یونانی طبّی کانگریس (یوپی) کا چھٹا ریاستی کنونشن منعقد

Share Article
unani-tibbi-Convention
آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس (یوپی) کا چھٹا ریاستی کنونشن الٰہ آباد میں منعقد ہوا، جس کی صدارت پروفیسر سعد عثمانی (سابق پرنسپل، اسٹیٹ یونانی میڈیکل کالج، الٰہ آباد اور قومی کارگزار صدر، آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس) نے کی۔ انہوں نے حکومت اترپردیش سے مطالبہ کیا کہ وہ گورنمنٹ یونانی میڈیکل کالج الٰہ آباد اور اسٹیٹ تکمیل الطف کالج لکھنؤ جیسے تاریخی یونانی میڈیکل کالجز میں پی جی یونانی کی تعلیم کا بندوبست کرے نیز نئے گورنمنٹ یونانی میڈیکل کالج قائم کیے جائیں۔ پروفیسر سعد عثمانی نے کہا کہ طب یونانی کا ماضی بھی تابناک تھا اور مستقبل بھی روشن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم آنجہانی راج نرائن (سابق وزیر صحت حکومت ہند) کے رہین منت ہیں جن کی بدولت موجودہ دور میں تمام رائج دیسی طریقہ علاج (آیوروید، یونانی، ہومیوپیتھی وغیرہ) کو اہمیت ملی اور ہمارا وقار بحال ہوا۔ انہوں نے خاندانِ عثمانی الٰہ آباد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے اجداد نے طب یونانی کو استحکام بخشا، مجھے ان کے کارناموں پر رشک ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیاری دوائیں عوام کو دستیاب ہوں اس کے لیے حکومت کی سطح پر جڑی بیوٹیوں کی کاشت نہایت ضروری ہے۔
اس موقع پر مہمان خصوصی کی حیثیت سے کنور ریوتی رمن سنگھ (رکن پارلیمنٹ) نے شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ حکیم لقمان کا نام آج بھی دنیا جانتی ہے اور ان کی حکمت کو سلام کرتی ہے اور ان کی عظمت ان کے ہنر سے تھی۔ انہوں نے کہا کہ آج نباض حکیموں کی ضرورت ہے کیونکہ نبض شناسی میں مہارت نہ رکھنے کی وجہ سے تشخیص کے نام پر بڑے پیمانے پر عوام کا استحصال کیا جاتا ہے۔ ریوتی رمن نے اپنے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مرض کو جڑ سے ختم کرنے کی صلاحیت طب یونانی میں موجود ہے لیکن تحقیقی پروگراموں کو تیز کیا جائے اور اس کا بجٹ بڑھایا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہربل دوا کے نام پر مذہبی جذبات کو ابھار کر کل کے یوگ گرو آج کے ارب پتی بن گئے ہیں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ بہتر صحت کے لیے سماج کا بہتر ہونا بھی ضروری ہے اور فرقہ پرستی بھی ایک بیماری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماحولیات کے اندر جو اہمیت صاف آب و ہوا کی ہے وہی اہمیت بہتر سماج کے لیے ڈیموکریسی اور سماج واد کی ہے۔
مہمانِ ذی وقار ڈاکٹر سکندر حیات صدیقی (ڈائرکٹر یونانی سروسیز، حکومت اترپردیش) نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ریاست اترپردیش میں 403 اسمبلی حلقے ہیں، مگر افسوس کہ صرف 254 یونانی ڈسپنسریز ہیں۔ اس لحاظ سے یونانی ڈسپنسریز کی تعداد بہت کم ہے۔ اس کے لیے ہر اسمبلی حلقہ کے ایم ایل اے حضرات سے رابطہ کیا جائے اور یونانی ڈسپنسریز کی تعداد بڑھانے کے لیے اُن سے گزارش کی جائے۔ ڈاکٹر سکندر حیات نے کہا کہ محکمہ یونانی کے علاحدہ ہونے کے بعد سے اترپردیش میں طب یونانی تیزی سے ترقی کر رہی ہے لیکن ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے جس کے لیے آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس جیسی تنظیموں کا تعاون درکار ہے۔ آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس کے قومی اعزازی سکریٹری جنرل ڈاکٹر سیّد احمد خاں نے کنونشن کے اغراض و مقاصد اور آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس کی کارکردگی پر روشنی ڈالی۔ آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس اترپردیش کے صدر ڈاکٹر ایس ایم احسن اعجاز نے مہمانوں کا تعارف پیش کیا۔
اس موقع پر ڈاکٹر محمد خالد (ڈائرکٹر، فہمینہ ہاسپٹل الٰہ آباد) نے Obesity پر خصوصی لکچر پیش کیا جس کی پذیرائی ہوئی۔ خاص طور سے صدر جلسہ پروفیسر حکیم سعد عثمانی نے ان کے لکچر کی تعریف کی اور کہا کہ میرے شاگرد نے حق ادا کیا۔ کنونشن میں ڈاکٹر انوار قریشی (پرنسپل گورنمنٹ یونانی میڈیکل کالج، الٰہ آباد)، پروفیسر حکیم غلام جیلانی (سابق پرنسپل گورنمنٹ یونانی میڈیکل کالج، الٰہ آباد)، سماج وادی لیڈر ڈاکٹر نورعالم اور نوجوان یونانی طبی لیڈر ڈاکٹر معید احمد وغیرہ نے بھی خطاب کیا۔ پروگرام کے سرپرست معروف طبیب ڈاکٹر طارق عمر صدیقی (ٹی یو صدیقی) نے نظامت کے فرائض بحسن و خوبی انجام دیے۔ کنونشن کے اہم شرکا میں ڈاکٹر محمد نظام الدین (کولکاتا)، ڈاکٹر سیّد عرفان نجف علیمی (مدیر اعلیٰ نوائے طب و صحت)، ڈاکٹر محمد عارض قادری (ممبر سی سی آئی ایم)، ڈاکٹر برکت اللّٰہ ندوی (نیشنل سکریٹری، طبّی کانگریس اکیڈمک وِنگ لکھنؤ)، ڈاکٹر طارق جمال، ڈاکٹر ایس ایم زیدی، ڈاکٹر محمد احمد، ڈاکٹر اللہ نواز، ڈاکٹر محمد علی زیدی، ڈاکٹر محبوب عثمانی، ڈاکٹر حنزلہ، ڈاکٹر انصار، ڈاکٹر محمد اکمل علوی، ڈاکٹر خورشید عالم، ڈاکٹر محمد اعجاز خاں، ڈاکٹر محمد راشد، ڈاکٹر محمد شجاع الدین، ڈاکٹر بلال شیخ، ڈاکٹر نعمان خاں، حکیم رشادالاسلام اور معین الدین انصاری وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ تمام شرکا کا شکریہ آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس (یوپی) کے سکریٹری ڈاکٹر محمد راشد نے ادا کیا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *