امریکہ تیل لینے آیا تھا، جمہوریت دینے نہیں

Share Article

اسد مفتی، ایمسٹرڈیم، ہالینڈ
عراق سے امریکی افواج کا انخلا ء خوش آئند ہے، مگر یہ انخلاء اسی صورت میں قابل تعریف ہوگا اگر عراق کے اندرونی معاملات اور سیاست میں خارجی مداخلت یکسر ختم کی جائے، عراق کو اس کے سیکورٹی معاملات مکمل طور پر سونپ دئے جائیں۔ یہ سچ ہے کہ عراق سے امریکی فوجی تو نکل گئے ہیں اور جو باقی ہیں وہ بھی نکل رہے ہیں مگر امریکہ نے وہاں ایسے لوگ چھوڑ دئے ہیں جو عراق کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتے رہیں گے۔ عراق جنگ میں تقریباًپانچ ہزار امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔امریکی اخبار ’’واشنگٹن ‘‘کے مطابق 2003 سے عراق پر امریکی جارحیت سے اب تک 3492فوجی دوبدو لڑائی کا شکار ہوئے۔ اب تک 31929امریکی فوجی اس جنگ میں زخمی ہو چکے ہیں، عراق جنگ کے آغاز پر 31مارچ 2003میں 90ہزار امریکی فوجی تعینات کئے گئے، اکتوبر 2007میں یہ تعداد ایک لاکھ ستر ہزار کر دی گئی جو عراق جنگ کے دوران سب سے زیادہ تھی جبکہ اگست 2010میں یہ تعداد کم کر کے 49ہزار 700کر دی گئی۔اس جنگ میں امریکہ سمیت 31اتحادی ممالک نے حصہ لیا۔اس بے مقصد جنگ میں ایک ملین سے زیادہ عراقی شہری ہلاک ہوئے، 2003سے 900بلین ڈالر (900ارب ڈالر)عراق جنگ پر خرچ ہوئے۔ عراق میں اگست 2003میں27ڈالر فی بیرل تیل تھا جبکہ آج 74ڈالر فی بیرل ہے، مئی 2003میں تین لاکھ بیرل تیل یومیہ پیداوار تھی جبکہ آج 23لاکھ 20ہزار بیرل یومیہ پیداوار ہے۔
تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اگر ہم صرف خلیج فارس اور مشرق وسطیٰ کا نقشہ اٹھا کر دیکھیں تو دبئی، متحدہ امارات، کویت، صومالیہ، بحرین ، اردن، لبنان، قطر، سعودی عرب، ترکی اور میرے پیارے راج دلارے ملک پاکستان میں امریکی افواج اپنے تمام تر جاہ و جلال اور فوجی ساز و سامان کے ساتھ موجود ہیں۔ترکی میں1700، کویت میں ایک لاکھ 15ہزار، اردن میںتین ہزار، قطر میںچار ہزار، عرب امارات میں چار ہزار فوجی موجود ہیں۔
عراق سے امریکی فوجیوں کی واپسی کا اعلان کرتے ہوئے صدر اوبامہ نے یہ بات واضح طورپر کہی ہے کہ اگلی باری افغانستان کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ آئندہ برس ہم افغانوں کو ذمہ داری منتقل کرنے کا عمل شروع کریں گے لیکن اس کو کہا جائے کہ افغانستان میں امریکی فوج کی تعداد بڑھا دی گئی ہے، 30000فوجیوں کی تازہ کمک پہنچ جانے کے بعد امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے جنوبی افغانستان میں لڑائی کی نئی حکمت عملی پر غور شروع کر دیا ہے۔ تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ عراق سے امریکی فوجیوں کی واپسی سے ایران، پاکستان اور علاقے کے دوسرے ملکوں پر یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ امریکہ اپنی فوجیں نکالنے میں سنجیدہ ہے، میرے حساب سے اس اقدام کے گہرے اثرات کے بارے میں سب سے زیادہ فکر افغانستان کے حامد کرزئی کو ہے۔ جس نے طالبان سے بات چیت کرنے کے لئے ابھی سے ایک کونسل تشکیل دے دی ہے۔ علاقے کے تمام ملکوں کی سوچ میں کم و بیش تبدیلی آئی ہے لیکن سب سے زیادہ گھبراہٹ حامد کرزئی کے حصے میں آئی ہے۔ ان کی جان واقعی آفت میں آئی ہوئی ہے۔ اگر کل امریکہ اور نیٹو کی فوجیں افغانستان خالی کر دیں تو صرف کابل پر حکومت کرنے والے کا کیا حال ہوگا!یہ جاننے کے لئے کسی ڈگری کی ضرورت نہیں ہے۔ صدرحامد کرزئی نے حال ہی میں افغانستان کا دورہ کرنے والے امریکی کانگریس کے ایک وفد سے ملاقات میں کہا ہے کہ امریکی فوج کی واپسی کے اعلان سے طالبان کے حوصلے بلند ہو گئے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ حامد کرزئی امریکی افواج کو صدر اوبامہ اور ان کے مشیروں کے منصوبوں کے برعکس مزید کچھ مدد کے لئے افغانستان میں روکنا چاہتے ہیں۔
افغانستان اور عراق کی جنگیں بنیادی طور پر دو مختلف جنگیں ہیں لیکن امریکہ کی مجموعی حکمت عملی ایک جیسی ہے۔ یعنی ملکی فوجوں کو اس حد تک مضبوط بنانا کہ وہ ملکی سیکورٹی کے فرائض خود سنبھالنے کے قابل ہو جائیں۔ اس طرح امریکی فوجوں کے لئے گھر واپس جانا ممکن ہو جائے گا لیکن یہاں میری تشویش یہ ہے کہ افغان سیکورٹی فورسیز خوداپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے قابل ہو سکے گی یا نہیں؟ سرحد پار طالبان کے خالق ملک پاکستان میں طالبان کے لئے پناہ گاہیں اور جنت دنیا کے لئے مسلسل پریشان کن مسئلہ بنی ہوئی ہیں!
دریں اثنا امریکی فوج نے کہا ہے کہ عراق میں اس نے اس سال اب تک 12ہزار فوجیوں کو رہا کیا ہے جبکہ عراق میں مختلف جیلوں میں21ہزار قیدی تھے، ادھر آسٹریلیا کی حکومت نے عراق میں اپنے سفارت کاروں اور فوجیوں کے ساتھ معاونت کرنے والے 400عراقی باشندوں کو شہریت دے دی ہے۔ آسٹریلیائی وزارت دفاع کے مطابق تقریباً400عراقی باشندوں کو انسانی ہمدردی کی ویزا اسکیم کے تحت ملکی شہریت دے دی گئی ہے۔ ان شہریوں نے عراق میں آسٹریلیائی افواج اور سفارت کاروں کے ساتھ تعاون کیا تھا اور اس تعاون کے نتیجہ میں ان شہریوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہو گئے تھے۔
ہالینڈ کے ایک روزنامے نے عراق سے امریکی فوج کے انخلاء کے حوالہ سے ایک مضمون سپرد قلم کیا ہے۔ جس میں نامہ نگار نے امریکی فوج کے ’’پہلے ایک ہزار دن‘‘ کے عنوان سے ایک رپورٹ مرتب کی ہے جس میں وہ لکھتا ہے کہ ’’امریکی فوج کے ایک ہزار دن پورے ہونے پر خود مغربی ذرائع ابلاغ نے امریکی فوج کے گرتے مورال اور ناقابل تلافی نقصانات کا ذکر کیا ہے کہ ان ہزار دنوں میں امریکی فوج 251ارب ڈالر جنگ میں جھونک چکی تھی، بعد ازاں امریکی جنگی اخراجات ستمبر 2005تک 700ارب ڈالر تک جا پہنچے تھے، یہاں یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ ویت نام کی پوری اٹھارہ سالہ جنگ میں امریکی کے 600ارب ڈالر غارت ہوئے تھے۔ اخبار لکھتا ہے کہ امریکی سرکاری اعداد وشمار کے مطابق پہلے ہزار دنوں میں مرنے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 2349تھی جبکہ زخمیوں کی تعداد 72ہزار تھی، اسی طرح ان ہزار دنوں کے دوران جان سے ہاتھ دھو بیٹھنے والے عراقی باشندوں کی تعداد اخبار کے مطابق 58ہزار تھی۔برطانیہ بھی ان پہلے ہزار دنوں میں5.4ارب پائونڈ جنگ پر ضائع کر چکا تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ مغربی ذرائع ابلاغ یہ بھی مسلسل لکھ رہے تھے(بعض ابھی تک لکھ رہے ہیں) کہ ’’ہم عراق میں خودکشی کر رہے ہیں‘‘۔ ہم امریکہ اور امریکیوں سے عالمی نفرت میں اضافہ کر رہے ہیں‘‘۔’’ ہم عراق میں کانٹے بو رہے ہیں‘‘۔’’عراقی صورت حال قابو سے باہر ہو چکی ہے۔ہمیں اپنی فوجیں واپس بلا لینی چاہئیں‘‘۔میں یہ بات اچھی طرح جانتا ہوں کہ گزشتہ چار سو برسوں میں2609جنگیں لڑنے والا یوروپ جنگ کی بات کیسے کر سکتا ہے اور 20بلین ڈالر سالانہ اسلحہ کی تجارت کرنے والا امریکہ امن کی بات کیسے کر سکتا ہے ! میں بھی سوچتا ہوں آپ بھی سوچئے …

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *