US fails to win enough support at UN to condemn Hamas in Gaza

 
فلسطینی اور اسرائیلی حکام اور اقوام متحدہ کے ایلچی کی جانب سے اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ کے سیاسی بیورو کے سینیر رکن کے اْس بیان کی مذمت کی گئی ہے جس میں انھوں نے فلسطینیوں کو اس بات پر اکسایا تھا کہ وہ دنیا کے مختلف علاقوں میں یہودیوں پر حملے کر کے انہیں ’’قتل‘‘ اور ’’ذبح‘‘ کریں۔
 
Image result for UN envoy and Palestinian officials condemned the statement by Hamas
حماس کے رہنما فتحی حماد نے جمعے کے روز غزہ پٹی کے شمال میں جبالیا کے مشرق میں ہفتہ وار احتجاجی مظاہرے میں شریک فلسطینیوں سے خطاب میں کہا کہ “اگر (غزہ پٹی کا) جاری محاصرہ ختم نہیں ہوا تو ہم اپنے دشمن کے سامنے خود کو دھماکوں سے اڑا دیں گے۔ یہ صرف غزہ میں نہیں بلکہ مغربی کنارے اور فلسطینی اراضی سے باہر بھی ہو گا۔حماد نے مزید کہا کہ “ہمارے بھائی بیرون ملک تیاری کر رہے ہیں اور پوری کوشش کر رہے ہیں۔ بیرون ملک 70 لاکھ فلسطینی ہیں … یہ تعداد کافی ہے۔ آپ لوگوں کے پاس ہر جگہ یہودی موجود ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ کرہ ارض پر موجود ہر یہودی کو حملے کا نشانہ بنا کر اسے ’’ذبح‘‘ کر دیں اور ’’جان سے مار ڈالیں‘‘ … مغربی کنارے کے باسیو! آپ لوگ کب تک خاموش رہیں گے؟ وقت آ گیا ہے کہ چْھریاں چاقو نکل آئیں۔
 
ادھر تنظیم آزادی فلسطین PLO کی مجلس عاملہ کے جنرل سیکرٹری صائب عریقات نے حماس رہ نما فتحی حماد کے بیان کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے ٹویٹر پر لکھا کہ “مسئلہ فلسطین کی منصفانہ اقدار میں انصاف، مساوات، آزادی اور محبت شامل ہے۔ حماس رہ نما فتحی حماد کا نفرت آمیز بیان کسی طور بھی فلسطینی جدوجہد کی اقدار سے میل نہیں کھاتا۔ مذہب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے”۔اسی طرح اقوام متحدہ کے ایلچی نکولائے ملادینوف نے بھی حماد کے قول کی مذمت کرتے ہوئے اسے خطرناک، نفرت آمیز اور اشتعال انگیز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام لوگوں کو واضح طور پر اس کی مذمت کرنا چاہیے۔
 
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ترجمان عوفیر جینڈلمین کا کہنا ہے کہ (حماس رہ نما کا) یہ بیان حماس کی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے ٹویٹر پر لکھا کہ “حماس غزہ کی سرحد پر ہنگامہ آرائی کی ذمے دار ہے۔ حماس نے بارودی جیکٹیں تیار کرنے کے کارخانے قائم کیے .. حماس دنیا کے مختلف حصوں میں یہودیوں کو قتل کرنا چاہتی ہے”۔فتحی حماد نے غزہ پٹی کی آبادی پر مسلط محاصرے کو ختم کرنے کے لیے اسرائیل کو ایک ہفتے کی مہلت دی ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ “اگر تم لوگوں نے محاصرہ ختم نہ کیا تو ہمارے پاس بہت سے طریقے اور ذرائع موجود ہیں۔ ہم تماشائی بن کر موت کو گلے نہیں لگائیں گے اور نہ بھوکے مریں گے”۔دوسری جانب حماس تنظیم نے احتجاجی مظاہرین کے سامنے خطاب میں حماد کی جانب سے دیے گئے بیان سے لا تعلقی کا اظہار کیا ہے۔
 
پیر کے روز جاری ایک بیان میں حماس نے کہا کہ “ہماری لڑائی قابض یہودیوں کے ساتھ ہے جنہوں نے ہماری سرزمین پر قبضہ کر رکھا ہے اور ہمارے مقدس مقامات کی بے حرمتی کر رہے ہیں۔ دنیا بھر کے یہودیوں اور یہودی مذہب کے ساتھ ہمارا کوئی تنازع نہیں ہے۔ حماس تنظیم پہلے بھی یہودیوں کو ان کی عبادت گاہوں میں نشانہ بنانے کے لیے حملوں کی مذمت کر چکی ہے”۔بیان میں زور دے کر کہا گیا کہ حق واپسی اور محاصرے کے خاتمے کے لیے احتجاجی ریلیاں .. پْر امن عوامی ریلیاں ہیں جن کا مقصد حقِ واپسی اور غزہ پٹی پر عائد محاصرے کے خاتمے کا حق ثابت کرنا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here