وسیم راشد
p-8میں سنہ 2011 کے انقلاب یعنی ’ بہار عرب‘ کے بعد پہلی بار نومبر 2014 کے آخری ہفتہ میں صدار تی انتخابات کے لیے ووٹنگ ہوئی۔واضح رہے کہ تیونس ’بہارِ عرب‘ کا نقطہ آغاز تھا اور یہی بہار عرب مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک میں انقلاب اور اقتدار کی منتقلی کا باعث بنا تھا۔صدارتی انتخاب میں ووٹ دینے والے اہل 53 لاکھ افراد میں سے 3.5 ملین ووٹروں نے حق رائے دہی کا استعمال کیا اورا چھی بات یہ ہے کہ اس دوران بدامنی کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ اس انتخاب میں کسی بھی امیدوار نے مقررہ ووٹ فیصد حاصل نہیں کیا ہے اس لئے دوسرے مرحلے کا الیکشن اگلے ماہ میں ہوگا۔دوسرے مرحلے میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے دو امیدوار الباجی اور المرزوقی کے درمیان انتخاب کرائے جائیں گے ۔دراصل تیونس آئین کے مطابق کسی بھی جیتنے والے امیدوار کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ و کم سے کم 51فیصد وو ٹ حاصل کرے جس میں 27امیدواروں میں سے کوئی بھی کامیاب نہیں ہوا۔
اس الیکشن میں سب سے زیادہ ووٹ الندا پارٹی کے امیدواار الباجی قائد السبسی کو ملے ہیں۔لیکن ان کے بارے میں کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ صدر بننے کی صورت میں ملک کو ماضی کی جانب واپس لے جاسکتے ہیں کیونکہ وہ زین العابدین بن علی کی حکومت میں عہدیدار رہ چکے ہیں۔جبکہ یہ صدارتی انتخابات اور اس سے پہلے ہوئے والے پارلیمانی انتخابات ماضی کے اسی تکلیف دہ ماحول سے باہر نکلنے کے لئے تھے ۔اگر السبسی صدر دیئے گئے تو بن علی کی تاریخ لوٹ سکتی ہے۔لیکن الیکشن کے نتائج سے لگتا ہے کہ عوام السبسی کے بارے میںایسا نہیں سوچتے ہیں۔
اس بار صدارتی انتخابات میں کامیاب ہونے والے امیدوار، بن علی کی برطرفی کے بعد ملک کے پہلے بلا واسطہ منتخب صدر ہوں گے۔یہی وجہ ہے کہ اس الیکشن کو بڑی اہمیت دی جارہی ہے اور اس کو شفاف اور پُر امن بنانے کے لئے سیکورٹی کا سخت بندوبست کیا گیا تھا ۔ صبح 8 بچے سے پولنگ بوتھ پر ووٹنگ کی کارروائی شروع کردی گئی تھی اور مسلسل 10 گھنٹوں تک ووٹنگ کا سلسلہ جاری رہا البتہ الجزائر کے سرحدی علاقوں میں صر ف پانچ گھنٹے کا وقت دیا گیا۔اس صدارتی الیکشن سے عوام اور سرکار دونوں کو بہت سی توقعات وابستہ ہیں کیونکہ تیونس پہلا ملک ہے جہاں بہار عرب کے بعد دو اہم الیکشن پارلیمانی اور صدارتی انتخاب ہوئے ہیں۔ تیونس کے وزیراعظم مہدی نے الیکشن سے دو دن پہلے یہ کہا تھا کہ ’’جسے لوگ بہار عرب کہتے ہیں ہم اس تبدیلی کے دائرے میں داخل ہونے والے پہلے لوگ ہیں اوراقتدار میں تبدیلی لانے والے ہم ہی لوگ پہلے ہوں گے اور دوسرے ممالک کے لوگ ہماری تقلید کریں گے‘‘۔اس الیکشن میں الندا پارٹی کے الباجی السبسی کے علاوہ بڑے لیڈروں میں منصف مرزوقی ، پارلیمانی سپیکر مصطفیٰ بن جعفر، ریپبلیکن پارٹی کے لیڈر احمد نجیب شابی، خاتون مجسٹریٹ کلثوم کنو اور تاجر سلیم ریاحی شامل تھے۔
آزادی کے بعد سے اب تک تیونس میں صرف دو صدر رہے ہیں۔فرانس سے آزادی کے بعد 1959 میں تیونس کا آئین بنا اور اس آئین کے تحت بابائے قوم حسن بورقیہ کو ملک کا صدر بنایا گیا۔تیونس آئین کے مطابق ہر پانچ سال میں نئے صدر کا انتخاب ہونا تھا اور پرانے صدر کو صرف تین مرتبہ ہی اپنے عہدے پر رہنے کا حق دیا گیا تھا۔اس پہلے انتخاب میں بورقیہ کا کوئی مد مقابل سامنے نہیں آیا لہٰذا وہ اتفاق رائے سے چن لئے گئے۔دوسرا الیکشن 1964 میں ہوا تو اس میں بھی انہیں اپنے عہدے پر برقرار رکھا گیا ۔پہلے ٹرم کی طرح دوسرے ٹرم میں بھی بورقیہ نے معاشی اصلاحات کے لئے کوئی کام نہیں کیا ۔ معاشی اور سیاسی صورت حال میں تبدیلی نہ ہونے کی وجہ سے 1969 کے انتخاب میں عوام نے انتخاب میں بہت زیادہ دلچسپی نہیں دکھائی ۔لیکن اس کے باجود وہ تیسری مرتبہ صدر بنا دیئے گئے۔ لیکن جب وہ 1974 میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں بھی امیدوار بننے کی خواہش ظاہر کی تو کچھ تنظیموں کی طرف سے ان پر اعتراضات کیا گیا۔ کیونکہ آئین کے مطابق انہیں چوتھی دفعہ صدر بننے کا حق نہیں تھا ۔لہٰذا میتھ میٹیکل فیلڈ کے شاذلی زویتن آگے بڑھے اور انہوں نے صدارتی امیدوار کی حیثیت سے اپنا نام پیش کیا ۔ بورقیبہ سے عوام کی ناراضگی اور تنظیموں کے اعتراض کی وجہ سے بورقیبہ کی پوزیشن کمزور تھی اور شاذلی کی جیت کا امکان روشن تھا،لیکن پھر بعد میں کیا ہوا اور شاذلی زویتن نے اپنا نام کیوں واپس لیا ،اس کے بارے میں کسی کو کچھ پتہ نہیں ہے۔انہوں نے نہات ہی خاموشی سے اس الیکشن سے خود کو الگ کرلیا اور اس طرح بورقہ کو نہ صرف چوتھی مرتبہ صدر بنا دیا گیا بلکہ وہ تاحیات ملک کے صدر مقرر کردیئے گئے اور بہارعرب تک صدر رہے۔ اس دوران یہ راز پردہ خفا میں ہی رہا کہ شاذلی زوتین نے 1974کے انتخاب میں اچانک اپنا نام واپس کیو ں لے لیاتھا۔لیکن جب 2011 میں بہار عرب کا انقلاب آیا اور زین العابدین بن علی کے خلاف بغاوت ہوئی تب شاذلی زویتن نے خود ہی اخبار والوں کو بتایا کہ جب وہ صدرارت کے امیدوار کی حیثیت سے اپنی نامزدگی کرائی تو بورقیہ کی طرف سے قتل کرنے یا شہر بدر کردیئے جانے کی دھمکی ملی۔انہیں پریشان کرنے کے لئے نیشنل انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر شپ سے معطل کردیا گیا ۔وہ جانتے تھے کہ بورقیہ نے جو دھمکی دی ہے، اس پر وہ عمل بھی کرسکتے ہیں اس لئے خاموشی سے اپنا نام واپس لے لیا اور بورقیہ صدر بنا دیئے گئے۔لیکن انتظامیہ پر ان کی پکڑ بہت کمزور ہوچکی تھی جس کی وجہ سے سیاسی و معاشی اعتبار سے ملک بہت پیچھے جارہا تھا۔جب پانی سر سے اونچا ہو گیا تب 1987 میں ان کے خلاف بغاوت ہوئی اور اس بغاوت میں زین العابدین نے صدر کا عہدہ سنبھالا ۔ان کے عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ امید کی جارہی تھی کہ وہ بورقیہ سے سبق لیتے ہوئے ان غلطیوں کو نہیں دہرا ئیں گے جو غلطیاں بورقیہ کرچکے تھے لیکن زین العابدین نے سبق لینے کے بجائے 1988 میں قانون میں ترمیم کرکے اپنے لئے بے شمار اختیارات حاصل کرلئے اور پھر اپریل1989 میں صدارتی انتخاب کرائے ،جس میں ان کا کوئی مد مقابل نہیں تھا لہٰذا وہ 99فیصد ووٹوں سے کامیاب ہوگئے۔اس دوران انہوں نے اپنے مخالفین کو دبانے کے تمام دائو پیچ اختیار کئے اور جب پانچ سال بعد اگلا الیکشن 1994 میں ہوا جس میں ان کے مد مقابل منصف مرزوقی تھے تو اس مرتبہ بھی زین العابدین نے 99.9فیصد ووٹ حاصل کرکے مرزوقی کو زبردست شکست دی۔ اس کامیابی نے زین العابدین میں زبردست خود اعتمادی پیدا کردی اور اسی لئے وہ دھیرے دھیرے ایک ڈکٹیٹر حکمراں کی شکل اختیار کرتے چلے گئے،ملک کی تمام مشینری کو اپنے مفاد میں استعمال کرنے لگے ۔ اس صورت حال نے عوام میں بے چینی پیدا کردی اور یہ مطالبات ہونے لگے کہ صدارتی انتخابات میں اپوزیشن کو شامل ہونے کے لئے سازگار ماحول بنایا جائے تاکہ وہ الیکشن میں بغیر خوف و خطر حصہ لے سکیں ۔مطالبہ کا کچھ اثر نظر آیا اور 1999 کے الیکشن میں دو حریف سامنے آئے۔ ایک پوپولر یونیٹی پارٹی کے بلحاج عمر اور دوسرے ڈیموکریٹک پارٹی کے عبد الرحمن تلیلی ۔لیکن نتیجہ وہی نکلا کہ اس مرتبہ بھی زین العابدین میں 99.45فیصد ووٹوں سے کامیاب ہوگئے۔اب بن علی کے سامنے ایک مسئلہ بہت اہم تھا کہ وہ تین مرتبہ الیکش لڑچکے تھے اور آئین کے مطابق انہیں چوتھے الیکشن میں شریک ہونے کا حق حاصل نہیں تھا۔ اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لئے 2002 میں قانون میں ترمیم کرکے اس شرط کو ختم کردیا گیا اور اس طرح سے وہ 2004 کے انتخاب میں پھر امیدوار بن کر میدان میں اترے ۔ اس مرتبہ ان کے مد مقابل تین امیدوار تھے محمد بوشیحہ، محمد علی حلوانی اور منیر باجی۔ لیکن نتیجہ اب بھی زین العابدین کے حق میںہی آیا ۔انہوں نے 94.49فیصد ووٹوں سے جیت درج کرائی۔ جب 2009 میں انتخابات ہوئے تو اس مرتبہ سیاسی پارٹیوں میں سے النھضہ، کانگریس اور لیبر پارٹی نے اس الیکشن کا بائیکاٹ کردیا ۔ان کا کہنا تھا کہ ایک ڈیکٹیٹر کے رہتے ہوئے انتخاب میں شفافیت کی توقع نہیں کی جاسکتی ہے لیکن ان کے احتجاج کو نظر انداز کرکے الیکشن کرایا گیا جس میں زین العابدین نے 89فیصد ووٹوں سے جیت حاصل کرلی لیکن یہ جیت ان کی زندگی کی آخری جیت ثابت ہوئی ۔ دو سال بعد 2011 کے ایک واقعہ نے پورے ملک میں انقلاب کی صورت حال پیدا کردی اور اس انقلاب کے نتیجے میں زین العابدین کو ملک چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ یہ انقلاب پورے خلیجی ممالک کے لئے نقطہ آغاز ثابت ہوا۔مصر،لیبیا، شام میں انقلاب برپا ہونے کے ساتھ دیگر کئی عرب ملکوں میں بھی اس کی آہٹ سنائی دی۔ اس سلسلے میں تیونس اس معنی میں خوش نصیب ہے کہ وہاں انقلاب کا
مثبت نتیجہ سامنے آیا اور جلد ہی جمہوری حکومت قائم ہوگئی جبکہ دیگر ملکوں میں اب بھی افراتفری کا ماحول بنا ہوا ہے۔
بہاریہ عرب کے بعد تیونس میں پہلی مرتبہ جمہوری پارلیمانی انتخابات ماہ اکتوبر میں ہوئے جس میں لبرل پارٹی الندا کو زیادہ سیٹیں ملیں جبکہ اسلام پسند پارٹی النھضہ دوسرے نمبر پر رہی ،جو اس بات کی علامتہے کہ تیونس کے لوگ ملک میں اسلامی قانون نافذ کرنے کے بجائے جمہوری نظام کو پسند کرتے ہیں ۔عوام نے ایک ایسی پارٹی کو پہلے نمبر پر رکھا جو ملک میں جمہوریت چاہتیہے ۔ پارلیمانی انتخابات کے بعد صدارتی انتخاب بھی تیونس کے لئے بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔ اس الیکشن کو تیونس کے عوام کے رجحان کا ترجمان کہا گیا ہے کیونکہ اس الیکشن کے نتائج سے یہ طے ہونا تھا کہ کیا واقعی وہاں کے عوام وہی چاہتے ہیں جو پارلیمانی نتائج سے سامنے آیا یا پھر کچھ اور ۔ لیکن صدارتی انتخاب میں لبرل پارٹی کے امیدوار الباجی السبسی کو زیادہ ووٹ فیصد ملنا ،اس بات کی توثیق کرتا ہے کہ عوام واقعی جمہوریت کے خواہش مند ہیں اور بہار عرب میں اسلام کا جو نعرہ دیا گیا تھا وہ بس ایک اتفاقیہ نعرہ تھا۔
حالیہ صدرارتی انتخاب میں الباجی السبسی کو39.76فیصد ووٹ ملے ہیں جبکہ ان کے سب سے بڑے حریف منصف مرزوقی کو’ سیگما رپورٹ کے مطابق‘ 33.43 فیصد ووٹ ملے۔دیگر امیدواروں میں حمہ ہمامی کو 10.2 ، سلیم رباحی کو 5.4 ، اور ہاشمی حامدی کو 3.5فیصد ووٹ ملے۔حالانکہ کوئی بھی امیدوار 51فیصد ووٹ حاصل نہیں کرسکے ہیں۔ اس لئے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے دو امیدواروں کو اگلے مرحلے کا انتظار کرنا ہوگا لیکن اس الیکشن سے ایک اہم پیغام ملتا ہے کہ تیونس کے عوام کو ملک میں اسلامی قوانین کے بجائے معاشی اصلاحات چاہئے۔جو پارٹی معاشی اصلاحات کا نعرہ دیتی ہے،عوام کا جھکائو اس کی طرف ہوجاتا ہے۔
تیونس میں دو بڑی سیاسی پارٹیاں ہیں ۔النداء اور النھضہ۔ ان میں سے الندا کو لبرل اور النھضہ کو اسلام پسند پارٹی سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ مرزوقی کو النھضہ سے عوامی سطح پر حمایت نہیں ملی ہوئی ہے لیکن سیاسی ماہرین کہتے ہیں کہ یہ پارٹی مرزوقی کی حمایت میں تھی اور اسی وجہ سے جو لوگ ملک میں سیکولر حکومت چاہتے تھے انہوں نے مرزوقی کے بجائے السبسی کے حق میں ووٹ دیا ،لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آئندہ ہونے والے دوسرے مرحلے میں جو انتخاب ہونا ہے اس میں النھضۃپارٹی دیگر امیدوراوں کے ووٹ کو مرزوقی کے حق میں کرنے کی مہم چلا کر دونوں امیدواروں کے بیچ ووٹ کا جو فاصلہ ہے، اسے ختم کرنے کی کوشش کرے گی۔ اگر النھضہ پارٹی واقعی ایسا کرتی ہے تو ایسی صورت میں مرزوقی السبسی کو پیچھے چھوڑ سکتے ہیں ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اگلے مرحلے میں یہ صدارتی الیکشن کا رخ کیا ہوتا ہے۔عوام سیکولر نظام کے حامی السبسی کو عہدہ صدارت تک پہنچاتے ہیں یا المرزوقی کو ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here