امید کریں، اگلا بجٹ عوام کا ہو

Share Article

سنتوش بھارتیہ
بجٹ آنے والا ہے، بجٹ کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں اور وزیر خزانہ ارون جیٹلی بجٹ سے پہلے میٹنگیں بھی شروع کر چکے ہیں۔ ماننا چاہیے کہ یہ وزیر اعظم نریندر مودی کی ترقی کے روڈ میپ کا پہلا بجٹ ہوگا۔ پچھلے بجٹ میں کہا گیا تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی یا وزیر اعظم نریندر مودی یا وزیر خزانہ ارون جیٹلی کو کچھ کرنے کا موقع نہیں ملا، کیو ںکہ تب وقت ہی نہیں تھا۔ اس لیے بجٹ کا جو خاکہ سابق وزیر خزانہ چدمبرم نے بنایا تھا، اسی کو وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے پارلیمنٹ میں رکھا تھا۔ وہ بجٹ پوری طرح بازار پر مبنی اور دوسرے الفاظ میں، ترقی مخالف بجٹ تھا۔
جب ہم ترقی مخالف کہتے ہیں، تو ہمارا سیدھا مطلب ہے کہ وہ بجٹ اس ملک کے 80 فیصد لوگوں کے لیے نہیں تھا، بلکہ ملک کے 20 فیصد خوشحال، تہذیب یافتہ، اعلیٰ تعلیم یافتہ، اعلیٰ متوسط طبقہ اور اعلیٰ طبقے کے لیے تھا۔ جب ہم نریندر مودی کی الیکشن کے دوران کی تقریروں، پھر وزیر اعظم بننے کے بعد دنیا بھر میں ان کے ذریعے کی گئی تقریروں اور پچھلے چار مہینے میں ملک میں کی گئی تقریروں کو پڑھتے ہیں، تب ہمیں لگتا ہے کہ ترقی لفظ کا تصور صرف 20 فیصد کے لیے نہیں ہے، بلکہ 100 فیصد کے لیے ہے اور 100 فیصد میں سب سے پہلے انہیں حصہ ملنا چاہیے، جنہیں آج تک کبھی حصہ ملا ہی نہیں ہے۔ یہ زبان نہ کمیونسٹوں کی ہے اور نہ سماجوادیوں کی، کیوں کہ نریندر مودی نے یہی زبان انتخابات کے دوران بولی، وزیر اعظم بننے کے بعد بولی ہے اور ابھی بھی بول رہے ہیں۔
نریندر مودی جب ’سب کا ساتھ – سب کا وِکاس‘ کی بات کہتے ہیں، تو اس کا مطلب ان کی ترقی کے تصور میں وہ سب ہیں، جو محروم ہیں، جنہیں اب تک کچھ نہیں ملا ہے۔ اس لیے امید کرنی چاہیے کہ یہ بجٹ ان کے لیے فائدہ مند ہوگا، جنہیں اب تک کچھ نہیں ملا ہے۔ اور، جنہیں اب تک کچھ نہیں ملا ہے، ایسے لوگ کم از کم 70 فیصد تو ہیں ہی۔ ایسے لوگ ملک کے ان ضلعوں میں زیادہ ہیں، جہاں پر نکسل واد اپنا اثر بڑھاتا جا رہا ہے۔ دیکھنا یہی ہے کہ یہ بجٹ نریندر مودی کے خوابوں کا بجٹ ہوتا ہے یا پھر ان کے سب کانشس من کے خوابوں کا۔ ہندوستانی اقتصادیات پر بازار کی طاقتوں کا بھرپور قبضہ ہو سکتا ہے اور وہ چاہیں گی کہ بجٹ ان کے مطابق بنے، تاکہ وہ اس ملک میں کی گئی سرمایہ کاری کا پورا فائدہ اٹھا سکیں۔ لیکن، جب نریندر مودی کی تقریروں کی بنیاد پر بجٹ میں التزامات کیے جائیں گے، تو بازار کی طاقتوں کا خواب کیسے پورا ہوگا، یہیں پر تضاد کھڑا ہوتا ہے۔ ایک طرف وزیر اعظم نریندر مودی کی تقریروں سے پیدا ہونے والی امیدیں ہیں اور دوسری طرف سرمایہ کے ذریعے اور بے رحمی سے لوٹے جانے کے خدشات ہیں۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی تقریروں کا لفظ بہ لفظ تجزیہ کریں، تو امید پیدا ہوتی ہے کہ اس ملک کے کسانوں کے لیے، مزدوروں کے لیے، طالب علموں کے لیے اور نوجوانوں کے لیے یہ بجٹ کارگر حل لے کر آئے گا۔ جب ہم کسانوں کی بات کرتے ہیں، تو اس کا مطلب صرف یہ نہیں ہوتا کہ کسانوں کو فصل کی لاگت سے پچاس فیصد زیادہ ملے، بلکہ جو سیدھے کاشت کاری پر زندہ رہنے والے لوگ ہیں، چاہے ان کے پاس زمین ہو یا نہ ہو، انہیں روزگار ملے، یہ ضروری ہے۔ اور، یہ روزگار تبھی ممکن ہو سکتا ہے، جب کہ وہاں مقامی سطح پر پیدا ہونے والے کچے مال کی بنیاد پر سلسلہ وار طریقے سے صنعتیں لگائی جائیں۔ جو صنعتیں زراعت کی بنیاد پر ملک کے دیہی علاقوں میں لگیں، ان کے مقابلے سرمایہ داروں کو صنعت لگانے کی چھوٹ نہیں ملنی چاہیے۔ اگر زراعت پر مبنی دیہی اقتصادیات کو بڑھانے کے لیے صنعتیں نہیں لگائی جاتیں، تو یہ ماننا چاہیے کہ نریندر مودی کی تقریریں لوگوں کو خواب دکھائیں گی، لیکن نریندر مودی کے کام لوگوں کے ہاتھوں سے روزگار چھینیں گے۔ یہی چنوتی خود نریندر مودی کے سامنے ہے اور یہی چنوتی ان کے وزیر خزانہ کے سامنے ہے۔
ہم نہ کسی کی نیت پر شک جتا رہے ہیں اور نہ کسی کے ارادوں پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ہم تو صرف اتنا چاہتے ہیں کہ ملک کا وزیر اعظم اپنے ذریعے کیے گئے وعدوں کی بنیاد پر ملک کو ترقی کے راستے پر لے جانا چاہتا ہے، تو اسے اپنے قدموں سے یہ بتانا ہوگا کہ اس کی ترقی کا مطلب صرف 20 فیصد کی ترقی نہیں ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی ترقی کے تصور میں اس ملک میں رہنے والے 70 سے 80 فیصد لوگ آتے ہیں، جو اَب تک ترقی کے تصور، ترقی کے نقشے اور ترقی کے دائرے سے باہر رہے ہیں۔
میں ایک مثال وزیر اعظم کو دینا چاہتا ہوں کہ جب پانی ٹھنڈا ہوتا ہے، تو اسے گنگنا ہونے میں بہت وقت لگتا ہے، لیکن جب وہ گنگنا ہو جاتا ہے، تو اسے گرم ہونے اور ابلنے میں بہت زیادہ وقت نہیں لگتا۔ اس ملک میں 70 فیصد لوگوں کے من میں غیر یقینی کے بادل کسی بھی سیاسی پارٹی کو لے کر گہرانے لگے ہیں اور انہیں یہ لگتا ہے کہ ان کے مفاد کے تئیں کوئی بھی سیاسی پارٹی، چاہے وہ برسر اقتدار ہو یا اپوزیشن، کوئی ہمدردی نہیں رکھتی۔ ان کی تکلیفوں سے کسی کا کوئی سروکار نہیں ہے۔ اور، اس خطرناک تصور کو بدلنے کی چنوتی وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر خزانہ ارون جیٹلی کے سامنے ہے۔ اس لیے آنے والے بجٹ میں عام لوگوں کے لیے کیا ہے اور خوشحال طبقہ کے لیے کیا ہے، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا۔ میرا ماننا ہے کہ نریندر مودی سرکار کا یہ دوسرا بجٹ نریندر مودی کے تئیں لوگوں کی پختہ رائے بنائے گا اور یہ تصور ساکھ بنانے اور بگاڑنے میں اہم رول ادا کرے گا۔
میں صرف ایک واقعہ کی یاد دلا ؤں۔ تاریخ میں سب سے زیادہ ووٹوں سے جیتے ہوئے راجیو گاندھی دو سال کے اندر ہی اپنی ساکھ کھو بیٹھے تھے۔ وہ وزیر اعظم تو پانچ سال تک رہے، لیکن ان کی ساکھ دو سال میں ہی ختم ہو گئی۔ یہ خطرہ کہیں وزیر اعظم نریندر مودی کے سامنے نہ پیدا ہو جائے، یہ سوچنا اور سمجھنا خود وزیر اعظم نریندر مودی کے لیے ضروری ہے اور ان کے وزیر خزانہ ارون جیٹلی کے لیے بھی ضروری ہے۔ ہم بجٹ کا انتظار بہت امید بھری نگاہوں سے کر رہے ہیں۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *