دین بندھو کبیر
p-2اترپردیش میں اسمبلی انتخاب سے پہلے جو جو ہونا چاہیے، وہ ہورہا ہے۔ انتخاب سے پہلے سیاسی پارٹیاں اخلاقیات اور اصولوں کوبالکل بے شرمی سے طاق پر رکھ دیں گی، وہ ہورہا ہے۔ انتخاب سے پہلے ادھر کا پالا چھوڑ کراُدھر جانے اور اُدھر کاخیمہ چھوڑ کر اِدھر بھاگنے کا سلسلہ بھی تیز ہورہا ہے۔ انتخاب سے پہلے الزام تراشیوں کے ہتھکنڈے بے دھڑک استعمال میں آئیں گے، وہ بھی جاری ہے۔ ہندوستانی جمہوریت کی یہی اصلی فلم ہے، جس کا نام ہے ’کٹو ستیہ‘ یا تلخ حقیقت باقی سب جو دکھایا جاتا ہے ، وہ سب سچ کے نام پر ’رام نام ستیہ ہے۔‘
اترپردیش کے لاء اینڈ آرڈر کی بدحالی کا سچ لوگوںکو پتہ چل گیا، جب بدنام زمانہ مجرم سرغنہ مختار انصاری اور اس کے بھائی افضال انصاری کو سماجوادی پارٹی میںشامل کرلیا گیا۔ سماجوادی پارٹی کی ترجیح کیا ہے، ا س کا لوگوں کو احساس ہوگیا۔ مختار انصاری کو ایس پی میں شامل کرنے اور اس کے قومی ایکتا دل کا ایس پی میں انضمام کرانے کے ملائم کے فیصلے کو لے کر پارٹی میںنوٹنکی بھی خوب دکھائی گئی۔ اکھلیش نارااض ہوتے دکھائی دیے۔ اپنی کابینہ سے سینئر وزیر بلرام یادو کو برطرف کرنے کا تماشہ بھی کیا، لیکن لوگوںکو یہ اچھی طرح سمجھ میںآیا کہ یہ سیاسی نوٹنکی دراصل ریاست کے عوام کے ساتھ کھیلی جا رہی ہے۔ جو لوگ ایس پی کونزدیک سے جانتے ہیں، ان کے من میںاس بات کو لے کرکوئی بھرم نہیںہے کہ ایس پی کے قومی صدر ملائم سنگھ یادو نے جو فیصلہ لیا، اسے وہ خود بدل سکتے ہیں، دوسرا کوئی بھی اسے بدل نہیں سکتا۔ اکھلیش یادو کا وزیر اعلیٰ کا عہدہ بھی ملائم کے اسی اٹل فیصلے کا انعام ہے، جس میںکسی دوسرے کی ایک بھی نہیںچلی، چاہے شیوپال یادو ناراض ہوتے رہیں یا اعظم خان خفا ہوتے رہیں۔ تو سچ یہی ہے کہ سارا ڈرامہ یوںہی کھیلا جاتا رہے گا اوراکھلیش مان بھی جائیں گے اور مختار انصاری سماجوادی پارٹی کے بینر سے اسمبلی انتخاب ہونے تک مشرقی اترپردیش میںفرقہ وارانہ، مجرمانہ پولرائزیشن کی اپنی ایک نکاتی مہم جاری رکھیں گے۔ ایس پی کے ہی ایک لیڈر نے کہا کہ مختار انصاری کی پارٹی کے ایس پی میں انضمام کو لے کر اکھلیش یادو اتنے ہی ناخوش تھے، تو استعفیٰ کیوں نہیں دیا؟
مختار انصاری کو سماجوادی پارٹی میںشامل کرنے کی وکالت کرنے والے اکھلیش کابینہ کے وزیر تعلیم بلرام یادو کابینہ سے باہر کردیے گئے، لیکن انھوں نے بڑے جذباتی اور نپے تلے انداز سے ملائم کے تئیں وفاداری اور اکھلیش کے تئیں خوشامدی لفظ گھڑے۔ بلرام نے کہا، سماجوادی پارٹی، نیتا جی اور میرے رشتے بدلنے والے نہیں ہیں۔ مختار کوایس پی میں شامل کرنے کی حمایت میں شیو پال سنگھ یادو بھی شامل تھے، لیکن برطرفی کے ڈرامے سے شیو پال کو الگ رکھا گیا، کیونکہ شیوپال پر وہ ڈرامہ چلتا بھی نہیں۔ مختار انصاری کا قومی ایکتادل پوروانچل میںاپنا ایک الگ قسم کا اثر رکھتا ہے۔ مافیا سرغنہ مختار مئو سے اور ان کے رشتے دار سبقت اللہ انصاری محمد آباد سیٹ سے ایم ایل اے ہیں۔ مختار بی جے پی کے ایم ایل اے کرشنا نند رائے کے قتل سمیت کئی سنگین جرائم میں گزشتہ کئی سال سے جیل میں ہیں۔ انضمام کے بیچ ہی مختار کو آگرہ جیل سے لکھنؤ جیل شفٹ کیا گیا۔ جبکہ مختار کو ایک اپریل 2016 کو ہی لکھنؤ جیل سے آگرہ سینٹرل جیل ٹرانسفر کیا گیا تھا۔
انضمام کے بعد اب قومی ایکتا دل سماجوادی پارٹی کا حصہ بن چکا ہے۔ انضمام سے پہلے قومی ایکتا دل کے صدر اور مختار انصاری کے بھائی افضال انصاری نے شیو پال یادو سے ملاقات کی تھی اور وہیں ساری حکمت عملی طے ہوئی تھی۔ شیوپال نے عوامی سطح پر کہا بھی کہ انصاری کی سماجوادی پارٹی میں گھر واپسی ہوئی ہے۔ شیوپال بولے کہ مختار اور افضال کی وجہ سے ایس پی مضبوط ہوگی۔ مختار اور افضال کا ایس پی میںخیر مقدم ہے۔ یہ انتخابی موسم کا اثر ہے کہ مجرم سرغنہ اور مافیا سماجوادی پارٹی کو مضبوطی دینے لگا ہے۔ شیو پال کے ساتھ پریس کانفرنس میںمختار کے بھائی افضال انصاری بھی موجود تھے۔ انضمام کے وقت وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو جون پور گئے ہوئے تھے۔ ان کے لوٹ کرآنے سے پہلے ہی انضمام ہوچکا تھا۔ یہ سب پہلے سے طے ناٹک تھا۔ جب بلرام یادو ایم ایل سی انتخاب لڑنے کے دوران قومی ایکتا دل کے دو ارکان اسمبلی کا ووٹ لینے کے لیے سرگرم تھے، اس وقت اکھلیش نے کیوں نہیں منع کیا تھا؟ راجیہ سبھا ار ودھان پریشد کے انتخابات میںسماجوادی پارٹی کے امیدواروں کو قومی ایکتا دل کے دونوں ایم ایل ایز نے کھل کر ووٹ دیا تھا، اس وقت اکھلیش یادو کا مورل فورس کیوں نہیںٹھاٹھیں ماررہا تھا؟ یہ سوال ایس پی کے کارکنوں کے ہی ہیں،جو بہت بولنے والے تو نہیںہیں، لیکن ذہنی طور پر متحرک ضرور ہیں اور انتخاب میں اپنی شدت دکھائیں گے۔
پھر نرم کیوں پڑگئے اکھلیش؟
جو مسئلہ اخلاقیات سے جڑا تھا اورجو اتنا سنجیدہ تھا کہ کابینہ کے سینئر ممبر کو برطرف کردینا پڑا، اس مسئلے پر وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو اچانک پورا ڈرامہ کھیل کرنرم کیوں پڑگئے؟ اکھلیش نے خود ہی کہا کہ پارٹی میںکوئی ناراضگی نہیں ہے۔ جو پارٹی کا فیصلہ ہوگا، وہ سبھی مانیں گے۔ سماجوادی پارٹی کے پارلیمانی بورڈ کی میٹنگ 25 جون کو ہونے والی ہے۔ اکھلیش کے تازہ رخ سے مختار انصاری کی پارٹی کے انضمام کو پارلیمانی بورڈ سے منظوری مل ہی جائے گی۔اکھلیش کی نرمی دیکھ کر یہی قیاس لگائے جارہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اکھلیش یادو نے بی ایس پی چھوڑنے والے سوامی پرساد موریہ کی جم کر تعریف کی اور کہا کہ موریہ اچھے اور مضبوط لیڈر ہیں، لیکن غلط پارٹی میںتھے۔
بہوجن سماج پارٹی میںمچی بھگدڑ، موریہ کے بعد کئی اور لائن میں مایاوتی کے خلاف موریہ کاشوریہ
ایک طرف سماجوادی پارٹی میںمافیا سرغنہ کی پارٹی کا انضمام ہورہا تھا، تو دوسری طرف اتر پردیش اسمبلی انتخاب میں اپوزیشن کے لیڈر سوامی پرساد موریہ کا بہوجن سماج پارٹی سے جدائی ہورہی تھی۔ موریہ مایاوتی کے خلاف بیان بازی کی بہادری دکھا رہے تھے، تو مایاوتی بھی اپنے انداز میںسوامی پرساد موریہ کے وجود کو خارج کررہی تھیں۔ سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی ، دونوں طرف کی سیاسی رام لیلا عروج پر رہی۔
بہوجن سماج پارٹی کے قومی سکریٹری سوامی پرساد موریہ نے مایاوتی پر ٹکٹ بیچنے کا سنگین الزام لگاتے ہوئے 22 جون کو پارٹی سے استعفیٰ دے دیا۔ موریہ نے کہا کہ مایاوتی کے اندر پیسے کی ہوس پیدا ہو گئی ہے۔ اسمبلی احاطے میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے موریہ نے مایاوتی پر سخت حملہ کیا۔ موریہ نے کہا کہ منووادی نظام میںچوتھے پائیدان پر رہنے والے دلتوں کی ترقی کے لیے کانشی رام نے بی ایس پی بنائی تھی۔ اس پارٹی نے جس کی جتنی سنکھیہ (تعداد)بھاری، اس کی اتنی حصہ داری کی اصل روح سے کام کرتے ہوئے سماج میںایک مقام بنایا اور دلت آندولن کو رفتار دی، لیکن مایاوتی دولت کے لالچ اور منووادیوں کے موہ میںپھنس کر کانشی رام کے سپنوں کا سودا کررہی ہیں۔ موریہ نے کہا ، اس لیے میںنے خط لکھ کر مایاوتی کو اپنا استعفیٰ بھیج دیا ہے۔ موریہ نے بی ایس پی کارکنوں کو نظر انداز کرنے اور انھیں دلت مہاپروشوں سے متعلق پروگراموں میںجانے سے روکنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ مجھے خیالات رکھنے سے روکا گیا۔ خیالات کی آزادی چھیننے کی کوشش ہوئی۔ ایسے میںپارٹی میں گھٹن ہورہی تھی۔ استعفیٰ دے کر اب ہلکا محسوس کررہا ہوں۔ موریہ نے یہ بھی کہا کہ میں ایم ایل اے رہوں گا یا نہیں، یہ پڈرونا کے عوام کو طے کرنے کا حق ہے۔ مایاوتی یہ نہیںطے کریں گی۔ موریہ نے مایاوتی پر بھارتیہ جنتا پارٹی کی مدد کرنے کاالزام لگایا اورکہا کہ میںدلتوںاور پچھڑوں کے مفادات کے لیے کام کرتارہوں گا۔ سوامی پرساد موریہ نے کہا کہ مایاوتی دلت کی نہیں، دولت کی بیٹی ہیں۔ وہ آئندہ انتخاب کے لیے ٹکٹ بیچ رہی ہیں۔ یہ محترم کانشی رام اور بابا صاحب امبیڈکر کی بے عزتی ہے۔ بی ایس پی نیلامی کا بازار بن گئی ہے۔مایاوتی نے امبیڈکر کے خیالات کا قتل کیا ہے۔بی ایس پی کے کارکن مایوس ہیں، اس پارٹی میں دلتوں کے لیے جگہ نہیںرہ گئی ہے۔ موریہ نے کہا کہ بابا صاحب کے سپنوں کو مایاوتی نے برباد کردیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ سوامی پرساد موریہ کی پوروانچل میں بی ایس پی کے بڑے لیڈر کے طور پر پہچان رہی ہے۔ 2009 میںپڈرونا اسمبلی کے لیے ہوئے ایک ضمنی انتخاب میں اس دور کی وزیر اعلیٰ مایاوتی نے موریہ کو پارٹی کو امیدوار بنایا تھا۔ اس انتخاب میں موریہ نے مرکزی وزیر آر پی این سنگھ کی ماں کو ہرا کر سب کوچونکا دیا تھا ۔ اس جیت کے ساتھ موریہ نے 2009 کے لوک سبھا انتخاب میںکانگریس کے آر پی این سنگھ کے ہاتھوں ملی ہار کا بدلہ بھی لے لیا تھا۔
موریہ کے استعفے اور الزام کے جواب میںمایاوتی نے کہا کہ ہم موریہ کو خود ہی پارٹی سے نکالنے والے تھے۔ پارٹی چھوڑ کرموریہ نے بہوجن سماج پارٹی پر بڑا احسان کیا ہے۔ مایاوتی نے کہا کہ موریہ پہلے سے ملائم کے ساتھ تھے۔ موریہ کو کنبہ پروری کی لالچ ہے۔ میں نے موریہ کے بیٹے اور بیٹی کو بھی ٹکٹ دیا۔ لوک سبھا چناؤ میں بھی بیٹی کو ٹکٹ دیا تھا، لیکن ان میں کنبہ پروری کا موہ پارٹی کی ترجیحات پر حاوی ہو گیا تھا۔ مایا وتی نے کہا کہ میں نے اپنے بھائی بہن سبھی کو سیاست سے دور رکھا۔ کنبہ پروری کی مخالفت پارٹی کابنیادی خیال ہے۔ لیکن اس کے مختلف موریہ لگاتار اپنے خاندان کے لیے ٹکٹ کا مطالبہ کر رہے تھے۔ میں کنبہ پروری کی سخت مخالف ہوں۔ ٹکٹ بیچنے کے موریہ کے الزام کو مایاوتی نے پوری طرح خارج کر دیا اور کہا کہ بی ایس پی ملائم سنگھ یادو کی پارٹی نہیںہے جہاں پہلے خاندان کو ٹکٹ بانٹے جاتے ہیں، پارٹی کے اراکین کا نمبر بعد میں آتا ہے۔ پارٹی چھوڑ کر جانے والے لوگ یہی بولتے ہیں کہ مایا وتی دلت نہیں دولت کی بیٹی ہے، لیکن وہ صحیح وجہ نہیں بتاتے ہیں۔ پیسہ لے کر ٹکٹ بیچنے کے الزامات پر مایا وتی نے موریہ سے پوچھا کہ 2012میں انہوں نے اپنے بیٹے بیٹی کے ٹکٹ کے لیے کتنا پیسہ دیا تھا؟ سوامی پر ساد موریہ ایک طرف مایا وتی کے الزامات کا جواب بھی دیتے ہیں تو دوسری طرف بی جے پی کے ریاستی صدر کے بھی موریہ برادری کا ہونے کے تئیںاپنے خدشات ظاہر کر دیتے ہیں ۔ موریہ نے کہا کہ وہ کنبہ پروری کے سخت خلاف ہیں، اس کے ساتھ ہی بی جے پی کے ریاستی صدر کیشو پرساد موریہ کو بچہ بتانا بھی نہیں بھولتے۔
بی ایس پی کے خلاف بگل پھونکنے کا سلسلہ جاری
بہوجن سماج پارٹی میں تقریباً بغاوت کے حالات ہیں۔ صرف سوامی پرساد موریہ ہی کیوں، بی ایس پی چھوڑنے کا سلسلہ تو پہلے سے جاری ہے۔ ڈاکڑ اکھلیش داس گپتا، جگل کشور، فتح بہادر سنگھ، راجیش ترپاٹھی جیسے کئی نام ہیں، جو بی ایس پی کے خاص تھے ، لیکن انہیں پارٹی چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ ان میں سے تقریباً سبھوں نے مایا وتی پر سبھی نے یہی الزام عاید کیا کہ وہ پیسے لے کر لوک سبھا اور ودھان سبھا انتخاب کا ٹکٹ بانٹتی ہیں یا بڑی رقم لے کر کسی کو راجیہ سبھا کے لیے نامزد کرتی ہیں۔ ایس پی کی لہر میں بھی بی ایس پی چیلوپار جیسی سیٹ جیتنے والے رکن اسمبلی اور سابق وزیر راجیش ترپاٹھی کو بی ایس پی چھوڑنی پڑی۔ معلوم ہوا کہ مایا وتی راجیش کو ہی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here