’’فیک نیوز اینڈ پروپگنڈہ ‘‘کے موضوع پر مذاکرہ

Share Article

JIH1

نئی دہلی:جماعت اسلامی ہند حلقہ دہلی و ہریانہ کے تحت مرکز جماعت اسلامی ہند میں ’’فیک نیوز اینڈ پروپگنڈہ ‘‘کے موضوع پر ایک مذاکرے کا انعقاد کیا گیا۔جس کے صدارتی خطاب میں نائب امیر جماعت اسلامی ہند نصرت علی نے کہا کہ آج ملک جھوٹی خبروں پر مبنی جو مسائل پیدا ہورہے ہیں اس سے جھوجھ رہا ہے ۔نئے نئے مسائل ہمارے سامنے آئے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگ ان حالات سے واقف ہوں خصوصاً میڈیا مثبت کردار ادا کرے اور جھوٹ پر مبنی خبروں کو شائع کرنے سے پرہیز کرے تاکہ معاشرہ میں انتشار پیدا نہ ہو اور نفرت پر مبنی مسائل پر قابو پایا جا سکے ۔
امیر حلقہ عبدالوحید نے افتتاحی کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج کہ دور میں شائع ہونے والی خبروں پر یقین کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے ۔جھوٹی خبروں کی شاعت کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن آج جس تیزی سے اس میں اضافہ ہوا ہے وہ قابل توجہ اور قابل گرفت ہے ۔آصف اقبال سکریٹری شعبہ میڈیا نے پروگرام کا تعارف اور اس کے مقاصد پر روشنی ڈالی ،اور بتایا کہ شعبہ میڈیا دہلی و ہریانہ گزشتہ چار سال سے منظم طور پر میڈیا پرسنالٹی ،ماس میڈیا اسٹوڈینٹس اور سماج کے باشعور طبقہ کو مسائل کو صحیح رخ پر واقف کرانے کی کوشش کررہا ہے ۔آج کا پروگرام اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔

انل چمڑیا ایڈیٹر آف ماس میڈیا اینڈ جن میڈیا چیئرمین نے کہا کہ ملک مختلف طبقات میں بٹ چکا ہے ۔اس میں بڑا اہم رول جھوٹی خبروں کا رہا ہے ۔جھوٹی خبروں کے ذریعے ملک کے مختلف طبقات کو آپس میں لڑانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔جس سے سماج بدترین صورتحال کی جانب گامزن ہے۔جھوٹی خبروں کا اہم کام اشتعال دلانا ہوتا ہے ۔ہمیں اس اشتعال انگیزی سے بچنا چاہئے ۔سید نزاکت نے کہا کہ جھوٹی خبروں کی تحقیق پر پڑتال کیسے کریں اس پر تفصیل سے پرزنٹیشن کے ذریعے شرکاء کو واقف کرایا اور سوالات کے جواب دئیے۔روزنامہ خبریں کے چیف ایڈیٹر قاسم سید فلاحی نے کہا کہ انسانی تاریخ ہمیشہ سے جھوٹ پر مبنی رہی ہے اور جھوٹ ہی سماج کو تقسیم کرنے کا آسان ذریعہ رہا ہے ۔لہذا جھوٹ سے پرہیز کریں اور سماج کا ہر فرد شعوری طور پر مثبت کردار اداکرے تبھی مسائل سے نجات ممکن ہے ۔
JIH2
سنےئر کوروسپونڈنٹ کوائٹ شاداب معیز نے کہا کہ جھوٹی خبروں کی ترسیل آج فیشن بن چکا ہے جس کے ذریعے نہ صرف سماج کو تقسیم کیا جارہا ہے بلکہ کاروباری طبقہ اس سے دولت کماررہا ہے ۔دا کوائنٹ کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ وہ جھوٹی خبروں کی پڑتال کریں۔پہلے سیشن کی نظامت ضیاحسن نے کی جبکہ دوسرے سیشن کی نظامت انعام خاں نے کی ۔مذاکرے کا آغاز مولانا رضی الاسلام ندوی کے تذکیر سے ہوا ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *