سلمان  عبدالصمد
ریاست اترپردیش میں 2012 میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لیے تقریباً200 پارٹیاں طبع آزمائی کرنے جارہی ہیں۔ ریاستی چیف الیکشن کمشنر امیش سنہا کے مطابق موجودہ انتخابات میں 178 رجسٹر ڈ جماعتیںقسمت آزمائی کے لیے تیار ہیں۔ 1969 کے اسمبلی انتخابات میں کل 17 رجسٹرڈ جماعتیں تھیں۔ 1974 میں 16، 1977 اور 1980 میں سات سات، 1985 میں صرف 2، 1989 میں 26، 1991 میں 23، 1993 میں 25، 1996میں 23، 2002 میں 75 اور 2007 میں 112 پارٹیوں نے سیاسی گلیاروں کے اسٹیج پر جلوے بکھیرے تھے۔ تمام گزشتہ انتخابات سے قطع نظر 2007 کی رجسٹرڈ نمایاں پارٹیاں کچھ اس طرح ہیں : امبیڈکرانقلاب پارٹی، آدرش لوک دل، آل انڈیا مائنارٹیز فرنٹ، بھارتی شہر ی پارٹی، بم پارٹی، جن ستا پارٹی، ماڈر یٹ پارٹی اورترقی پارٹی وغیرہ، جب کہ جمہوری کانگریس، بھارتیہ جن شکتی پارٹی، جن مورچہ، خودداری پارٹی اور اترپردیش یونائٹیڈ ڈیمو کریٹک فرنٹ کو ایک ایک نشست پرکامیابی ملی تھی۔ تاہم گزشتہ انتخابات کے برخلاف یوں تو سب سے زیادہ پارٹیاں اس مرتبہ ہی ہیں، مزید ان کے سربراہان بھی چند قابل ذکر افراد ہیں۔ بندیل کھنڈ میں بندیل کھنڈ کانگریس کے فلمی اداکارہ راجہ بندیلا، مشرقی اترپریش میں سماجی کارکن جٹا شنکر سوراج، ڈاکٹر سنجے چوہان جنوادی، مختار انصاری کے بڑے بھائی اور سابق ممبر پارلیمنٹ افضل انصاری قومی اتحاد پارٹی اور ذاتی راج کتاب تصنیف کرکے ہنگامی ماحول بنانے والے نوکرشاہ لکشمی کانت شکلا میدھا پارٹی سے اس بار انتخابی میدان میں طالع آزمائی کرنے جارہے ہیں۔ سابق وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ کی جن کرانتی پارٹی، ممبر پارلیمنٹ امر سنگھ کی لوک منچ اورلوک سبھا میں طاقت دکھانے والے ڈاکٹر ایوب کی پیس پارٹی کے علاوہ راشٹریہ پیس پارٹی اور راشٹریہ علماء کونسل بھی سامنے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ سیاسی جماعتوں کا اضافہ ووٹوں کے انتشار کا سبب ہے ، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ پارٹیوں کی کثرت جہاں بہت سی جماعتوں کے لیے باعث تشویش ہے، وہیں بے شمار کے لیے نیک شگون بھی، کیونکہ ایک حلقہ میں متعدد پارٹیوں کے امیدوار قسمت آزمائی کریں گے تو ووٹوں کی بندر بانٹ ہوگی، اس بندربانٹ سے انتخابی نتائج بھی غیر متوقع آئیں گے۔ بسااوقات قدآور لیڈروں کی کامیابی کا ستارہ غروب ہوجائے گا، یعنی ’گردش میں کتے بھی گھیر لیتے ہیں شیرکو‘۔ یہ تمام حقائق اپنی جگہ مگر مسلم پارٹیوں کی کثرت سب سے زیادہ مسلمانوں کے لیے باعث تشویش ہے، ہر پارٹی کی نگاہ مسلم ووٹ بینک پر ہوتی ہے، چنانچہ مسلم ووٹرس کو لبھانے کے لیے مسلم امیدواروں کو اتارنا ہی پڑے گا۔ ایک ہی حلقہ سے متعدد مسلم امیدوار طبع آزمائی کریں گے، اس وقت پارٹی سے زیادہ ’’خاندان ‘‘کا پتہ چلے گا، اس طرح مسلمان پارٹی بھنور سے نکل کر ’’خاندانی‘‘ سمندر میں ہچکولے کھانے لگیں گے۔ ایسی صورتحال میں کوئی مسلمان کامیاب ہونے سے رہا۔ پارٹی اورمسلم امیدواروں کی کثرت سے مسلمانوں کا نقصان اس لیے بھی ہوگا کہ پارٹی کے نظماء و صدور کی آمد ورفت مسلم مذہبی لیڈران کے ’’غریب خانوں ‘‘پر تیز ترہوجائے گی، وہ ان سے مستقبل کے تئیں مراعات کے حوالہ سے گفتگو کریں گے، مسلم مسائل حل کے جال میں انہیں پھانس کر اپنی حمایت کے لیے راضی کریں گے، بعید از امکان نہیں کہ وہ بھی ان کے دام فریب میں پھنس کر مسلمانوں کی رہنمائی غلط سمت کر بیٹھیں۔ مادیت اورفریب کے ا س دور میں بھی مسلم مذہبی لیڈران کا اپنا اپنا پر اعتماد حلقہ ہے ، ان کی باتوں پر لبیک کہنے والے مسلم معاشرہ میں لاتعداد ہیں ۔
راقم کو یہ کہنے میں ذرا بھی باک نہیں کہ بیشتر مسلم مذہبی لیڈران ہی مسلمانوںکی سیاسی زبوں حالی کے ذمہ دار ہیں، سیاسی پارٹیوں سے ان کا خفیہ رابطہ مسلم ووٹوں کے انتشار کا سبب ہے، پارلیمنٹ اورریاست میں مسلمانوں کی گھٹتی شرح نمائندگی ان کی ہی ناعاقبت اندیشی کی دلیل ہے۔ اس موقع سے پارلیمنٹ اور صرف دو ریاست یوپی اور بہار کی مسلم نمائندگی کے تناسب کا تذکرہ کرنا خارج از موضو ع نہیں ہوگا ۔
آزادی کے بعد سب سے پہلے الیکشن میں کل 17مسلمان ہی پارلیمنٹ پہنچنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ 1957میں31،1962میں 20، 1967میں 28، 1971میں 25، 1977میں 30،1980میں 46، 1984میں سب سے زیادہ47، 1989میں 31، 1991میں 20، 1996میں 24، 1998میں 28،1999میں 31اور 2009میں کل 29مسلمانوں کو ہی پارلیمنٹ پہنچنے میں کامیابی مل سکی ۔ اسی طرح ریاست بہار کی مسلم نمائندگی کی بات کریں تو وہ بھی مایوس کن ہے ۔ 1952میں7.2، 1957میں7.84فیصد مسلمانوں کی نمائندگی کا تناسب رہا ، یعنی اول الذکر میں 24اورمؤخرالذکر الیکشن میں 25سیٹیں انہیں ملیں۔ 1967میں سب سے کم 5.66اور 1969 میں 5.97، 1972میں 7.72ان کی نمائندگی رہے ۔ 1980میں ذاربہتری آئی کہ 28سیٹوں کے ساتھ یہ فیصد8.89تک پہنچا۔ 1985میں ان کی سب سے زیادہ نمائندگی 34نشستوں کے ساتھ 10.50رہی ، مگر یہ واضح ہوکہ اس وقت جھارکھنڈ الگ نہیں ہواتھا ، لیکن 1990میں پھر اتنی کمی آئی کہ سمٹ کر20سیٹوں کے 6.19، 1995میں وہی حالت نازک کہ 19نشستوں کے ساتھ 5.88کافیصدرہا ، جہاں تک 2002کا تعلق ہے تو اس میں فیصدی تناسب 9.87اور2005میں پھر کمی آئی کہ 16نشستوں پر مسلمان قابض ہوئے جو کہ 6.58کا تناسب ہے ۔ 2010کی بات کی جائے تو اس میں 22سیٹیں مسلمانوں کو ملیں، جس کا فیصدی تباسب 9.5ہے۔
ہندوستان کی مسلم آبادی 13سے لے کر 15فیصد ہے ، اگر اس کی نمائندگی آبادی کے لحاظ سے ہوتو کم از کم کوئی 80-90ارکان پارلیمنٹ ہوں گے ۔ اگر بہار کی بات کی جائے تووہاں مسلم آبادی 17فیصد ہے ، اس لحاظ سے وہاں کی اسمبلی میں 45ممبران ہونے چاہئیں ، مگر وہاں ہمیشہ ان کی نمائند گی کی شرح اکثر 7فیصد ہوتی ہے اور ایک مرتبہ بڑھ کر 10 فیصد بھی ہوئی ہے۔ یہی صوتحال اراکین پارلیمنٹ کا بھی ہے ۔
جہاں تک یوپی کی مسلم آبادی کے لحاظ سے اسمبلی میںان کی نمائندگی کے تناسب کا تعلق ہے تو وہ بھی انتہائی مایوس کن ہے۔ یہاں مسلمانوں کی تعداد 3کروڑ 7لاکھ 40ہزار 158ہے ، جو اترپردیش کی کل آبادی کا 18.5فیصدی حصہ ہے ۔ گزشتہ تمام انتخابات سے قطع نظر 2007کی ہی بات کریں تو مسلم ایم ایل اے کی کل تعداد 56رہی جو کہ کل سیٹوں کا 13.89فیصد حصہ ہوتی ہے ، حالانکہ آبادی کے اعتبار سے کوئی 80ایم ایل اے مسلم ہونے چاہئیں ۔ یہ بھی واضح ہوکہ 42مسلم امیدوار ایسے تھے جو معمولی فرق سے ودھان سبھا پہنچنے سے قاصر رہے۔
سوال یہ ہوتا ہے کہ آخر آبادی کے لحاظ سے مسلمانوں کی نمائندگی کیوں نہیں ہوپاتی ہے؟ اس کا واضح اور واحد جواب ہے عمومی مسلم لیڈران کی ناعاقبت اندیشی و اناپسندی اور مذہبی لیڈاران کی انتشار پسندی ۔ ان ہی دونوں کی کوتاہی کے نتیجہ میں مسلم نمائندگی باعث تشویش ہے ۔ ایک سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ آخر دیگر مذاہب کے رہنماؤں سے زیادہ مسلم مذہبی رہنما اربابِ سیاست کی نظر میں کیوں محبوب ہوتے ہیں ؟ زمانہ ٔ الیکشن میں ان کے غریب خانوں کا چکر لگانا انہیں کیوں بہت اچھالگتا ہے ؟ مسلم مذہبی لیڈران کے علاوہ رفاہی تنظیم کے نظماء وصدور یعنی خود ساختہ قائد بھی زمانہ ٔ الیکشن میں مسلم ووٹوں کے سودا گر بن جاتے ہیں اور بغرض ذاتی مفاد ہر ایرے غیرے پارٹی سے تعلقات نبھانے لگ جاتے ہیں، ان کی ثناخوانی میں منہمک ہوجاتے ہیں، اس طرح مسلم ووٹرس ان کی جانب بڑھنے لگتے ہیں ۔ یہ افراد تو زمانہ ٔ انتخاب میں مسلم ووٹوں کے دشمن ہوتے ہیں مگر انتخاب کے بعد مسلم ممبران پارلیمنٹ و اسمبلی مسلمانو ں کے ووٹوں کا کچھ بھی پا س و لحاظ نہیں رکھتے ، انہیں صرف پارٹی سے ہی سروکار ہوتا ہے ، مسلم مسائل سے نہیں ، مگر زمانہ ٔ الیکشن میں انہیں مسائل کو ایشو بنا کر ووٹ بٹورتے ہیں ۔
مذہبی رہنماؤں کے دلوں میں بھی سیاست اپنی نیرنگیاں جلوے بکھیر تی رہتی ہیں، مگر شفافیت سے دورسیاست میں قدم رنجہ فرمائیں تو کیسے؟ سیاست جو آج بدعنوانیوں کی آماجگاہ ہے، کا ٹھپہ کیوں لگوا کر عوام کے سامنے اپنے تقدس کو پامال کریں، لہٰذا پارٹیوں سے خفیہ سانٹھ گانٹھ کرکے اپنی سیاسی پیاس بجھاتے رہتے ہیں، دبے لفظوں میں مسلم ووٹرس کو ورغلا کر قیادت کا گلدستہ بھی حاصل کرتے ہیں اور پارٹیوں سے تحفے تحائف بھی ،’’ اندھے کو کیا چاہیے، بس دو آنکھ‘‘، ان کا یہی کردار مسلم نمائندگی کے لیے سم قاتل ہے۔جن جن مذہبی لیڈران کو سیاست کی دلفریباں اپنی طرف کھینچتی ہیں یا صحیح لفظوں میں سیاست میں آکر ملک وملت کی رہنمائی کرنااچھا لگتا ہے، وہ بڑے مزے سے سیاسی گلیاروں میں آکر قسمت آزمائی کریں، کھل کر سیاست کریں نہ کہ خفیہ مسلم ووٹوں پر چال بازی، بدعنوانیوں کو خاطر میں نہ لائیں ۔بعید ازامکان نہیں کہ بہ حالا ت مجبوری سیاست سے الگ رہنے والے مذہبی لیڈران کی نیک نیت سے آمد ’’شفافیت‘‘کا کوئی پیام لائے ۔ سیاست میں شفافیت پیدا کرنے کے لیے بڑے بڑے قوانین بنائے جاتے ہیںاور بے شمار تحریکیں سراٹھاتی ہیں، مگر تحریکیں مؤثر ہوتی ہیں اورنہ ہی قوانین ، چنانچہ اس صورتحال میں مذہبی لیڈران کاسیاست میں آنا ضروری لگتاہے، کیونکہ وہ اگر نیک نیت سے کھل کر سیاست کریں گے تو دوسرے سیاستداں بھی (اپنے اپنے مذہبی لیڈران کو دیکھ کر) کچھ سبق حاصل کریں گے، مگرشر ط ہے کریم رہنماؤں کا آنا۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ مذہبی لیڈران کی سچی سیاسی صلاحیت وقوت کا استعمال نہ ہونا بھی مسلمانوں کی سیاسی زبوں حالی کا سبب ہے ۔    g

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here