ادے پور فرقہ وارانہ تشدد ، گجرات فسادات کا دوسرا رخ

Share Article

اصغر علی انجینئر
پیپلز یونین فار سول لبرٹیز (پی یو سی ایل) کی راجستھان کے ادے پورے ضلع کے ساردا نام کے قصبے میں ہوئے فرقہ وارانہ تشدد کی جانچ رپورٹ میرے سامنے ہے۔ یہ تشدد ایک مینا آدیواسی کے قتل کے بعد بھڑکا۔ یہ قتل خالصتاًمجرمانہ فعل تھا۔ پی یوسی ایل کی جماعت میں سینئر ایڈوکیٹ رمیش نندوانا، ونیتاسریواستو، ارون ویاس، شیام لال ڈوگرا، شری رام آریہ، ہیم لتا، راجیش سنگھ اور رشید شامل تھے۔ اس قصبے میں چند سال قبل بھی فرقہ وارانہ تشدد ہواتھا۔ رپورٹ کے مطابق 2جولائی کو شہزاد خان، اور اس کے دو ساتھیوں نے موہن مینا کا قتل کردیا۔ موہن مینا غیر قا نونی شراب کا دھندہ کرتا تھا اور شراب پینے کے بعد ہوئے جھگڑے میں اس کا خون ہوگیا۔ اس کے بعد تین دنوں تک (3سے5جولائی تک) آدیواسیوں نے منصوبہ بند طریقے سے مسلمانوں کی دکانوں کو نذرآتش کیا۔ جن مسلمانوں کی دکانیں جلائی گئیں، ان کا قتل سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ پھر 8جولائی کو قریب میں واقع بوری پال کے بی جے پی لیڈر امرت لال مینا اور ان کے ساتھیوں نے اعلان کیا کہ مسلم خاندانوں کو تباہ وبرباد کرنا ان کا اولین مقصد ہے۔
علاقے کے ایس ڈی ایم اور ڈی ایس پی نے دونوں فریق کی میٹنگ بلائی اور مسئلے کا حل نکالنے کی پیشکش کی۔ میٹنگ میں آدیواسیوں کے نمائندے، جو سبھی بجرنگ دل کے رکن تھے، نے کہا کہ وہ مسلم خاندانوں کو تباہ کرنے کا ارادہ اسی وقت ترک کریںگے جب مقامی مسلمان یہ اعلان کریں کہ وہ موہن لال مینا کے قتل میں شامل تینوں ملزموں کا مکمل بائیکاٹ کریں گے اور اس کی اطلاع اخبارات میں شائع کرائی جائے گی۔ اگرچہ اس مطالبہ کا کوئی قانونی جواز نہیں تھا اور ملزموں پر قانون کے مطابق مقدمہ چلایا جانا چاہئے تھا، لیکن امن وسکون برقرار رکھنے کے لئے مقامی مسلمانوں نے اس مطالبہ کو تسلیم کرلیا۔تینوں ملزموں کو برادری سے باہر کرنے کا اعلان کردیا گیا ۔ اس بارے میں ساردا کے تحصیل دار کو مطلع کیا گیا اور ادے پور سے شائع ہونے والے ایک قومی روزنامے میں یہ خبر چھپوائی گئی۔ پی یو سی ایل کی رپورٹ کے مطابق ہندو تنظیموں کے بہکاوے میں آکر آدیواسیوں نے اپنا وعدہ نہیں نبھایا اور 18جولائی کو قصبے میں بڑے پیمانے پر ایسے پرچے تقسیم کئے گئے ، جن میں کہا گیا کہ آدیواسی مسلم خاندانوں کے خلاف اپنی لڑائی جاری رکھیں گے۔ پی یو سی ایل نے ایسے ثبوت اکٹھے کئے ہیں ، جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ 18جولائی سے 24جولائی کے درمیان مختلف تنظیموں کے ذریعہ علاقہ کے آدیواسیوں کو ہتھیار تقسیم کئے گئے۔ رپورٹ کے مطابق پال ساردا، پال سائی پور سمیت کئی گاؤوں میں ریٹائرڈ ٹیچر دھن راج مینا اور پنچایت کے نائب سکریٹری کالو شنکر مینا نے ہتھیار تقسیم کئے۔
ساردا کے مسلمانوں کو جب ان سرگرمیوں کا پتا چلا تو انہوں نے اعلیٰ افسران اور مقامی لیڈروں کو اس کی اطلاع دی اور درخواست کی کہ قصبے میں سیکورٹی کے سخت بندوبست کئے جائیں۔ اس کے بعد 25جولائی کو دوپہر تقریباً چار بجے بڑی تعداد میں آدیواسی اکٹھا ہوگئے اور مسلمانوں کی دکانوں اور مکانوں پر حملے کرنے لگے۔ ان میں سے ایک مکان سبکدوش پرنسپل احمد حسین کا تھا، جنہیں سنگ باری میں سنگین چوٹیں بھی آئیں۔ یہ افواہ پھیلائی گئی کہ ایک مسلم نے آدیواسیوں پر گولی چلادی، لیکن بعد میں پولس نے اس افواہ کو صحیح نہیں پایا۔ آدیواسی ڈھول بجاتے ہوئے اکٹھا ہوکر اپنے ساتھیوں کو مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لئے اکسا رہے تھے، لیکن انتظامیہ نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ آدیواسی مسلم محلوں پر حملے کرتے رہے۔ سیکورٹی کے لئے پولس مسلمانوں کو تھانے لے آئی۔ موقع پاکر آدیواسیوں نے خالی مکانات کو خوب لوٹا اور ان میں آگ لگادی۔ ایسے مکانات کی تعداد تقریباً70بتائی جاتی ہے۔ سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ضلع انتظامیہ نے تشدد کی روک تھام کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ جس وقت مسلمانوں کے گھرجلائے جارہے تھے، اس وقت ساردا میں ضلع مجسٹریٹ، پولس سپرنٹنڈنٹ اور دیگر افسران موجود تھے۔ ضلع کے مذکورہ اعلیٰ افسران آدیواسیوں کے ذریعہ مسلمانوں کے گھروں کو لٹتا اورجلتا دیکھتے رہے۔
چونکانے والی بات یہ ہے کہ ان افسران کے خلاف آج تک ریاست کے وزیر اعلیٰ یا وزیر داخلہ کے ذریعہ کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ میری درخواست پر مسلمانوں کا ایک اعلیٰ سطحی وفد پروفیسر محمد حسن اور پروفیسر سلیم انجینئر کی قیادت میں دو فساد متاثرین کے ساتھ وزیر اعلیٰ سے ملا اور ان سے درخواست کی کہ وہ ضلع کے ان اعلیٰ افسران کو معطل کریں، جن کے  سامنے مسلمانوں کے 70مکانات لوٹے اور جلائے گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ اس معاملے کی جانچ کرائیںگے۔ راجستھان میں کانگریس کی حکومت ہے۔ مسلمانوں نے گزشتہ الیکشن میں کانگریس کو اپنی پوری حمایت دی تھی، کیونکہ انہوں نے ریاست میں بی جے پی کے دور اقتدار میں ہوئے بھگواکرن کو دیکھا اور بھگتا تھا۔ گجرات کے فسادات کو مد نظر رکھ کر کانگریس کی قیادت والی یوپی اے حکومت فرقہ وارانہ تشدد قانون تیار کررہی ہے، تاکہ مستقبل میں گجرات جیسے دلدوز حادثات پیش نہ آئیں۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ جب مسلمانو ںکے گھر جلائے جارہے تھے، تب وہاں ضلع کے اعلیٰ حکام کے علاوہ ایک کانگریسی رکن اسمبلی بھی موجود تھا۔ یہ ممبر اسمبلی بھی مینا آدیواسی ہے ۔ کیا مرکزی حکومت واقعی فرقہ وارانہ فسادات پر روک لگانے کی خواہش مند ہے؟ ادے پور کے افسروں نے جس طرح کا سلوک کیا، اس سے کئی سوال کھڑے ہوتے ہیں۔ کیا وزیر اعلیٰ کو اس سنگین حادثہ کی اطلاع نہیں تھی؟ اگر نہیں تو متعلقہ افسروں نے انہیں اندھیرے میں کیوں رکھا اور اگر ہاں تو پھر وزیر اعلیٰ نے قصوروار افسروں کے خلاف سخت کارروائی کیوں نہیں کی؟
گجرات میں پولس نے فسادیوں کا ساتھ دیا تھا۔ کیا کانگریس کی اقتدار والی ریاست راجستھان کی پولس کا سلوک کچھ الگ تھا؟ یہ دلیل دی جاسکتی ہے کہ گجرات میں جو کچھ ہوا، اسے درپردہ حکومت کی حمایت حاصل تھی۔ راجستھان کے معاملے میں شاید ایسا نہیں ہواہوگا، لیکن کیا ہم یہ امید نہیں کرسکتے کہ وزیر اعلیٰ کو زیادہ چوکنا رہنا تھااور فرقہ وارانہ سوچ رکھنے والے افسروں کے خلاف سخت کارروائی کرنی تھی۔ جب تک حکومت نہیں چاہے گی، تب تک کسی ریاست میں کبھی کوئی فساد یا کوئی بڑا فرقہ وارانہ حادثہ پیش نہیں آسکتا۔ بہار اور مغربی بنگال اس کی واضح مثال ہیں۔ مسلم اور یادو ووٹوں کے سہارے اقتدار میں آنے کے بعد لالو یادو نے بہت آسانی سے ریاست میں فرقہ وارانہ تشدد پر قابو پالیا تھا۔ انہوں نے صاف کردیا کہ اگر 24گھٹنے کے اندر فرقہ وارانہ فسادات پر قابو نہیں پایا گیا تو متعلقہ پولس افسروں کو فوراً برخاست کردیاجائے گا۔ انہوںنے یادؤں کو بھی متنبہ کیا کہ اگر وہ اقتدار کا مزہ لوٹتے رہنا چاہتے ہیں تو فرقہ وارانہ تشدد بھڑکانے یا اس میں حصہ لینے سے باز آئیں۔
لالو یادو کے 15سالہ دور اقتدار میں بہار میں ایک بار بھی فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوا۔ چونکہ نتیش کمار مسلمانوں کو لالو کیمپ سے اپنے کیمپ میں لانا چاہتے ہیں، اس لئے انہوں نے بھی ابھی تک بہار کو فرقہ وارانہ تشدد سے بچا رکھا ہے۔یہی نہیں، مسلمانوں کو اپنی جانب مائل کرنے کے لئے نتیش کمار نے یہ طے کیاکہ بھاگلپور فسادات کے قصورواروں کو سزاملے۔ لالو نے اس کام میں کوئی دلچسپی نہیں لی تھی، کیونکہ زیادہ تر ملزم یادو تھے۔ اسی طرح ایک وقت میںمغربی بنگال فرقہ وارانہ تشدد کا بڑا مرکز تھا، لیکن بایاں محاذ حکومت نے اقتدار میں آتے ہی ایک سرکولر جاری کیا کہ جو پولس افسران24گھنٹے کے اندر فرقہ وارانہ تشدد روکنے میں ناکام رہتے ہیں، انہیں خود کو معطل سمجھنا چاہئے۔ مغربی بنگال میں بایاں محاذ تیس سالوں سے بھی زیادہ عرصے سے حکمرانی کررہا ہے، لیکن اس مدت میں ریاست میں ایک بار بھی فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوا۔صرف ایک بار مرشد آباد میں فرقہ وارانہ تشدد کا  واقعہ پیش آیا تھا، لیکن اس پر بہت جلد قابو پالیا گیا تھا۔
فرقہ وارانہ تشدد کے معاملے میں حکومت کا ارادہ بہت اہم ہوتا ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ادے پور کے ان خطاوار افسروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی، جن کی موجودگی میں مسلمانوں کے مکانات لوٹ کر نذر آتش کردئے گئے۔ راجستھان میں دس سال تک بی جے پی کی حکمرانی رہی۔ اس دوران آرایس ایس ذہنیت کے حامل ریاستی پولس اور انتظامی خدمات کے نہ جانے کتنے افسروں کو آئی اے ایس اور آئی پی ایس میںپرموٹ کیا گیا، اس سے ریاست کا نظم ونسق درہم برہم ہوگیا اور آر ایس ایس ، وشو ہندوپریشد اور بجرنگ دل وغیرہ جیسی تنظیمو کی طاقت میں زبردست اضافہ ہوا۔جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ گزشتہ کچھ دہائیوں سے آر ایس ایس آدیواسی علاقوں میں بہت سرگرمی سے کام کررہا ہے اور حیرت کی بات نہیں کہ مسلمانوں کے گھروں میں لوٹ مار اور آگ زنی کرنے والے آدیواسی ہندو تنظیموں کے رکن تھے۔ راجستھان کے وزیر اعلیٰ کی شبیہ ایک سیکولر لیڈر کی ہے۔ وہ یقینی طور پر ان تمام باتوں سے بخوبی آگاہ ہوںگے اور انہیں ضلع سطح کے افسروں کو واضح الفاظ میں یہ پیغام دینا چاہئے کہ پولس اور انتظامیہ میں فرقہ واریت کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اپنی سیکولر شبیہ کی وجہ سے راجستھان میں بی جے پی کے کئی سالوں کے اقتدار کے بعد کانگریس اقتدار میں آئی ہے اور اسے ریاستی انتظامیہ کو فرقہ واریت کے چنگل سے آزاد کرانے کے لئے سنجیدگی سے اقدامات کرنے چاہئیں۔مگرافسوس کا مقام ہے کہ یہ سنجیدگی کہیں دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
مسلم دانشوروں کوفرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن قائم کرنے میں اہم رول ادا کرنا ہوگا اور حکومت کو اس بات کے لئے مجبور کرنا ہوگا کہ وہ قصوروار افسروں کے خلاف کارروائی کرے۔وزیر اعلیٰ کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ فرقہ وارانہ ذہنیت رکھنے والے افسروں کو ہٹایا جائے اور ان کی جگہ پرایسے غیر جانبدار اورفراخ دل افسروں کو تعینات کیا جائے، جو فرقہ وارانہ خیر سگالی اور امن وشانتی کو فروغ دیں۔ اگر ادے پور کے ضلع مجسٹریٹ اورپولس سپرنٹنڈنٹ کو فوراً معطل کردیا جاتا ہے تو نوکر شاہی تک صحیح پیغام جائے گا۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو فرقہ پرست نوکر شاہوں کی ہمت بڑھے گی اور راجستھان کو دوسراگجرات بننے میں دیر نہیں لگے گی۔ بی جے پی یہی چاہتی ہے۔ اس نے اپنے دس سال کے دور اقتدار میں فرقہ واریت کا بنیادی ڈھانچہ تیار کردیا ہے۔ ابھی بھی دیر نہیں ہوئی ہے۔ اگر وزیر اعلیٰ اپنی شبیہ کو بے داغ بنائے رکھنا اور کانگریس کو ایک سیکولر پارٹی کی شکل میں پیش کرنا چاہتے ہیں تو انہیں خاموش نہیں بیٹھنا چاہئے۔ میں چالیس سال سے فرقہ وارانہ خیر سگالی کے لئے کام کررہا ہوں اور میرا یہ تجربہ ہے کہ اصولی طور پر کانگریس سیکولرازم کی پابند ہے لیکن اس کا اس یہ روپ اکثر دکھائی نہیں دیتا۔ اس کے برخلاف جنتا دل، آرجے ڈی اور دیگر پارٹیاںفرقہ واریت کے خلاف بولتی ہیں اور اس سے لڑتی بھی ہیں۔

Share Article

One thought on “ادے پور فرقہ وارانہ تشدد ، گجرات فسادات کا دوسرا رخ

  • October 2, 2010 at 8:53 pm
    Permalink

    آپ کا روزنامہ الحمدلللہ بہت عمدہ و اعلی ہیں
    محمد شا ہ نظر
    دہرادون اتراکھنڈ
    9027893404

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *