سنجے سکسینہ
اترپردیش میں مختلف سیاسی پارٹیاں بھلے ہی اندرونی طور پر اپنی ہی پارٹی کے لیڈروں کی آپسی کھینچا تانی، گروہ بندی، آرام طلبی، داغی اور طاقتور لیڈروں کی کارگزاری اور مؤثر قیادت کی کمی جیسے تمام مسائل سے دوچار ہیں، لیکن ایشوز کی کمی کسی کے پاس نہیں ہے۔ بس فرق اتنا ہے کہ سب کے مدعے الگ الگ ہیں۔ بی جے پی بدعنوانی، مہنگائی؛ کانگریس ترقی اور سماجوادی پارٹی ذات کی بنیاد پر 2012 کا اسمبلی انتخاب لڑنا چاہتی ہے۔

کانگریس کی پوری کوشش ہے کہ اتر پردیش کا انتخاب بدعنوانی یا مہنگائی کے مدعے کی جگہ ترقی کے مدعے پر لڑا جائے، لیکن بی جے پی اُس کے اِس خواب کو فلیتہ لگائے ہوئے ہے، وہ لگاتار بدعنوانی اور مہنگائی کے مدعے کو ہوا دے رہی ہے۔ جس راہل کے سہارے کانگریس اتنا بڑا داؤ کھیلنا چاہتی ہے، اس کی اہلیت پر کچھ کانگریسیوں کو بھی پورا بھروسہ نہیں ہے۔

بی ایس پی کو پہلے کی طرح ہی ’سب کا بھلا ہو‘ (سرو جن ہتائے) کے فارمولے پر بھروسہ ہے، لیکن عموماً حزب اقتدار کے خلاف جو ناراضگی عوام کی رہتی ہے، وہ بی ایس پی پر بھاری پڑ سکتی ہے۔ اس ناراضگی کی وجہ سے 2-3 فیصد ووٹ بھی اِدھر اُدھر ہو گئے تو بی ایس پی کے لیے اقتدار بچانا آسان نہیں ہوگا۔ ویسے بی ایس پی سرکار سے عوام کی ناراضگی کی وجہ کم نہیں ہے۔ مایاوتی نے انتخاب سے پہلے غنڈوں کی چھاتی پر چڑھنے کی بات کہی تھی، اس لیے ملائم کے نام نہاد غنڈہ راج سے تنگ عوام نے انہیں سر آنکھوں پر بیٹھایا تھا، لیکن بی ایس پی سرکار کے کھانے کے دانت اور دکھانے کے دانت اور نکلے۔ مایاوتی کا اپنی پوری مدت کار کے دوران عوام سے کٹا رہنا ان کے اور ان کی پارٹی کے لیے بھاری پڑ سکتا ہے۔
بات بی جے پی سے شروع کی جائے تو بی جے پی کی اس دقت دسوں انگلیاں گھی میں لگ رہی ہیں۔ اوما بھارتی اور سنجے جوشی وغیرہ لیڈروں کی واپسی اتر پردیش میں رنگ دکھانے لگی ہے۔ گروہ بندی میں الجھے بی جے پی کے لیڈر اب ایک پلیٹ فارم پر نہ صرف دکھائی دینے لگے ہیں، بلکہ سرکار بنانے کی بھی بات کر رہے ہیں۔ بی جے پی کے پاس تو مدعوں کا پورا پٹارہ ہی ہے۔ وہ مرکزی اور صوبائی دونوں حکومتوں کو نشانے پر لیے ہوئے ہے۔ ایک طرف بدعنوانی اور مہنگائی کے خلاف بی جے پی محاذ کھولے ہوئی ہے تو دوسری طرف بی ایس پی – ایس پی اور کانگریس کو ایک ہی تھالی کا بینگن بتانے سے بھی پیچھے نہیں ہٹ رہی ہے۔ مرکزی حکومت کو ایس پی اور بی ایس پی دونوں کی ہی حمایت ملنا بی جے پی کے لیے فائدے کا سودا ثابت ہو رہا ہے۔ بی جے پی نے وزیر اعلیٰ کے اپنے امیدوار کے نام کا اعلان نہیں کیا ہے۔ اس پر پارٹی کے صوبائی صدر سوریہ پرتاپ شاہی صفائی دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ بی جے پی کسی ایک خاندان کی پارٹی نہیں ہے۔ یہاں جو بھی فیصلے ہوتے ہیں، وہ مل جل کر لیے جاتے ہیں۔ وہ بی جے پی کی روایت کو یاد دلانا نہیں بھولتے کہ 2007 کے اسمبلی انتخاب کے علاوہ بی جے پی نے کبھی بھی وزیر اعلیٰ کے عہدہ کے لیے اپنے امیدوار کا اعلان نہیں کیا۔ بی جے پی یہیں آکر نہیں رکی، وہ یہ بھی جانتی ہے کہ دلتوں اور پس ماندوں کو ساتھ لیے بغیر اقتدار کی سیڑھیاں چڑھنا مشکل ہے، اس لیے وہ پس ماندوں میں نہایت پس ماندہ اور دلتوں میں مہا دلتوں کی بات کرنے لگی ہے۔ ان کے لیے جلسے جلوس منعقد کیے جا رہے ہیں، یاترائیں نکالی جا رہی ہیں۔ بھاجپائی گاؤں گاؤں کا دورہ کر رہے ہیں۔
کانگریس کے لیے راہ آسان نہیں لگ رہی۔ سال بھر پہلے تک جو کانگریس کافی مضبوط حالت میں لگ رہی تھی، وہی پارٹی اس وقت اچانک بیٹ فٹ پر چلی گئی ہے۔ بدعنوانی اور مہنگائی ڈائن اسے کھائے جا رہی ہے۔ کانگریس کے یو راج راہل گاندھی تو جیسے چوپال لگانا ہی بھول گئے ہیں۔ کانگریس کی پوری کوشش ہے کہ اتر پردیش کا انتخاب بدعنوانی یا مہنگائی کے مدعے کی جگہ ترقی کے مدعے پر لڑا جائے، لیکن بی جے پی اُس کے اِس خواب کو فلیتہ لگائے ہوئے ہے، وہ لگاتار بدعنوانی اور مہنگائی کے مدعے کو ہوا دے رہی ہے۔ جس راہل کے سہارے کانگریس اتنا بڑا داؤ کھیلنا چاہتی ہے، اس کی اہلیت پر کچھ کانگریسیوں کو بھی پورا بھروسہ نہیں ہے۔ انہیں پتہ ہے کہ راہل کبھی نہ کبھی ایسا کچھ بول دیتے ہیں جس سے منھ چھپانے کی نوبت آ جاتی ہے۔ کانگریس کے لیے اچھی بات یہ ہے کہ اب کی بار اس کے یہاں بھی ٹکٹ مانگنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، لیکن اپنوں کو ٹکٹ دلانے کے کھیل میں کانگریسی ایک دوسرے کا سر پھوڑنے میں لگے ہوئے ہیں۔ کئی لیڈر تو ایسے بھی ہیں جو جیتنے کی حالت میں نہ ہونے کے باوجود راہل گاندھی سے قربت کا فائدہ اٹھا کر ٹکٹ حاصل کرنے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ جن لوک پال بل کا بھوت بھی اسمبلی چناؤ کے آس پاس ایک بار پھر سے کانگریس کے سامنے مشکل کھڑی کر سکتا ہے۔ انّا ہزارے کی ٹیم یہی مان کر چل رہی ہے کہ جن لوک پال بل پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس تک پاس ہو جائے گا۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو یہ لوگ پھر سڑک پر آ سکتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہوگا جب اتر پردیش میں انتخابی جنگ اپنے عروج پر ہوگی۔
اُدھر، خود کو بی ایس پی کا متبادل بتانے والی سماجوادی پارٹی کی نظر بھی ہدف پر لگی ہوئی ہے، لیکن دمدار لیڈروں کی کمی آڑے آ رہی ہے۔ امر سنگھ کے دور چلے جانے کے بعد بالی ووڈ کا تڑکا بھی ایس پی کی انتخابی ریلیوں میں نہیں لگ پائے گا۔ ایک اکیلے ملائم کے سہارے ایس پی کو اپنا بیڑا پار کرنا ہوگا۔ سماجوادی پارٹی کی تشویش یہیں ختم نہیں ہوئی ہے، اسے فکر انتخاب کے بعد گٹھ جوڑ کی بھی ستا رہی ہے۔ ایس پی کا آنکڑا اگر اکثریت سے کچھ کم رہے گا تو اسے کانگریس سمیت دیگر پارٹیوں کی طرف دیکھنا ہوگا۔ مرکز میں منموہن سرکار کو حمایت دینے کے سبب بھی سماجوادی پارٹی، کانگریس کے خلاف تیور سخت نہیں کر پا رہی ہے۔ دوسرے، وہ تیور سخت کرتی بھی ہے تو عوام اسے سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ اسے پتہ ہے کہ الیکشن کے بعد اقتدار حاصل کرنے کے لیے ایس پی – کانگریس سے ہاتھ ملانے میں ذرا بھی پرہیز نہیں کرے گی۔ یہی وجہ ہے کہ سماجوادی پارٹی عوام کو مہنگائی اور بدعنوانی کے تئیں بیدار کرنے کی بجائے ذات پات کے کھیل میں زیادہ الجھائے رکھنا چاہتی ہے، خاص کر ایم – وائی (مسلم – یادو) اتحاد کو مضبوط کرنے کے لیے سماجوادی پارٹی میں ساری ترکیبیں آزمائی جا رہی ہیں۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ آج کی تاریخ میں ملائم کے پاس اعظم خاں کے علاوہ ایسا کوئی بھی مسلم لیڈر نہیں ہے جس کے پیچھے مسلمان اعتماد کے ساتھ کھڑا ہو سکے۔ کلیان کی وجہ سے مسلمانوں کا اعتماد کھو چکے ملائم کے لیے اعظم کیا کچھ کر پائیں گے، یہ آنے والا وقت بتائے گا۔ ویسے سماجوادی پارٹی میں ہی ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جنہیں اعظم سے کسی کرشمے کی امید نہ کے برابر ہے۔ رہی سہی کسر پیس پارٹی پوری کر سکتی ہے۔ کہا یہ بھی جا رہا ہے کہ ریاست کے اقتدار پر قابض ہونے کی کوششوں کے درمیان ملائم کے سیاسی کریئر کا یہ آخری الیکشن ہوگا؟ 2012 کے بعد ہونے والے انتخاب (پانچ سال تک اگلی سرکار چلی تو 2017 میں ہوں گے اسمبلی انتخاب) تک ملائم پر بڑھتی عمر کا اثر حاوی ہو چکا ہوگا۔ ریٹائر ہونے کے قریب آ پہنچے ملائم کی دلی تمنا ہے کہ وہ کسی طرح اپنے بیٹے اکھلیش سنگھ یادو کو اپنے پیروں پر کھڑا کر دیں۔ اکھلیش کا کرانتی رتھ پر سوار ہو کر پورے صوبے میں دورہ کرنا اسی کا حصہ ہے۔ ملائم چاہتے ہیں کہ کانونٹ میں پڑھے لکھے اکھلیش گاؤں گاؤں اور شہر شہر جاکر عوام کی نبض کو پہچان کر اپنی سیاسی سوجھ بوجھ کو پختہ کریں۔ ایس پی سپریمو جانتے ہیں کہ 2007 کے بعد سے  سماجوادی پارٹی میں کافی کچھ بدل گیا ہے۔ کئی قد آور لیڈر پارٹی چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ اب پارٹی میں ایک دو کو چھوڑ کر ایسا کوئی لیڈر نہیں بچا ہے، جو ملائم کی غیر موجودگی میں اکھلیش کو صحیح راستہ دکھا پائے۔ اسی لیے اکھلیش کے لیے ملائم زیادہ وقت دے رہے ہیں۔ کرانتی رتھ پر گھوم رہے اکھلیش کو ملائم سے لگاتار فیڈ بیک مل رہا ہے۔ بی ایس پی اپنی چولیں کسنے میں لگی ہوئی ہے۔ اپنے پسندیدہ افسروں کی اہم عہدوں پر تعیناتی اور داغیوں کو باہر کا راستہ دکھائے جانے کی مہم اسی کا حصہ ہے۔ پوروانچل – ہرت پردیش اور بندیل کھنڈ کو الگ ریاست بنائے جانے کی وکالت کرکے مایا اپنا دائرہ وسیع کرنا چاہتی ہیں۔ اگر اُن کا یہ فارمولہ ہٹ رہا تو ٹھیک ویسا ہی کرشمہ ہو سکتا ہے، جیسا 2007 کے اسمبلی انتخاب میں ’سرو جَن ہتائے‘ کے نام پر ہوا تھا، لیکن برسر اقتدار پارٹی کے خلاف چلنے والی ہوا اسے نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔ برہمنوں اور کشتریوں کا بی ایس پی سے بھرم ٹوٹنا اچھی اچھا اشارہ نہیں ہے۔ اس کی بھائی چارہ کمیٹیاں ناکارہ ہو چکی ہیں۔ انتخاب کی آہٹ نے مایا کو مذہبی طور پر عقیدت مند بنا دیا ہے۔ وہ مہورت دیکھ کر کام کرنے لگی ہیں۔ پتر پکش کے دوران انہوں نے کوئی نیا کام نہیں کیا اور پتر پکش ختم ہوتے ہی نوراتر کے پہلے دن مایاوتی ضلعوں کے دورے پر نکل گئیں۔ سب سے پہلے انہوں نے مغربی اترپردیش کا دورہ کیا۔ دراصل، یہ دورہ بی ایس پی کی انتخابی مہم کا آغاز ہے۔ انتخابی مہم کی شروعات کے لیے انہوں نے مغربی اتر پردیش کو اگر منتخب کیا تو اس کی وجہ بھی ہے۔ 2007 کے اسمبلی انتخاب میں یہیں سے بی ایس پی کو سبقت حاصل ہوئی تھی، جسے وہ قائم رکھنا چاہتی ہیں۔
مغربی اتر پردیش میں ساٹھ فیصد اسمبلی حلقوں پر بی ایس پی کا پرچم لہرا رہا ہے۔ گوتم بدھ نگر اور بجنور جیسے کئی ضلعے ایسے بھی ہیں، جہاں پچھلی بار اپوزیشن کا کھاتا نہیں کھل سکا تھا۔ مایا یہاں پھر یہی تاریخ دہرانا چاہتی ہیں۔ مغربی اترپردیش کے ضلعوں کے سیاسی ماحول کو بی ایس پی والے آج بھی اپنے لیے اس لیے معقول مانتے ہیں، کیوں کہ یہاں بی جے پی کو چھوڑ کر دیگر سیاسی پارٹیوں کی حالت بہتر نہیں مانی جاتی ہے۔ آپسی جھگڑوں میں الجھی سماجوادی پارٹی کے علاوہ کانگریس کی کارکردگی اسمبلی انتخاب میں ہی نہیں، بلکہ 2009 کے لوک سبھا انتخاب میں بھی خراب رہی تھی۔ کانگریس اور ایس پی کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے بی ایس پی مغربی اتر پردیش کے مسلم اور بی جے پی مخالف ووٹوں پر نظر جمائے ہوئی ہے۔ یو پی میں پانچویں نمبر کی پارٹی راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی)، جس کا دائرہ مغربی اتر پردیش تک ہی محدود ہے، کسی بھی سیاسی پارٹی سے تعاون نہ مل پانے کے سبب خود کو محفوظ محسوس نہیں کر رہا ہے۔ مایا نے مغربی اتر پردیش کو لبھانے کے لیے ہی 2007 کے اسمبلی انتخاب میں شاملی اور ہاپوڑ کو ضلع بنانے کا وعدہ پورا کیا۔ شاملی کو ضلع بنانا آر ایل ڈی کی پریشانی کا سبب بنے گا تو چندوسی والوں کی مخالفت کی پرواہ کیے بنا بدایوں کے گنور کو جوڑ کر سنبھل کو الگ ضلع بناکر وزیر اعلیٰ نے سماجوادی پارٹی کے لیے نئی مشکل پیدا کردی۔ ضلعوں کی تشکیل کا اعلان کرتے ہوئے مایاوتی نے چھوٹے صوبوں کی تشکیل کی پیروکاری کر آر ایل ڈی چیف اجیت سنگھ کو ان کے ہی گڑھ میں چنوتی دی ہے۔    g

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here