علماء و صوفیا نے ایودھیا کا دورہ کیا 

Share Article


اگرمعاملہ باہمی بات چیت اور امن کے ساتھ نتیجہ خیز ہوتو ٹکراؤ سے بہر صورت بہتر ہے۔ یہ باتیں بابری مسجد رام جنم بھومی کے بارے میں کئی طبقوں کی طرف سے آتی رہی ہیں۔ سنجیدہ طبقہ اسی کا دعویدار ہے۔ملک کے حالات اس وقت انتہائی نازک ہیں اور ایسے میں کسی مسئلے کو لے کر الجھنا اچھی بات نہیں ہے۔اس نکتے کو دینی طبقہ کے افراد بخوبی سمجھتے ہیں۔ چنانچہ اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے گزشتہ دنوں متعدد افراد پر مشتمل ایک وفد جس میں مفتیان، صوفیا، علماء اور حفاظ شامل تھے ایودھیا کا دورہ کیا اور حالات کا جائزہ لیا۔ اس وفد نے اس بات کا جائزہ لیا کہ اگر اس مسئلے کا حل شریعت میں موجود ہے تو اس کواختیار کرنے کا کیا طریقہ ہوسکتا ہے ۔

وفد نے بابری مسجد کے مدعی اقبال انصاری سے بھی ملاقات کی اور اس اہم موضوع پر ان سے تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر انصاری نے کہا کہ جو سپریم کورٹ کا فیصلہ آئے وہ ہمیں تسلیم ہے اور اگر پورے ملک کے علماء متفقہ طور پر یہ کہتے ہیں کہ شرعی طور پر مسجد کو کسی اور استعمال میں دینا جائز ہے تو اس پر غور کیا جاسکتا ہے۔اس موقع پر وفد میں شامل قاری یوسف عزیزی نے کہا کہ مسجد کی تعمیر 492 سال قبل کی گئی تھی اور یہ ملکیت مسجد کی ہے ،اگر وہاں پر مندر ہوتا تو اس کا حل اب تک ہوگیا ہوتا۔
ایودھیا کے رہنے ایدووکیٹ رام دیو یادو نے کہا کہ سیاسی پاٹیوں نے اپنے سیاسی مفاد کی خاطر ایودھیا کو تخت مشق بنا لیا ہے ،ان پارٹیوں کو رام مندر سے کسی قسم کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ بلکہہندواور مسلمانوں کو لڑ اکر اپنی سیاسی روٹیاں سینکنا چاہتی ہیں۔وہیں ایودھیا کے مفتی انوار احمد نعیمی نے وفد سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایودھیا تنازعہ کا حل جتنی جلد ہوسکے کر لینا چاہئے۔تاکہ ہندوستان میں ہندو مسلم کا تنازعہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *