اوما بھارتی ہندوئوں کے جذبات سے کھیل رہی ہیں

Share Article

راج کمار شرما
p-9bگنگا کے نام پر بیان بازی کرنے والی اوما بھارتی کی سناتن دھرم کے عقائد پر کی گئی بیان بازی پوری مودی سرکار کو عوام کی نظروں میں گرانے کے ساتھ ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کے گلے کی ہڈی بن سکتی ہے ۔ گنگا کنارے وسرجن روکنے کے لئے مودی سرکار کی ’’ نو رتن‘‘ کہی جانے والی سادھوی اوما بھارتی کے بیا ن کا دیوتائوں کی زمین اتراکھنڈ میں مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔مذہبی نگری ہریدوار،رشی کیش میں مختلف تنظیموں اور اداروں نے میٹنگیں کرکے مذمت کی اور خبردار کیا کہ اگر ایسا ہوا تو گنگوتر ی سے گنکا ندی تک تحریک چلائی جائے گی۔ ہریدوار کے اہم سماجی کاموں سے منسلک گہر ااثر رکھنے والے ’’ شری جے رام ادارے‘‘ کے پیٹھا دھیشور،اتراکھنڈ سنسکرت یونیورسٹی کے بانی وائس چانسلر برہم سروپ نے سادھو ی اوما کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے بیان سے پوری مودی سرکار بے نقاب ہوتی ہے۔ سرکار کے ایک وزیر کے ذریعہ پوری سناتن تہذیب کو مجروح کرنے والا بیان دینا ،سناتن اور ہندو تہذیب کے خلاف ہے ۔ گنگا کا سورگ سے ہوکر ہمالیہ مارگ سے گزرنا ہی نوع انسان کو نجات دینے کے لئے ہوا تھا ۔بھاگیرتھ کے اجداد کو نجات دینے سے لے کر آج تک نوع انسان کو اس کے عقیدے کے مطابق گنگا سب کو نجات (موکش) پہنچا رہی ہے۔ سرمایا داروں کے ہاتھ کی کٹھ پتلی کی شکل میں کام کر رہی اوما عوامی جذبات بھڑکانے والا بیان دے کر عوام کو اصل ایشو سے بھٹکا نا چاہتی ہیں۔برہم چاری نے کہا کہ سادھوی ہونے کی وجہ سے اوما میں ’سناتن سنسکرتی‘ اور’ لوک سنسکرتی‘ کی سمجھ کی کمی ہے۔ تریوینی گھاٹ پر گرنے والا گندہ نالا سمیت دھرم نگری میں گنکا کو گندہ کرنے والے نالے کیسے گرنا بند ہوں، کانپور ، بنارس میں گر رہے زہریلے کوڑے کو کیسے روکا جائے،اس پر سرکار کو ٹھوس پہل کرنی چاہئے۔ ایسا نہ کرکے مودی سرکار اور اس کی وزیر اوما عوامی جذبات سے کھیل رہی ہیںجو بالکل غلط ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں قوت ارادی کی کمی ہے ۔
ان دنوں گنگا ندی کو لے کر وزیر برائے آبی وسائل اوما بھارتی کافی سرخیوں میں ہیں۔ اس کی وجہ سپریم کورٹ نہیں بلکہ گنگا ندی پر ہور رہی سیاست ہے۔ ’نو دن چلے ڈھائی کوس‘ کی کہاوت کے مصداق مودی سرکار نے گنگا کی صفائی کو ایک طرف تو وزیر اعظم کا ’ڈریم پروجیکٹ‘ اعلان کر رکھا ہے تو دوسری طرف سادھوی اوما جو اس وزارت کی سربراہ ہیں صرف زبانی تیر چلا کر لوگوں میں ہلچل پیدا کر رہی ہیں۔ اسی وجہ سے ریاستوں سے تعاون بھی نہیں مل پارہا ہے۔ ریاستوں میں انہیں کوئی تعاون نہ ملنے کی وجہیں بھی بہت ساری ہیں جس کا چرچا پچھلے دنوں گنگا اتھارٹی کی میٹنگ میں ہوا جس پر پردہ ڈالنے کے لئے میٹنگ میں پہلے صحافیوں کو بلایا گیا پھر میٹنگ کو ایک گھنٹے تک یعنی اس وقت تک ملتوی کرایا گیا جب تک کہ ریاست اتر پردیش جیسی بڑی ریاست کے نمائندے وہاں سے رخصت نہیں ہو گئے۔ اس میٹنگ میں اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہریش راوت کو چھوڑ کر کسی بھی وزیر اعلیٰ نے حصہ نہیں لیا۔ انہیں پریس میٹنگ میں شامل نہیں کیا گیا۔ کل ملا کر گنگا ندی کو لے کر ان دنوں کام کم اور سیاست زیادہ ہو رہی ہے ۔ جس پر عدالت بھی ناراضگی ظاہر کر چکی ہے۔
مذہبی شہر ہریدوارمیں ’’ آل انڈیا برہمن فیڈریشن ‘‘ کے رانی پور موڑ دفتر میں ہوئی میٹنگ میں ’’ مہیلا برہمن فیڈریشن ‘‘ کی قومی صدر پونم بھگت نے کہا کہ فالتو بکواس اور سناتن سنسکرتی مخالف ہونے کی وجہ سے قومی سطح پر سادھوی اوما بھارتی کی مخالفت کی جائے گی۔ڈاکٹر راجندر پاراشر نے روایت توڑنے کا الزام لگاتے ہوئے اوما سے استعفیٰ دینے کی مانگ کی ۔ مذہبی شہر ہریدوار میں زائرین کی میٹنگ ’’ واسو دیو ‘‘ بھون میں ہوئی۔ اس میںچراغ کیرتی پال،ایشانت وششٹ، شانتن،گورو جھا، شیوم سوتریے،شری کانت،پرشانت وغیرہ نے بیان کی مذمت کی۔ تیرتھ مریادہ رکشا سمیتی کی میٹنگ سبزی منڈی دفتر میں ہوئی۔ صدر سنجے چوپڑا نے مانگ کی کہ وزیر اعظم خود ہی اوما کو گنگا سے جڑی وزارت سے ہٹائیں ۔ اسٹیٹ یوتھ کانگریس نے سبھاش گھاٹ پر پردیپ اگروال کی صدارت میں میٹنگ کی۔اس میں فیصلہ لیاگیا کہ اوما کے ہریدوار آنے پر کالے جھنڈے دکھا کر مخالفت کی جائے گی۔ اجے جیسوال ، کارتک شرما، ویمل گپتا ، اشیش گوسوامی وغیرہ نے بیان کی مذمت کی۔ ’جن سنگھرش مورچہ ‘ کے صدر گلشن کھتری نے کہا کہ اوما سنت ہوتے ہوئے بھی گنگا کی تاریخ بھول گئی ہیں۔ویاپار منڈل کی سنیل سیٹھی کی صدارت میں ہوئی میٹنگ میں تاجروں نے کہا کہ اگر یاتری گنگا کنارے پر نہیں آئیں گے تو ان کا کارو بار ٹھپ ہو جائے گا ۔ شہر دفتر میں ہوئی میٹنگ میں گلشن بھسین،انوپم تیاگی، سچن اروڑا، شلبھ گپتا وغیرہ نے اظہار خیالات کئے ۔ بڑا بازار ویاپار منڈل کی میٹنگ میں صدر اروند ، جنرل سکریٹری ہمانشو ،راگھو متل،وکاس شرما نے انتباہ دیا کہ اوما روایات سے کھیلنے کی کوشش نہ کریں۔ بی جے پی گنگا سیل کے کو آرڈینیٹر پروین شرما نے کہا کہ روایتوں کو نہیں بدلا جاسکتاہے۔ اوما بھارتی چاہتی ہیں کہ استھی وسرجن وہاں سے ہو جہاں پانی وافر مقدار میں ہو۔ہریدوار میں بھرپور پانی ہے۔اس لئے یہاںاستھی کے عمل کو روکا نہیں جاسکتا۔کنکھل میں ہوئی گنگا سیل کی میٹنگ میں ونود مشرا ، سنجنا شرما، نتن شکلا ، سچن گوتم ، مدھو رانی ،بالا دیوی ۔ پنکج چھاوڑا نے اظہار خیال کیا۔
گنگا میں استھی وسرجن پر روک لگائے جانے کے تعلق سے تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے راہل پرینکا بریگیڈ نے مرکزی آبی وسائل کی وزیر اوما بھارتی کا پتلا جلانے کا فیصلہ کیاہے۔ یہ جانکاری دیتے ہوئے برگریڈ کے قومی صدر اور اترا کھنڈ اسٹیٹ کنسٹرکشن ایجیٹیٹر آنر کونسل‘ کے نائب صدر دھرمیندر پرتاپ نے بتایا کہ 31اکتوبر کو دہلی کے جنتر منتر پر اوما بھارتی کا پتلا جلایا جائے گا۔ جبکہ بریگیڈ سے جڑے کارکنان بھی ملک کے مختلف حصوں میں پتلا جلا کر اوما سے مخالفت کا اظہار کریں گے۔ دھیریندر پرتاپ نے بتایا کہ اوما بھارتی کے پتلا جلانے کا کام جنتر منتر پر شروع ہوگا۔ اس پروگرام کے تحت ملک بھر میں 101پتلے جلائے جائیں گے۔ دھریندر پرتاپ نے بتایا کہ قدیم زمانے سے گنگا میں استھی وسرجن ہوتا رہا ہے اور اب آلودگی کے بہانے اس پر روک لگانے کا فیصلہ لے کر اوما بھارتی ہندوئوں کے جذبات سے کھیل رہی ہیں۔ہمالیہ کی خاک چھاننے کی تاریخ رچنے والے مودی -اوما کی سرکار سے ’سناتنموکش‘ حاصل کرنے کی روایت سے کھلواڑ کئے جانے کی کارروائی سے سب سے زیادہ بابا وشو ناتھ کی نگری کاشی کے دانشور حیران ہیں۔ چونکہ کاشی شمشان موکش کے لئے ہی جانی جاتی ہے ۔اوما کے بیان کی ہر طرف کرکری ہورہی ہے۔ یہ بات وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی پتہ ہے پھر سادھوی کو اس طرح کی چھوٹ ملنے پر لوگ حیران ہیں۔ سیاسی معاملے کے ماہرین مان رہے ہیں کہ سرکار مہنگائی ،کالادھن جیسے ایشو پر سے عوام کا دھیان ہٹانے کے لئے اوما کو مہرے کی طرح استعمال کررہی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *