بہار پولیس کی بربریت! حوالات میں دو نوجوانوں کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالا، 5 پولیس اہلکار معطل

Share Article
Gufran-Alam-and-Taslim-Ansari

بہار کے سیتامڑھی ضلع سے پولیس کے مظالم کی خبر سامنے آئی ہے، جہاں قتل کے شک پر پولیس نے 2 نوجوانوں کو پیٹ پیٹ کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔اب مرنے والوں کا خاندان انصاف مانگ رہا ہے۔ یہ واقعہ بہار کے سیتامڑھی کا ہے جہاں مبینہ طور پر دو لوگوں کی پولیس حراست میں موت ہو گئی ہے۔ دونوں شخص کو پولیس نے چوری اور قتل کے الزام میں حراست میں لیا تھا۔

معاملہ سات مارچ کا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ پولیس حراست میں دونوں کو کافی پریشان کیا گیا۔ مرنے والوں کے جسم پر چوٹ کے نشان تھے۔ ان کے چوٹ کے ویڈیو اور فوٹو خاندان نے پولیس کو دکھائے۔جس کے بعد دونوں کے قتل کا مقدمہ درج ہوا ہے اور پانچ پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔جانکاری کے مطابق غفران عالم (30) اور تسلیم انصاری (32) کو چھ مارچ کو رامدیا گاؤں سے موٹر سائیکل کی چوری اور اس کے مالک راکیش کمار کے قتل کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔تسلیم کے خلاف مشرقی چمپارن میں چار مجرمانہ معاملے چل رہے تھے۔ وہیں غفران کے خلاف ایسا کوئی معاملہ نہیں چل رہا تھا۔

غفران کے والد منور علی کا کہنا ہے کہ جب ان کے گھر سب سو رہے تھے تو مقامی پولیس چوکی سے پانچ پولیس جیپ ان کے گھرکے باہررکی۔ پولیس اہلکار ان سے غفران کے بارے میں پوچھنے لگے۔اور وہ غفران کو پکڑ کر لے گئے۔ اس کے بعد گاؤں کے دوسرے شخص تسلیم انصاری کو بھی پولیس والے لے گئے۔انہوں نے بتایا کہ جب وہ کچھ لوگوں کے ساتھ رات کے تین بجے پولیس تھانے پہنچے تو انہیں وہاں غفران اور تسلیم نہیں ملے۔منور علی نے بتایا کہ جب ان کی بات ان کے بیٹے غفران سے کرائی گئی تو اسے بولنے میں کافی پریشانی ہو رہی تھی۔ اس نے بتایا تھا کہ پولیس نے انہیں بری طرح مارا پیٹا گیا اور ان کے پیروں کو توڑ دیا۔ غفران دو بچوں کا باپ ہے۔
bihar
منور علی نے مزید بتایا کہ جب ان کا اورتسلیم کا خاندان چھ مارچ کو شام پانچ بجے ڈمرا پولیس اسٹیشن پہنچا تو وہاں دو خواتین کانسٹیبل ملیں۔ انہوں نے بتایا کہ غفران اور تسلیمصدر اسپتال میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں کی موت ہو چکی ہے اور ان کا پوسٹ مارٹم چل رہا ہے۔ علی نے کہا کہ کسی کو بھی ان کی لاش دیکھنے نہیں دیے گئے۔ اگلے دن دونوں کی لاش خاندان کو سونپا گیا۔

مرنے والوں کی آخری رسومات سے پہلے پتہ چلا کہ ان کی لاشوں پر چوٹ کے نشان تھے۔ جس سے لگتا ہے کہ انہیں کافی ہراساں کیا گیا۔ دونوں خاندانوں کی کاغذی کارروائی میں مدد کرنے والے کالج کے طالب علم سابل رونے کا کہنا ہے کہ ان کے پاس مرنے والوں کے لاشوں کی ویڈیو اور تصویر ہیں۔ جس میں دکھا رہا ہے کہ لوہے کی کیلوں سے ان پر حملہ کیا گیا۔ دونوں کے پاؤں پر کافی چوٹ تھی۔ اب پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ خاندان والوں کا الزام ہے کہ پولیس نے بربریت کے ساتھ پیٹ پیٹ کر انہیں مار ڈالا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *