اناؤ ریپ کیس میں عصمت دری کے ملزمان نے متاثرہ پر مٹی کا تیل چھڑک کر زندہ جلایا، حالت سنگین

Share Article

ا نائو عصمت دری کیس تو آپ کو یاد ہی ہوگا ۔جسمیں لڑکی کی بار بار عصمت دری کی گئی اور باپ کوبھی جیل میں ڈال کر مار ڈالا گیااب اس کیس کو دیکھئے۔انناو کے تھانہ بیسواڑہ بہار تھانہ کے ایک گاؤں میں رہتے ہوئے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکی پر پٹرول ڈال کر 6 نوجوانوں نے ذندہ جلادیا۔پولیس باپ کی اطلاع پر پہنچی اور متاثرہ بچی کو ضلعی اسپتال لایا گیا یہاں اس کی کی حالت دیکھ کر لکھنؤ ریفر کردیا گیا ہے۔ اس معاملے کی تحقیقات رائے بریلی پولیس نے کی تھی۔ کچھ ملزمان ضمانت پر جیل سے باہر آئے تھے جو عصمت دری کے ملزم تھے انھوں نے ہی اس لڑکی کو ذندہ جلادیا ۔ پولیس فی الحال تین ملزمان کو حراست میں لے کر ان سے پوچھ گچھ کررہی ہے۔

Image result for Unnao accused of rape in rape cases burned alive

کانگریس سمیت اپوزیشن پارٹیوں نے جمعرات کو راجیہ سبھا میں وقفہ صفر کے دوران اناو عصمت دری معاملے پر بحث کی اجازت نہ دئے جانے پر ہنگامہ کیا جس کے بعد چیئرمین ایم وینکئیا نائیڈو نے ایوان کی کارروائی دوپہر 12بجے تک کےلئے ملتوی کردی۔ضروری کاغذات میز پر رکھے جانے کے بعد کانگریس اراکین نے اناو عصمت دری معاملے کی متاثرہ کو جلائے جانے کے واقعہ پر بحث کا مطالبہ کیا لیکن مسٹر نائیڈو نے اس کی اجازت نہیں دی اور کہا کہ یہ معاملہ ایوان کی کارروائی کی فہرست میں نہیں ہے۔اس پر اپوزیشن اراکین کھڑے ہوکربلا تاخیر بحث کا مطالبہ کرتے ہوئےایوان میں شوروغل کرنے لگے۔مسٹر نائیڈو نے اراکین سےنظام بنائے رکھنے کی اپیل کی لیکن اپوزیشن اپنے مطالبے پر بضد رہی ،جس کیوجہ سے انہوں نے ایوان کی کارروائی دوپہر 12بجے تک کےلئے ملتوی کردی۔آئینی دستاویزوں کو میز پر رکھنے کے بعد راجیہ سبھا کے چیئرمین نے ایوان کی مختلف کمیٹیوں کی میٹنگوں میں اراکین کی کم موجودگی پر ناراضگی ظاہر کی اور کہا کہ ان کمیٹیوں کے 80اراکین میں سے 18اراکین کی موجودگی ہی صد فیصد رہی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *