ 403 ممبران والی ریاستی اسمبلی میں ایس پی کے 232، بی ایس پی کے 80، بی جے پی کے 39، کانگریس کے 28، آر ایل ڈی کے 8، پیس پارٹی کے4، آزاد 6، قومی ایکتا دَل کے دو، ترنمول کانگریس، این سی پی اور اپنا دَل کے ایک ایک اور ایک نامزد کیے ہوئے ممبران ہیں۔ قانون ساز کونسل کے ایک رکن کے لیے 34 ایم ایل ایز کی حمایت ضروری ہے۔ ایسے میں 232 ممبران کے ساتھ ایس پی اپنے 7 امیدواروں کو آسانی سے جتا لے گی، لیکن اس کے ایک امیدوار کے لیے اسے آزاد اور پیس پارٹی سے ووٹ مینج کرنا پڑے گا۔ اسی طرح بی ایس پی اپنے دو امیدواروں کو جتا لے گی، لیکن تیسرے کے لیے اسے بھی ووٹ مینج کرنے پڑیں گے۔ بی جے پی اپنے ایک امیدوار کو قانون ساز کونسل پہنچا لے گی۔

جنگل کشور کرپٹ، مایاوتی نہیں: موریہ
بی ایس پی کے رکن پارلیمنٹ جگل کشور کے الزامات کو خارج کرتے ہوئے پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری سوامی پرساد موریہ نے کہا کہ بیٹے کا اسمبلی ٹکٹ کٹنے کی وجہ سے جگل کشور بی ایس پی سپریمو کے خلاف اناپ شناپ بول رہے ہیں۔ پچھلے اسمبلی الیکشن میں مغربی اتر پردیش میں پارٹی کی خراب کارکردگی کے لیے جگل کشور کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے موریہ نے کہا کہ کچھ کارکنوں کا الزام ہے کہ بی ایس پی میں رہتے ہوئے جگل کشور نے اپنے عہدہ کا غلط استعمال کرکے لکھیم پور اور لکھنؤ میں کروڑوں روپے کی پراپرٹی بنائی۔ جگل کشور پارٹی سے نکالے گئے لیڈر بابو سنگھ کشواہا کی بولی بول رہے ہیں، جن کا کافی پیسہ جگل کشور کے غلط کاموں میں لگا ہوا ہے۔ موریہ نے یہ بھی کہا کہ جگل کشور کے آبائی ضلع کے لوگوں کا ماننا ہے کہ وہ جلد ہی بی جے پی میں شامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے بھی پارٹی سے غداری کی ہے، وہ سیاست سے ختم ہو گئے۔

ٹوٹنے کی حالت میں بی ایس پی، بغاوت عروج پر
اسمبلی الیکشن میں حاشیہ پر پہنچی اور لوک سبھا الیکشن میں پوری طرح غائب ہو چکی بہوجن سماج پارٹی اب اپنے انتشار کو قریب دیکھ کر بوکھلا گئی ہے۔ جس برہمن سماج کو لے کر مایاوتی نے سوشل انجینئرنگ کا فارمولہ اختیار کرکے اقتدار حاصل کیا تھا، وہ برہمن سماج تیزی سے بی جے پی اور سماجوادی پارٹی کی طرف کھسکا ہے۔ دلت سماج میں ایک ذات (مایاوتی کی ذات) کو چھوڑ کر دیگر دلت ذاتیں بی جے پی کی طرف چلی گئی ہیں۔ بی ایس پی کے کئی بڑے لیڈر بی جے پی اور ایس پی سے سیدھے رابطے میں ہیں۔ اس کی وجہ سے پارٹی کے ٹوٹنے کا اندیشہ گہرا ہو گیا ہے۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے مایاوتی کو ایک بار پھر سے دلت کارڈ کھیلنے کی یاد آئی۔ اسی کی وجہ سے بھارت رتن کی سیاست بھی کھیلی گئی، لیکن اس کارڈ کو پھینکنے میں کافی دیر ہو چکی تھی۔ بی ایس پی کے ہی کارکن دبی زبان میں کہتے ہیں کہ جب بھارت رتن کا اعلان ہوا تھا، تب بہن جی کہاں تھیں، کیوں خاموش تھیں اور تب اٹل جی پر کیوں رضامندی جتا رہی تھیں اور ان میں انہیں برہمن کیوں نہیں دکھائی دے رہا تھا؟ مایاوتی کو پارٹی کے اندر چل رہی اس چہ مگوئی کا صحیح اندازہ بعد میں لگا۔ بی ایس پی کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا رکن جگل کشور کی بغاوت کی اندر اندر چل رہی تیاریوں کی بھنک لگتے ہی مایاوتی بوکھلا گئیں۔ اسی لیے قانون ساز کونسل کے امیدواروں کے انتخاب میں انہوں نے کئی پھیر بدل کیے اور صرف نسیم الدین صدیقی کو ایکسٹینشن دے کر بلند شہر کے دھرم ویر سنگھ اشوک اور غازی آباد کے پردیپ سنگھ جیسے نئے امیدواروں کو موقع دے دیا۔ اشوک کمار سدھارتھ اور دھرم پرکاش بھارتی کے منھ سے جلیبی کھسک گئی۔ راجیہ سبھا الیکشن میں بھی ڈاکٹر اکھلیش داس گپتا اور برجیش پاٹھک کو ایکسٹینشن نہیں دیے جانے سے بالترتیب بنیا اور برہمن سماج مایاوتی سے خاصا ناراض چل رہا تھا۔ ڈاکٹر اکھلیش داس نے تو اسی وجہ سے پارٹی سے استعفیٰ بھی دے دیا تھا۔
بی ایس پی کے موجودہ راجیہ سبھا رکن جگل کشور کی کھلی بغاوت کو بھی پارٹی کے ٹوٹنے کی حالت میں آنے سے ہی جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔ جگل کشور نے میڈیا سے باقاعدہ کہا کہ بی ایس پی سپریمو مایاوتی اسمبلی، قانون ساز کونسل، لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے لیے ٹکٹ بیچتی ہیں۔ جگل کشور نے کہا کہ بی ایس پی کی قومی صدر مایاوتی دلت کی بیٹی نہیں، دولت کی بیٹی بن کر رہ گئی ہیں۔ وہ الیکشن میں پارٹی کا ٹکٹ دینے کے لیے موٹی رقم لیتی ہیں۔ پارٹی کے بہار اور دہلی کے معاون انچارج امت تیواری نے بھی اسی انداز میں مایاوتی پر حملہ بولا اور حامیوں سمیت پارٹی کی ابتدائی رکنیت سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔ جگل کشور کی راجیہ سبھا کی مدتِ کار 4 جولائی، 2016 تک ہے۔ انہوں نے پارٹی سے یا راجیہ سبھا سے استعفیٰ دینے کا اعلان نہیں کیا ہے۔ راجیہ سبھا کی مدت پوری ہونے تک اب جگل کشور بہوجن سماج پارٹی کے گلے میں ہڈی کی طرح چبھتے رہیں گے۔ پارٹی سے نکالے جانے پر بھی ان کی راجیہ سبھا کی رکنیت بنی رہے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *