اناؤ عصمت دری معاملہسے متعلق ایک معاملے میں جمعرات کے روز دہلی کی تیس ہزاری کورٹ نے الزام طے کرنے کو لے کر فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے۔ یہ معاملہ متاثرہ کے والد کو آرمس ایکٹ کے جھوٹے کیس میں پھنسائے جانے سے متعلق ہے۔ اس معاملہ میں آج ڈسٹرکٹ اینڈ سیشس جج دھرمیش شرما کی عدالت نے سی بی آئی کی جانب سے دائر چارج شیٹ پر ملزمین، سی بی آئی اور متاثرہ کی طرف سے دلیلیں سننے کے بعد فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔
سماعت کے دوران سی بی آئی نے کہا کہ جانچ میں پایا گیا ہے کہ متاثرہ اور اس کے خاندان والوں نے واقعہ کی رپورٹ لکھوانی چاہی، لیکنملزم ممبر اسمبلی کے اثرورسوخ کی وجہ سے کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ انہوں نے ایف آئی آر درج کروانے کے لئے در در کی ٹھوکریں کھائیں، لیکن اس پر کارروائی تب کی گئی جب 7 اپریل 2018 کو متاثرہ نے وزیر اعلیٰ کی رہائش کے سامنے خودسوزی کی کوشش کی۔ 3 اپریل 2018 کو اس کے باپ کوملزم ممبر اسمبلی کے بھائی نے سرعام بری طرح پیٹا۔ سی بی آئی نے کہا کہ تحقیقات میں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ مقامی تھانے کی پولیس اور حکام نے اس کی شکایات پر کوئی غور نہیں کیا اور لاپرواہی برتی۔
گذشتہ7 اگست کو ملزم ممبر اسمبلی کے خلاف ریپ کے معاملے میں سی بی آئی کی جانب سے دائر چارج شیٹ پر دونوں فریق کی دلیلیں سنی گئیں۔ کورٹ نے چارج شیٹ پر آگے کی دلیلیں سننے کے لئے 9 اگست کی تاریخ مقرر کی ہے۔ کورٹ نے میڈیا کو ہدایت دی ہے کہ وہ متاثرین اور اس کے گھروالوں اور گواہوں کے ناموں کا انکشاف نہیں کریں۔
سماعت کے دوران سی بی آئی نے کہا تھا کہ ملزم پر ریپ کے الزام بالکل درست ہیں۔ سی بی آئی اور متاثرہ کی ماں کی جانب سے وکیل دھرمیندر کمار مشرا اور پونم کوشک نے کہا کہملزم کے خلاف پاکسو ایکٹ کے تحت الزامات طے ہونا چاہئے۔
گذشتہ 6 اگست کو عدالت نے سی بی آئی سے اناؤ ریپ کیس کے متاثرہ، اس کی دیکھ بھال کرنے والوں اور اس کے اہل خانہ کی حفاظت کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کی معلومات مانگی تھی۔ کورٹ نے متاثرہ کو دہلی منتقل کرنے کے بعد اس کے اہل خانہ کے قیام کے بارے میں بھی رپورٹ طلب کی تھی۔
گذشتہ 5 اگست کو عدالت نے ملزمکلدیپ سنگھ سینگر اور ششی سنگھ کو آج دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ کورٹ نے دونوں ملزمین کو تہاڑ جیل بھیجنے کا حکم دیا۔ قابل ذکر ہے کہ گزشتہ 5 اگست کو سپریم کورٹ نے متاثرہ اور اس وکیل کو لکھنؤ کے کے جی ایم سی سے دہلی ایئر لفٹ کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس کے بعد کل متاثرہ کو دہلی لایا گیا۔ گذشتہ3 اگست کو سی بی آئی نے اس معاملے میں تیس ہزاری کورٹ کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشس جج دھرمیش شرما کی کورٹ میں چارج شیٹ داخل کی تھی۔ اس سے پہلے یہ معاملہ یوپی میں چل رہا تھا۔ ایک اگست کو سپریم کورٹ نے اناؤ ریپ کیس سے منسلک تمام معاملات کو یوپی سے دہلی منتقلی کرنے کا حکم دیا تھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here