یو پی کانگریس کے نئے صدر کی راہ آسان نہیں

Share Article

اجے کمار
اتر پردیش میں کانگریس کا کوئی بھی تجربہ کامیاب نہیں ہو پا رہا ہے۔ دو دہائی سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے، لیکن کانگریس ایک بار ڈوبی تو پھر آج تک ابھر نہیں پائی ہے۔ اس دوران سونیا گاندھی، راہل گاندھی، پرینکا وڈیرا سبھی نے ایڑی چوٹی کا زور لگا لیا، صوبے کی کرسی پر کئی صدر بیٹھے، سب نے بڑے بڑے دعوے کیے، لیکن زمینی حقیقت کوئی بھی بدل نہیں پایا۔ 2009 کے لوک سبھا انتخاب میں کانگریس کی حالت میں تھوڑی بہتری دیکھنے کو ملی تھی، جس کے بعد کانگریس میں تھوڑا جوش کا ماحول بھی بنا تھا۔ اسی جیت کی بنیاد پر کانگریس 2012 کے اسمبلی الیکشن میں بڑی کامیابی کا خواب دیکھنے لگی اور خود کو صوبے میں بی ایس پی حکومت کا متبادل بتانے لگی۔ چناؤ پرچار کے دوران راہل گاندھی نے ایسا سماں باندھا کہ چھوٹے بڑے سبھی کانگریسی اتر پردیش میں ملی جلی ہی سہی، حکومت بنانے یا اس میں حصہ دار ہونے کی بات کرنے لگے، لیکن نتیجے سامنے آئے تو کانگریسی بغلیں جھانکنے لگے۔ راہل گاندھی نے شکست کی ذمہ داری اپنے سر لے لی، لیکن اس ہار نے کانگریس کے یوراج کی قابلیت پر ہی سوال کھڑے کر دیے۔ بعض لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ اس بحث نے راہل کے 2014 میں وزیر اعظم بننے کے خواب پر بھی گرہن لگا دیا ہے۔ اتر پردیش اسمبلی الیکشن میں ملی شکست نے راہل گاندھی کو اتنا توڑ دیا کہ انہوں نے یو پی کی طرف سے منھ ہی موڑ لیا۔ اس کے بعد یو پی کانگریس کی صدر ریتا بہوگنا جوشی نے بھی استعفیٰ دے دیا۔ ایسے میں لوک سبھا چناؤ کی ذمہ داری کس کو سونپی جائے، یہ ایک بڑا سوال بن گیا، کیوں کہ کوئی بھی بڑا کانگریسی یہ ذمہ داری اپنے کندھوں پر لینے کو تیار نہیں تھا۔ گزشتہ دو ڈھائی دہائیوں میں کانگریس کے جو قد آور لیڈر یو پی کانگریس کے صدر کی کرسی کی شان بڑھا چکے ہیں، اس میں مہاویر پرساد سے لے کر نارائن دت تیواری، بلرام سنگھ یادو، کنور جتیندر پرساد، دو بار سلمان خورشید، شری پرکاش جیسوال، ارون کمار سنگھ مُنا، جگدمبیکا پال تک شامل تھے، لیکن کوئی کچھ نہیں کر پایا۔ ایسے میں نئے صوبائی صدر نرمل کھتری سے بھی کرشمہ کی امید کرنا بے ایمانی ہوگا، کیوں کہ یقینی طور پر نرمل کا قد مذکورہ بالا صدور سے کم ہی ہے۔ نرمل کی تقرری میں راہل گاندھی کا اہم رول بتایا جا رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ راہل نے ہی اتر پردیش لوک سبھا الیکشن کے لیے نو رتنوں کی ٹیم بنائی ہے۔ نرمل نے میڈیا سے روبرو ہوتے ہوئے اس بات کے بھی اشارے دے دیے ہیں کہ راہل نے جو ذمہ داری انہیں سونپی ہے، وہ اسے پوری طرح نبھائیں گے۔ نرمل نے سب سے پہلا کام یہ کیا ہے کہ انہوں نے اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں کے پتلے نذرِ آتش کرنے پر روک لگا دی ہے، اس کے علاوہ کانگریس میں ژونل نظام بھی نافذ کر دیا ہے، جس کے مطابق صوبے کو آٹھ ژونوں میں بانٹ کر سب میں الگ الگ صدر مقرر کیے گئے ہیں۔ ژونل صدر کے عہدے پر جن لیڈروں کو بیٹھایا گیا ہے، ان میں رشید مسعود، رکن پارلیمنٹ پی ایل پُنیا، ایم ایل اے وِویک سنگھ، ایم پی راجا رام، سابق ایم پی چودھری بجندر سنگھ اور ایم ایل اے انوگرہ نارائن سنگھ شامل ہیں۔ یہ سبھی ژونل صدور نرمل کھتری کے ماتحت کام کریں گے۔ اتر پردیش کانگریس کا یہ نیا تجربہ ہے۔ ایس سی، پس ماندہ طبقہ، کشتریہ، برہمن، مسلمان سمیت سبھی ذاتوں کے لیڈروں کو ژونل صدر بنا کر ووٹ بینک جمع کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان سبھی کو ’نو رتن‘ کہہ کر پکا را جا رہا ہے۔ ہر ایک ژونل صدر کو دس لوک سبھا سیٹوں کی ذمہ داری سونپی جائے گی اور انہیں تنظیم کی مضبوطی کے ساتھ ہی امیدواروں کو منتخب کرنے کا بھی اختیار دیا جائے گا۔ جو لوگ پہلے کانگریس سے دور چلے گئے تھے، انہیں ژونل صدر بناکر ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ دوسری طرف سلمان خورشید، شری پرکاش جیسوال، پردیپ آدتیہ جین، ریتا بہوگنا جوشی، بینی پرساد ورما، پرمود تیواری جیسے قد آور لیڈروں کی ابھی کوئی ذمہ داری طے نہیں کی گئی ہے۔ ژونل صدر سیدھے راہل گاندھی اور نرمل کھتری کو رپورٹ کریں گے۔
بات نرمل کھتری کی کی جائے تو ان کی سب سے بڑی طاقت کارکنوں میں ان کی مقبولیت ہے۔ وہیں اگر بات ان کی کمزوری کی کی جائے تو گزشتہ چند برسوں میں عوام کے درمیان ان کی پہچان سمٹ گئی ہے۔ بے داغ چہرہ ہونا ان کے لیے پلس پوائنٹ ہے تو اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ نرمل نے ایسے وقت میں کانگریس کی باگ ڈور سنبھالی ہے، جب کہ کانگریس میں مایوسی کا دور چل رہا ہے۔ انہیں کانگریس کو عوام کے درمیان قابل قبول بنانا ہوگا اور ساتھ ہی پارٹی میں جاری گروہ بندی کو بھی ختم کرنا ہوگا۔ اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ سیدھے سادے نرمل کھتری کے لیے آگے کا راستہ آسان نہیں ہے۔ صوبے میں ان سے بڑے کئی لیڈر موجود ہیں، مرکزی حکومت میں بھی اتر پردیش کے کئی وزیر ہیں جو خود کو کسی سے کم نہیں سمجھتے ہیں اور وقت وقت پر صوبے کی سیاست میں دخل اندازی کرتے رہتے ہیں۔ گروہ بندی کا تو یہ عالم ہے کہ جتنے لیڈر ہیں اتنے ہی گروہ بن چکے ہیں۔ بات نرمل کو منتخب کرنے کی کی جائے تو صوبائی کانگریس کے صدر کے لیے ان کے نام پر آخری مہر لگانے کا فیصلہ چونکا نے والا تھا، کیوں کہ امید اس بات کی کی جا رہی تھی کہ کسی برہمن کو ہی دوبارہ صوبائی کانگریس کی باگ ڈور سونپی جائے گی، کیوں کہ نرمل کھتری کا نام صوبائی صدر کی دوڑ میں سب سے پیچھے چل رہا تھا۔ صوبائی صدر کے عہدہ کے لیے پہلی پسند مرکزی وزیر برائے ٹرانسپورٹ جتن پرساد کو مانا جا رہا تھا اور وہ اس دوڑ میں سب سے آگے چل رہے تھے، لیکن اترپردیش کانگریس کا حال دیکھ کر وہ ہمت نہیں جٹا پائے۔ اسی درمیان بات کسی اقلیتی لیڈر کو ذمہ داری سونپنے کی چلی تو مرکزی وزیر قانون سلمان خورشید کو چھوڑ کر کانگریس میں کوئی ایسا لیڈر نظر نہیں آیا جو اس ذمہ داری کو سنبھال سکے۔ سلمان خورشید کے نام پر اتفاق اس لیے نہیں ہو پایا، کیوں کہ وہ گزشتہ اسمبلی الیکشن میں اپنی بیوی تک کو جیت دلانے میں ناکام رہے تھے۔
بہرحال، اتر پردیش کانگریس صدر کا عہدہ سنبھالتے ہی نرمل کو کھٹے میٹھے دونوں ہی طرح کے تجربوں سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے۔ ایک طرف ان کا پرجوش خیر مقدم کیا گیا تو دوسری طرف استقبالیہ تقریب میں بینی پرساد ورما اور آر پی این سنگھ جیسے لیڈروں کی غیر موجودگی نے سوال بھی کھڑے کر دیے، حالانکہ آئے تو دگ وجے سنگھ بھی نہیں تھے، لیکن اس کے پیچھے ان کے گھریلو اسباب تھے۔ کچھ لیڈر اس تقریب سے غائب رہے، تو کچھ کو دیکھنا کارکنوں کو ناگوار بھی گزرا، مثال کے طور پر یو پی کانگریس کے سابق صدر اور موجودہ مرکزی وزیر سلمان خورشید جیسے ہی اسٹیج پر آئے، کارکنوں کا ایک گروپ سلمان واپس جاؤ کا نعرہ لگانے لگا۔ کسی طرح سینئر لیڈروں نے معاملہ سنبھالا، تبھی پرمود تیواری اور ریتا بہوگنا جوشی کے حامی آپس میں بھڑ گئے، جو اچھی علامت نہیں ہے۔ اسمبلی الیکشن کے دوران بھی لیڈروں کے درمیان ایسی ہی گروہ بندی دیکھنے کو ملی تھی، جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ کانگریس ہار گئی، لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس کے لیڈروں نے اس سے کوئی سبق نہ لینے کی قسم کھا رکھی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو نرمل کو پہلے ہی دن ہیڈ ماسٹر کی طرح کانگریسیوں کی کلاس نہیں لگانی پڑتی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *