امریکی ڈرون حملے اور حکومت پاکستان کی مجرمانہ خاموشی

Share Article

محمود ایاز(پاکستان)
آج اگر امریکہ اپنی جنگ پاکستان منتقل کرنے میں کامیاب ہوا ہے تو اس جرم میں گزشتہ حکمران اور موجودہ حکمران، دونوں برابر کے شریک ہیں۔ پاکستان کس قدر مشکل حالات سے دوچار ہو چکا ہے اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ پشاور،مظفرآباد، لاہور سے لیکر کراچی تک خود کش حملہ آوروں نے تباہی مچا رکھی ہے، امریکی درندوں پر مشتمل بلیک واٹر کے دہشت گرد بھی طالبان کی آڑ میں پاکستانیوں کو اپنی درندگیوں کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ایف آئی اے کے دفاتر ہوں، آئی ایس آئی کے دفاتر ہوں، عوامی اجتماعات ہوں، مارکیٹس ہوں، بینک ہوں، ہوٹلز کی بلڈنگیں، فوجی مرکز، مسجدیں ہوں یا مدرسے دہشت گرد ہر جگہ کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ پاکستانی فوج وزیرستان اور قبائلی علاقوں میں اپنے ہی لوگوں سے جنگ کرنے پر مجبور کردی گئی ہے۔ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ پاک فضائیہ پاکستان کی سرحدات کے اندر اپنے ہی علاقوں پر بمباری کررہی ہے۔ پاکستانی قوم کے ایک ہزار سے زائد جگر گوشے لاپتہ ہوگئے، جن کا آج تک کوئی نام و نشاں نہیں ملا اورحیرت کی بات یہ ہے کہ قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں میں اضافہ ہوگیا ہے جو کہ پہلے ہی پاکستانی عوام میں شدید غم و غصہ کا سبب بنے ہوئے ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پہلا ڈرون حملہ 18 جون 2004 میں ہوا اور تب سے اب تک 114 ڈرون حملے پاکستانی سر زمین پر ہو چکے ہیں، جن میں 14 القاعدہ کے ارکان اور باقی 1379 بے گناہ پاکستانی مارے جا چکے ہیں۔ ڈرون حملوں کے خلاف حکومت پاکستان کی جانب سے کیا جانے والا احتجاج بھی انتہائی کمزور ہے، بلکہ ڈرون حملوں کے بارے میں امریکی سینٹر کال لیون نے تو باقاعدہ پاکستانی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستانی قیادت نجی طور پر ڈرون حملوں کی حامی ہے، جبکہ عوام ڈرون حملوں کے مخالف ہیں اور صرف عوام کو مطمئن کرنے کے لیے پاکستانی قیادت ڈرون حملوں کی مخالفت کرتی ہے اور اگر کال لیون کی بات پر غور کیا جائے تو زمینی حقائق بھی یہی ہیں۔
ڈرونز کے دو کمپوننٹ ہیں۔ ان میں سے ایک امریکا میں ہے، یہ کمپوننٹ ٰ نواڈا ٰ  میں نیلس اسٹیشن میں ہے۔ یہاں امریکی ایئرفورس کا بیس ہے اور یہاں ڈرونز کو کمانڈ کیا جاتا ہے۔ بنیادی طور پر ڈرونز سیٹلائٹ گائیڈ سسٹم سے منسلک ہے۔ اس سسٹم سے مطلوبہ ٹارگیٹ کی نشاندہی کی جاتی ہے اور اسی سسٹم سے ڈرونز کو فرسٹ (q) دی جاتی ہے اور یہ مقررہ ہدف کو نشانہ بناتے ہیں۔ دوسرا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم جو پہلے پاکستان کے میریٹ ہوٹل میں تھا اب جیکب آباد کے علاقے میں ہے اور پاکستان میں جتنے بھی ڈرونز حملے ہوتے ہیں وہ اسی سسٹم کے ذریعے ہوتے ہیں، لہذا ڈرونز حملوں کا یہ کمانڈ اینڈ کنڑول سسٹم اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ ان حملوں میں پاکستانی حکمرانوں کی مرضی شامل ہے۔
امریکی ڈرون حملوں کے ذریعے 2009 میں 7 سو سے زائد بے گناہ معصوم بچے، عورتیں اور مرد شہید ہوئے۔ ڈرون حملوں کا نشانہ چند طالبان بھی بنے، مگر کیا یہ جائز ہے کہ چند طالبان رہنمائوں کو مارنے کے لیے سیکڑوں بے گناہ لوگوں کے خون سے ہولی کھیلی جائے؟ ، ایک بیت اللہ محسود کو مٹانے کے لیے سیکڑوں بے گناہ لوگوں کی زندگی چھین لی گئی۔ انہی ڈرون حملوں اور امریکی مداخلت پاکستان میں خود کش حملوں میں تیزی کا باعث بنی۔ پاکستان کے طول و عرض میں بم دھماکوں کی نئی لہر کا آغاز ہوا۔  ایک رپورٹ کے مطابق دہشت گردی کی اس جنگ میں اب تک تقریباً دس ہزار کے قریب بے گناہ لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ دھماکوں میں سیکڑوں افراد اپاہج بنا دیے گئے، مگر پاکستانی حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ وہی رٹے رٹائے بیانات سامنے آتے ہیں کہ ہمارے حوصلے پست نہیں ہوئے، دہشت گرد ناکام ہوں گے، ہم ان واقعات کی مذمت کرتے ہیں۔
مگر سوال یہ ہے کہ خود کش اور ڈرونز حملوں کی یہ لہر کب تھمے گی؟ دہشت گردی کی اس اندھی جنگ کے عوض پاکستانی عوام کب تک اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھاتے رہیں گے؟ پچھلے 8 برسوں سے امریکہ کی اس نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان ایندھن بن چکا ہے اور خود اس جنگ کی لپیٹ میں اس طرح آچکا ہے کہ کئی صدیوں تک اس کے زخم تازہ رہیں گے۔
حکومت پاکستان کو چاہیے کہ بلند بانگ دعوئوں اور مذمتی بیانات کی بجائے ایک عملی قدم اْٹھائے کہ امریکہ کی اس نام نہاد جنگ سے کنارہ کشی کر لے مگرجب چوکیدار چوروں کے ساتھ مل کر گھر میں ہونے والی نقب زنی کی واردات میں ملوث ہوں تو ایسا ممکن نہیں…!

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *