اس سے پہلے کلدیپ سنگھ کو بی جے پی نے معطل کیا تھا لیکن سڑک حادثہ کے واقعہ کے بعد بڑھے چوطرفہ دباؤ کو دیکھتے ہوئے پارٹی نے سینگر کو باہر کا راستہ دکھا دیا ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اناؤ ریپ کیس کے ملزم ممبر اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر کو پارٹی سے نکال دیا ہے۔ اس سے پہلے کلدیپ سنگھ کو بی جے پی نے معطل کیا تھا لیکن ریپ متاثرہ کے ساتھ ہوئے سڑک حادثہ کے بعد رکن اسمبلی سینگر کو پارٹی نے باہر کا راستہ دکھایا ہے۔


اناؤ آبروریزی متاثرہ کی چاچی کی آخری رسم بدھ کو شكلاگنج گنگاگھاٹ میں کیا گیا۔ متاثرہ کے چچا نے آگ دی۔ اس دوران ضلع انتظامیہ کے مکمل آملہ موجود رہا۔ اس کے علاوہ متاثرہ کا پورا خاندان گنگاگھاٹ پر موجود رہا۔ چتا میں آگ لگتے ہی پولیس نے چچا کو لے چلنے کا دباؤ بنایا۔ اس پر متاثرہ کے چچا ناراض ہوگئےاور پوری چتا جلنے کے بعد ہی جانے کی اجازت دی۔موقع پر بھاری قوت کے ساتھ پولیس اور انتظامی افسر بھی موجود تھے۔ پولیس نے گھاٹ پر آئے دوسرے لوگوں کو لاشوں کی آخری رسومات فی الحال روک رکھا تھا۔
متاثرہ کے چچا نے گھر والوں کو ہمت بندھائی اور کہا، “اس جنگ میں ہم مکمل مضبوطی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انصاف کی لڑائی میں پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ممبر اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر سمیت تمام کو سزا دلا کر ہی دم لیں گے۔
اناؤ آبروریزی متاثرہ کی سڑک حادثے کی تحقیقات کر رہی مرکزی تفتیشی بیورو کی ٹیم (سی بی آئی) نے رائے بریلی پہنچ کر تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ متاثرہ کی کار سے ٹکرانے والا ٹرک 70 سے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہا تھا، وہیں سوئفٹ ڈیزائر کار 100 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ کی رفتار سے چل رہی تھی۔حادثے میں متاثرہ کی چاچی اور خالہ کی موت ہو گئی تھی اور متاثرہ اور اس کا وکیل شدید زخمی ہو گئے تھے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here