un

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی طرف سے یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی کے طور پر تسلیم کرنے سے متعلق فیصلے کے تناظر میں آج 8دسمبرجمعہ کو ہنگامی اجلاس بلایا ہے۔ بولیویا، برطانیہ، مصر، فرانس، اٹلی، سینیگال، سویڈن اور یوروگوئے کی درخواست پر سلامتی کونسل کا اجلاس ہندوستانی وقت کے مطابق دوپہر 3بجے شروع ہوگا۔
سلامتی کونسل کی صدارت کرنے والے جاپان نے کہا ہے کہ اجلاس کے ایجنڈے میں دیگر امور بھی شامل ہیں اس لئے يرشلم بحث سویرے تک ہو سکے گی۔ دوسری طرف مسٹر ٹرمپ کے اعلان کے بعد اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اٹونيو گتیرش نے اپنے تبصرے میں کہا کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان براہ راست مذاکرات کے ذریعے ہی یروشلم کی حتمی پوزیشن واضح ہو سکے گی۔بولیویا کے سفیر نے ٹرمپ کے فیصلے کو خطرناک اور جلدی میں لیا گیا فیصلہ بتایا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کا فیصلہ سلامتی کونسل کے اصول کے مطابق بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے۔ یہ نہ صرف امن عمل کے لئے بلکہ بین الاقوامی امن و سلامتی کے لئے بھی خطرہ ہے ۔
امریکا کی جانب سے اپنا سفارتخانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کے اعلان کے بعد مسلم ممالک سمیت یورپی یونین اور برطانیہ میں بھی تشویش پائی جاتی ہے جب کہ فرانس سمیت 8 ممالک نے سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کردیا ہے۔فرانس کی درخواست پر بلائے جانے والے اجلاس کی حمایت برطانیہ، سوئیڈن، اٹلی، مصر، سینیگال، بولیویا اور یوراگوئے نے کی۔یورپی یونین کی جانب سے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس کے مستقبل کا فیصلہ بات چیت کے ذریعے نکالنا چاہیے، اسرائیل اور فلسطین دونوں کی خواہشات پوری ہونی چاہییں۔برطانوی وزیراعظم ٹریسامے نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے کی مذمت کی اور کہا کہ یہ اقدام امن عمل میں مددگار نہیں ہوگا۔فرانسیسی صدر ایموئینل میکرون نے اپنے مذمتی بیان میں کہا کہ امریکی صدر کے فیصلے کی بالکل حمایت نہیں کرتے۔جرمن چانسلر نے بھی امریکی اعلان کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یرو شلم کی حیثیت کا فیصلہ دو ریاستی حل کے ساتھ ہی ہونا چاہیے۔کینیڈا کا کہنا تھا کہ یروشلم کی حیثیت کا فیصلہ اسرائیل فلسطین تنازع کے حل سے کیا جاسکتا ہے۔اقوام متحدہ کیسی کریٹری جنرل نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یکطرفہ فیصلے کی مخالفت کردی اور کہا کہ اس اعلان سے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن خطرے میں پڑنے کا خدشہ ہے، دو ریاستی حل کے سوا امن کا کوئی متبادل نہیں ہوسکتا۔پوپ فرانسس نے امریکی صدر سے مطالبہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ کی
قراردادوں کا احترام کیا جائے اور مقبوضہ بیت المقدس کی موجودہ حیثیت کا بھی احترام کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ تنازعات نے دنیا کو پہلے ہی خوفزدہ کر رکھا ہے اس لئے کشیدگی کا نیا عنصر شامل نہ کیا جائے۔دوسری جانب مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے خلاف اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا اجلاس بھی طلب کرلیا گیا ہے جو 13 دسمبر کو ہونے کا امکان ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے امریکی صدر کے اعلان پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے، سعودی شاہی عدالت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دینا بلا جواز اور غیر ذمہ دارانہ قدم ہے۔سعودی شاہی اعلان میں کہا گیا ہے کہ امریکی فیصلے سے فلسطینیوں کے ساتھ تعصب ظاہر ہوتا ہے، امید ہے کہ عالمی برادری کی خواہش دیکھتے ہوئے امریکی انتظامیہ اپنا فیصلہ واپس لے گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here