27سال سے کومامیں رہنے والی منیرہ عبداللہ کویہ سنتے ہی اچانک آیاہوش

Share Article

uae

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں سال 1991 میں منیرہ عبداللہ نامی ایک خاتون سڑک حادثے کا شکار ہونے کے بعد کوما میں چلی گئی تھیں۔27 سال تک کوما میں رہنے کے بعد انہیں آخر کار ہوش آ گیا ہے۔سڑک حادثے میں زخمی ہوئی خاتون قریب 27 سالوں تک کوما میں رہی، لیکن ایک دن اچانک ان کوہوش آ گیا۔ اسے ایک چمتکار جیسی واپسی بتایا جا رہا ہے۔سڑک حادثہ کے دوران منیرہ کی عمر 32 سال تھی۔ بی بی سی کی خبر کے مطابق جب وہ اپنے بیٹے کواسکول لینے کے لئے جا رہی تھیں، تب انہیں ایک بس نے ٹکر مار دی تھی۔ حادثے میں ان کے دماغ میں بہت اندرونی چوٹیں آئی تھیں۔
منیرہ عبداللہ کے بیٹے عمر ویبیر جو حادثے کے وقت صرف 4 سال کے تھے اب 32 سال کے ہو گئے ہیں۔ عمر کہتے ہیں، ’میں نے کبھی ہار نہیں مانی کیونکہ پیچیدہ بیماری سے متاثرہ ہونے کے باوجود مجھے ہمیشہ ایسا لگتا تھا کہ ان کے جسم سے ٹھیک ہونے کے اشارے مل رہے ہیں۔بہت سے ڈاکٹروں نے ہمیں امید چھوڑنے کو کہا، لیکن میں نے امید نہیں چھوڑی‘۔

منیرہ عبداللہ کا علاج جرمنی کے ایک اسپتال میں چل رہا تھا۔ اس دوران ان کا بیٹا ان کو دیکھنے سعودی عرب سے جرمنی جاتا رہتا تھا۔

جرمنی میں خاتون کی کئی سرجری کی گئی۔ اس کے قریب ایک سال بعد ایک دن اسپتال میں بیمارخاتون کے بیٹے کی کسی سے بحث ہو گئی۔ اسی دوران خاتون کو ہوش آ گیا۔ عمر نے کہا ’ماں کو لگا کہ میں خطرے میں ہوں، اس کی وجہ سے انہیں جھٹکا لگا اور ہوش میں آ گئیں، وہ عجیب عجیب سی آوازیں نکال رہی تھیں، تبھی میں نے ڈاکٹروں کو بلایا، ڈاکٹروں نے بتایا کہ وہ ٹھیک ہیں، گھبرانے کی بات نہیں ہیں۔لیکن پھر تین دن کے بعد میں نے اچانک سنا کہ کوئی میرا نام پکار رہا ہے، اور وہ میری ماں ہی تھیں۔ میں خوشی سے اچھل پڑا۔ میرا نام ہی وہ لفظ تھا جو انہوں نے ہوش میں آنے پر سب سے پہلے بولا‘۔

اس واقعے کے بعد خاتون اور بہتر ہوتی گئیں۔عمر نے مزید کہا کہ ان کی ماں کو مئی میں ہوش آ گیا تھا، لیکن ہم نے ان کی حالت اور بہتر ہونے تک انتظار کیا۔ اب وہ بالکل ٹھیک ہیں اور یواے ای میں گھر میں ہمارے ساتھ رہ رہی ہیں۔

منیرہ عبداللہ کا علاج کرنے والے فریڈیمان مولر کہتے ہیں، ’منیراعبداللہ کا کیس تھوڑا سا الگ تھا، لیکن ہم نے ان کا علاج کرنے میں اپنی طرف سے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔منیرہ عبداللہ کے جسم میں بہت کم از کم حرکتیں محسوس کی جا سکتی ہیں اور ایسے کیس میں بہت کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ مریض کے شعور دوبارہ واپس آ جائے۔
اسپتال میں 27 سال رہنے کے دوران عبداللہ کو ٹیوب کے ذریعے خوراک اور پانی دیا جاتا تھا اورفیزیوتھراپی بھی کرائی جاتی تھی۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کا علاج کرنے والی ٹیم نے ہر صورت کو ذہن میں رکھتے ہوئے علاج کیا اور اس میں ان کی کمزور ہوتی پٹھوں کا بھی خاص خیال رکھا۔ انہیں وہیل چیئر پر فیزوتھراپی کے لئے لے جایا جاتا تھا تاکہ وہ کچھ قدرتی چیزوں جیسے چڑیوں کی آواز سن سکیں اور محسوس کر سکیں وغیرہ۔
27سال سے کومامیں رہنے کے بعد خاتون کوہوش آنے کی خبرانٹرنیشنل میڈیاکی سرخیوں میں بنی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق، یہ منیرہ عبداللہ کی سب سے پہلے نیوزابوظہبی کے نیشنل نیوزمیں آئی تھی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *