لیبیا کی قومی فوج کے ترجمان میجر جنرل احمد المسماری نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے جنوب مغربی علاقوں میں داعش تنظیم کی نقل و حرکت سامنے آئی ہے۔ اتوار کے روز ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے بتایا کہ وفاق کی حکومت کے زیر انتظام ملیشیاؤں نے لیبیا کی فوج پر بم باری کے لیے ترکی کے ڈرون طیاروں کا استعمال شروع کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت وفاق کے زیر انتظام ملیشیاؤں کے کئی لڑاکا طیاروں کے گرائے جانے کے بعد سامنے آئی ہے۔المسماری نے زور دے کر کہا کہ لیبیا کی قومی فوج طرابلس میں ملیشیاؤں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ کئی ملیشیائیں اپنے ٹھکانوں پر بم باری کے بعد روپوش ہو گئی ہیں۔
Image result for bombari on libyan army
فوجی ترجمان نے بتایا کہ داعش تنظیم نے حملوں کی کئی کارروائیاں کیں تاہم تمام کارروائیاں ناکام بنا دی گئیں اور ان کا اختتام دہشت گرد عناصر کا صحرائی علاقے میں تعاقب پر ہوا۔ فوج نے داعش تنظیم کو ساحلوں سے دور کر بھگا دیا ہے۔ اب اس کے عناصر صحرائی علاقے میں شہریوں کے خلاف رہزنی کی کارروائیوں کے لیے کوشاں ہیں۔المسماری نے بتایا کہ لیبیا کی قومی فوج ملک کے جنوب مغربی علاقوں کو دہشت گردوں کی باقیات سے پاک کرنے کی کارروائیاں کر رہی ہے۔ ان علاقوں میں دہشت گرد عناصر لیبیا کی فوج کے دباؤ کے باعث چاڈ کی اراضی کے اندر متحرک ہو رہے ہیں۔ترجمان نے باور کرایا کہ لیبیا کی قومی فوج نے فضائی حملے کیے ہیں جن میں وفاق کی حکومت کے درجنوں ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here