!انگلیاں کانپتی ہیں نبض کی رفتار کے ساتھ

Share Article

میر شاہ حسن سنبھلی
دہشت گردی اس وقت اولادِ آدم کے لیے سب سے سنگین مسئلہ بن چکا ہے ۔ صرف ہندوستان ہی نہیں امریکہ اور یوروپ بھی اس کی گرفت میں ہے مگر دہشت گردی رکنے کا نام نہیں لے رہی ہے ۔ اس وقت سنجیدگی سے اس سوال پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ دہشت گردی آئی کہاں سے، کیو نکہ کوئی پودا بغیر بیج کے وجود میں نہیں آتا اور اب تو دہشت گردی کا درخت پورے شباب پر ہے۔ ملک میں بم بلاسٹ ایک عام بات ہو گئی ہے ۔ کبھی جامع مسجد تو کبھی مالیگائوں کی مسجد، کبھی خواجہ غریب نواز کی درگاہ تو کبھی اکشر دھام مندر یعنی ایسا لگتا ہے گویا کسی لائسنس کو رِنیوَل کیا جاتا ہو۔ اور اب تو حالات یہ ہو چکے ہیں کہ جس طرح اناج کی فصلیں سال میں دو یا تین بار پیدا ہوتی ہیں اسی طرح سال میں تین یا چار مرتبہ بلاسٹ بھی ہو جاتے ہیں، یعنی جس طرح کوئی تہوار اپنے وقت کے مطابق منایا جاتا ہے اسی طرح ہم کبھی بھی اور کہیں بھی یہ سن لیتے ہیں کہ آج وہاں بلاسٹ ہو گیا اور اس میں اتنے بے قصور مارے گئے۔ ابھی ممبئی میں ہوئے بلاسٹ کے ذریعہ جو زخم ملک کے عوام کو لگے تھے وہ ہرے ہی تھے کہ دہلی ہائی کورٹ میں دھماکہ ہو گیا ۔ آخر ایک کے بعد ایک دھماکہ کیوں ہوتا ہے ؟ کیا ہم دہشت گردی سے ہار مان چکے ہیں، یا پھر ہمارا سسٹم خراب ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک میں عوام کی حفاظت نہیں کر پا رہے ہیں۔ حادثہ پیش آتا ہے اور فوراً جائے واردات پر ہمارے سیاسی حضرات مگر مچھ کے آنسو بہانے پہنچ جاتے ہیںاور انتظامیہ کہتی ہے کہ تفتیش جاری ہے، بہت جلد مجرموں کو ہم سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیں گے، مگر ہوتا کچھ اور ہے۔ اگر اتفاق سے کوئی دہشت گرد گرفت میں آجائے تو، یا تو وہ فرار ہونے میں کامیاب ہو جاتا ہے یا پھر اس کو قید میں ڈال دیا جاتا ہے اور ایک طویل مدّت کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد مجرموں کو سزادی جائے گی، لیکن سوچنے کی بات ہے کہ جب عدالت ہی باقی نہ رہے گی تو سزا کون دے گا ؟
پتھر مجھے لگا تھا کہ پتھر کو میں لگا         یہ بات منصفوں میں ابھی زیرِ غور ہے
دورِ حاضر میں جو بات سب سے اہم ہے، وہ یہ کہ اگر کہیں کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو سب سے پہلے انتظامیہ کی نظر میں آتے ہیں مسلمان۔ کون مسلمان؟ وہ جن کی حالت اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ خراب ہے۔ اس حقیقت کی گواہ حکومت ہند کے ذریعہ وجود میں آنے والے وہ ادارے ہیں، جن کا نام رنگناتھ مشرا کمیشن اور سچّر کمیٹی ہے۔ مگر انتظامیہ کو یہ بات کیوں یاد نہیں رہتی کہ اگر دہلی کی پارلیمنٹ پر حملہ کرنے والا افضل گرو ہے تو پارلیمنٹ میں بیٹھنے والی وزیر اعظم کے قاتل بھی اسی ملک کے ہیں۔ پارلیمنٹ کی عمارت سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی ،اندرا گاندھی کے وجود سے بڑھ کر تو نہیں ہے؟ اور تو اور، بابائے قوم گاندھی جی کے قاتل بھی اسی ملک کے ہیں۔ ملک کے ایک قدّآور لیڈر کا کہنا ہے کہ ہندو دہشت گردی ملک کے لیے اس وقت سب سے بڑا خطرہ ہے، گجرات جس کی ایک مثال ہے۔ ایک طرفہ کارروائی سے کیا حاصل؟ کشمیری عوام کا کہنا ہے کہ اگر چند بھٹکے ہوئے نوجوان دہشت گرد ہیں تو اس کے لیے بھی سسٹم ذمہ دار ہے، کیونکہ کرنل پروہت ، پرگیا سنگھ ٹھاکر اور اسیما نند جیسے لوگ اس ملک میں رہ کر دہشت گردی پھیلا تے ہیں اور اسے پروان چڑھاتے ہیں ۔ اگرکشمیر میں آتنک وادی ہیں تو نکسل وادی اور مائووادی بھی اسی ملک میں ہیں۔
ملک سے دہشت گردی کا نام و نشان مٹ جائے اس کے لیے انتظامیہ کو عوام کا دل جیتنا ہوگا اور عوام کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ ملک میں عوام کی سب سے بڑی ہمدرد انتظامیہ ہے، کیو نکہ جب تک پولس اور فوج کی تصویر عوام کی نظر میں بہتر نہیں ہوگی تب تک فضا خوشگوار نہیں ہوگی۔ اس کے لیے وزارتِ داخلہ میں عملی اقدامات کے لیے قوانین میں تبدیلی ہونی چاہیے اور جو بھی ملک میں بد امنی پھیلا رہا ہے وہ کتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہو، اسے عبرت ناک سزا ملنی چاہیے، خالی زبانی ہمدردی یا اخبارات میں بیان دینے سے کچھ ہونے والا نہیں ہے ۔
یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ پنجاب کبھی انتہا پسندی کا مرکز تھا، مگر اب بہت حد تک پنجاب میں انتہا پسندی ختم ہو چکی ہے۔ یعنی اگر ملک کی کسی ریاست میں دہشت گردی وجود میں آ رہی ہے تو ہمیں قانون کے دائرے میں رہ کر اسے ختم کرنا ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ دہشت گرد اپنا کام کر جاتے ہیں اور ہم پھر غافل ہو جاتے ہیں ۔ کیا ہمارے انٹیلی جنس اور وجیلنس کمزور ہیں یا اس میں کوئی خامی ہے۔ آج دنیا کا سب سے طاقتور ملک امریکہ، جو دوسروں کی حفاظت کے ٹھیکے لیتا تھا، وہ بھی دہشت گردی کی گرفت میں ہے، پھر ہم سو کروڑ سے زائد آبادی پر مشتمل ملک ہندوستان کی حفاظت کیسے کریں گے ۔ دہشت گردی کی وجہ سے عوام میں اضطراب کا یہ عالم ہے کہ انسان ایک دوسرے کی مدد کرنے سے بھی ڈرتا ہے، کیونکہ مریض کی عیادت کرنے والا بھی یہ سوچتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ بغیر کسی وجہ کے کہیں ہم بھی عیادت کرنے کی بجائے خود بیمار ہو جائیں ۔دہلی ہائی کورٹ میں بلاسٹ کے بعد جب لوگ اپنوں سے ملنے پہنچے، ان کا کہنا تھا کہ نہ معلوم کب ہم اپنے گھر سے نکلیں اور شاید واپس زندہ اپنے گھر نہ پہنچ پائیں ۔
ملک میں ہو رہے یکے بعد دیگر حادثوں سے اگر ہم نے سبق نہیں لیا یا انتظامیہ نے سنجیدگی کے ساتھ پیش رفت نہ کی تو وہ دن دور نہیں کہ ہمارا حال بھی پڑوسی ملک پاکستان کی طرح ہو جائے گااور پھر کفِ افسوس ملنے کے علاوہ ہمارے سامنے کوئی راستہ نہیں رہ جائے گا ۔ وہ ملک جو دنیا میں جنت کا نمونہ تھا، جہاں مختلف مذاہب اور جدا جدا رنگ و نسل کے لوگ ایک ساتھ رہتے تھے، وہاں آج مٹھی بھر دہشت گردوں نے عوام کا سکون چھین لیا ہے، انتظامیہ مفلوج ہو چکی ہے اور موت کا ننگا ناچ ایک عام بات ہو چکی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ درندہ صفت لوگوں کی گردن میں پٹّاڈالا جائے تا کہ بے قصور لوگوں کو نتھی کرکے اپنے سر کا بوجھ اتار کر پلّا جھاڑ لینے کا سلسلہ ختم ہو سکے اور اس ملک میں رہنے والا ہر شخص کھلی فضا میں سانس لے سکے اور بے خوف و خطر کہیں بھی گھوم پھر سکے۔ ہمیں اقوام عالم کو یہ پیغام دینا ہے کہ ہندوستان کل بھی امن کا گہوارہ تھا اور آج بھی امن کا گہوارہ ہے ۔ دہشت گردی کے لیے دنیا کے کسی مذہب میں کوئی جگہ نہیں ہے، بالخصوص اسلام میں دہشت گردی کا تصور بھی حرام ہے، کیو نکہ اسلام ہی دنیا کا واحد مذہب ہے جس کا نام (اسلام) سلامتی ہے۔اور روز اوّل سے آج تک اسلام نے ہی سب سے پہلے انسانیت اور انسانی حقوق کے تحفظ کا حکم دیا ہے، اس لیے کوئی عاشقِ رسول دہشت گرد نہیں ہو سکتا ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دنیا میں اپنے مقاصد کو حل کرنے کے لیے دہشت گردی کا سہارا لینے والے اور دہشت گردی کو فروغ دینے والوں کو لگام لگائیں اور عوام کے اندر جو خوف بیٹھا ہوا ہے، اسے ختم کیا جائے ۔ بے قصور عوام کو ہر حالت میں بری کیا جائے۔ ملک کے آئین میں کسی ضمیر فروش کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے، خواہ وہ کسی مذہب کا ہو، تاکہ دہشت کے سائے میں زندگی گزارنے والے لوگ سکون سے جی سکیں اور کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ آج ہم اپنے رفیقوں کی تیمار داری کر رہے ہیں ۔مگر ہمارا یہ حال ہے کہ ان کی نبض کے ساتھ ساتھ ہمارے دل کی دھڑکن کسی اَن چاہے خوف سے بڑھ رہی ہے، کیو نکہ جب عوام ہی نہ رہیں گے، عدالت ہی نہ رہے گی، مظلوموں کی مسیحائی کرنے والے ہی نہ رہیں گے تو پھر کون رہے گا ۔ اس لیے ہمیں حالات کو بدلنے کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے، تاکہ ملک سے دہشت گردی کا نام و نشان مٹ جائے۔   g
انگلیاں کانپتی ہیں نبض کی رفتار کے ساتھ
خود مسیحا بھی نہ چل دے کہیں بیمار کے ساتھ

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *