پٹھان کوٹ میں ایرفورس اسٹیشن پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کو سرحد پار سے ہنڈل کر رہے ان کے آقاﺅں نے ایس پی سلوندر سنگھ کو ہلاک کرنے سے کیوں انکار کر دیا تھا؟ چوتھی دنیا کی یہ خبر اسی سوال کے ساتھ شروع ہوتی ہے ۔ ہم خبر میں آگے بڑھتے جائیںگے اور اس سوال کے کئی جواب تہہ در تہہ کھلتے چلے جائیںگے۔ پٹھان کوٹ حملے کی خبر کے دو پہلو ہیں۔ پہلا، جو منشیات کی تجارت سے ہوتا ہوا دہشت گردی کی تکمیل تک پہنچا تاہے اور دوسرا، جو ایسے آپریشن میں فوج کے استعمال اور نیشنل سیکوریٹی گارڈ (ین ایس جی) کے کمانڈ اینڈ کنٹرول کو لے کر ظاہر ہوئے گیپ کی نشاندہی کرتا ہے۔

۔۔۔پربھات رنجن دین

p-1نارکو پولٹکس اور نارکو ٹیرورزم نے پنجاب کے سرحدی علاقوں کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔کچھ ہی ماہ قبل گرداس پور کے دینا نگر میں اور اب پٹھان کوٹ میں ہوا دہشت گردانہ حملہ اسی سانٹھ گانٹھ کی منادی ہے۔ واردات کے محض دو دن قبل گرداس پور کے ایس پی کے عہدے سے ہٹایا گیا سلوندر سنگھ اس نکسس کا محض ایک مہرہ ہے ۔پٹھان کوٹ حملے کی گہرائی سے جانچ کر رہی نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) اس سمت میں بھی ٹھوس طریقے سے آگے بڑھ رہی ہے کہ سلوندر سنگھ جیسے مہروں کا کردار سرحد سے منشیات کے اسمگلروں کو مال کے ساتھ اندر داخل کرانے اور اس کے عوض ایک موٹی رقم حاصل کرنے سے آگے بڑھتی ہوئی پنجاب کو دہشت گردی کے پرانے دنوں میں لوٹانے کی سازش میں کیسے شمار ہوگئی۔ پٹھان کوٹ حملے کے پیچھے پاکستانی ہنڈلروں کی تو پہچان کر لی گئی ہے اور اس کی فہرست پاکستان کے سپرد بھی کر دی گئی ہے۔ لیکن ملک کے اندر بیٹھے ہنڈلروں اور گائڈوں کی پہچان عام کرنے میں کیا قباحت ہے؟ کیا نارکو پولٹکس اور نارکو ٹیرورزم کے پنجاب میں بنے گٹھ جوڑکے پیچھے کے چہرے خفیہ ایجنسیاں نہیں پہچانتیں؟ اس سوال کا جواب ہے کہ پہچانتی ہیں، لیکن جس ملک میں ملک سے بڑی سیاست ہو اور عوام سے بڑی دولت ہو، وہاں ایسے لوگوں کے نام کیسے اجاگر ہوں گے؟ پٹھان کوٹ حملے کے پیچھے جیش محمد یا یو نائٹیڈ جہاد کونسل یا متحدہ جہاد کونسل ار ان دھڑوں کے علمبردارمولانا مسعود اظہر، ا سکے بھائی عبدالرو¿ف اصغر، اشفاق احمد، حاجی عبدالشکور، قاسم جان یا سید صلاح الدین کا رول سرحد پار کا مسئلہ ہے۔ اصلی مسئلہ تو یہ ہے کہ ان عناصر کو ہندوستان میں اپنے قدم جمانے کا موقع کن لوگوں نے دیا؟ پٹھان کوٹ حملے کی جانچ میں این آئی اے کی مدد کر رہی ملٹری انٹیلی جنس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ اکیلا سلوندر سنگھ ہی کئی رازوں سے پردہ اٹھا سکتا ہے، اگراس سے سختی سے پوچھ گچھ کی جائے۔این آئی اے کو ابھی سختی برتنے کا موقع نہیں ملا ہے۔ اس میں پنجاب کی مقامی سیاست اور پولیس ایک بڑی روکاوٹ ہیں۔ این آئی اے کی اب تک کی جانچ اور وہاں بظاہر موجود ثبوتوں کی بنیاد پر یہ بات صاف ہو چکی ہے کہ ہندوستانی سرحد میں داخل ہوئے دہشت گردوں کے پٹھان کوٹ ایر فورس بیس کی چہاردیواری تک پہنچنے میں گائڈکا کام گرداس پور کے تبادلہ شدہ ایس پی سلوندر سنگھ نے کیا تھا۔ سلوندرکی گاڑی اکال گڑھ گاﺅں تک پہنچنے میں دہشت گردوں کا ذریعہ بنی۔
یہ بات سامنے آچکی ہے کہ و اردات کے دو دن پہلے ہی گرداس پور کے ایس پی کے عہدے سے سلوندر سنگھ کا تبادلہ پنجاب آرمڈ پولیس میں ہو چکا تھا۔ اس کے باوجود اپنے سینئر افسروں کو اطلاع دئے بغیر سلوندر سنگھ دیر رات پنج پیر کیوں گئے تھے؟ سرحد کے نزدیک بے حد حساس علاقے میں تنہا کیوں گھوم رہے تھے؟ اپنے ساتھ سیکوریٹی گارڈ لے کر کیوں نہیں گئے ؟ ان کی گاڑی میں وائرلس نہیں تھا ، تو اس پر نیلی بتی کیوں لگی تھی؟دہشت گردوں نے پہلی گاڑی کا اغوا کرنے کے بعد اسکے ڈرائیور ایکا گر سنگھ کو مار ڈالا، تو دوسری گاڑی کا اغوا کرنے کے بعد اس میں سوار لوگوں کو کیوں چھوڑ دیا؟ سلوندر نے جھوٹ کیوں بولا کہ وہ پنج پیر درگاہ پر متھا ٹیکنے پہلے بھی آتے رہے ہیں؟درگاہ کے کیئر ٹیکر سوم نے یہ کیوں کہا کہ اس نے سلوندر سنگھ کو درگاہ پر پہلی دفعہ دیکھا ہے؟ سلوندر کا دوست راجیش ورما اس دن درگاہ پر دو مرتبہ کیوں گیا تھا؟سلوندر نے درگاہ پر فون کرکے اسے دیر رات تک کھلا رکھنے کے لیے کیوں کہا تھا ؟ دہشت گردوں نے ڈرائیور ایکاگر سنگھ اور بعد میں سلوندر کے فون سے ہی پاکستان میں بیٹھے اپنے آقاﺅں سے لمبی لمبی باتیں کیں، ہدایات حاصل کیں، لیکن پنجاب پولیس نے نہ کوئی سرولینس (نگرانی)کی اور نہ راستے میں سلوندر کی گاڑی کو ینٹرسیپٹ (پکڑنے) کی کوئی کارروائی کی۔ایسے کئی سوال لوگوں کے سامنے تو آئے ، لیکن ان کے جواب عام نہیں ہوئے۔ معاملے کی جانچ کئی سطحوں پر چل رہی ہے، اس لئے ان کے جواب فی الحال عوامی سطح پر کھلیں گے بھی نہیں ۔ لیکن کئی ایسے بھی سوالات ہیں جو خود میں جواب بھی دیتے ہیں۔ مثلاً، تبادلہ ہوجانے کے باوجود سلوندر سنگھ کے غیر قانونی علاقے میں مشتبہ طور پر پائے جانے کی باضابطہ تصدیق کے باوجود ڈپارٹمینٹل کاررائی کیوں نہیں شروع کی گئی؟ میڈیا کے سامنے اپنے اغوا کی فرضی کہانیاں سنا رہے سلوندر سنگھ پر پنجاب پولیس کے آقاﺅں نے فورا ً سینسر کیوں نہیں لگایا اور انہیں معصوم ثابت کرنے میں کیوں لگے رہے؟ جب پہلی گاڑی کا اغوا کرنے کے بعد اس کے ڈرائیور ایکاگر سنگھ کو دہشت گردوں نے ہلاک کر دیا تھا،تو پنجاب پولیس کے بعض عہدیدار یہ کیوں کہہ رہے تھے کہ ایکاگر سنگھ کا قتل سلوندر سنگھ نے کیا ہے اور اس پر قتل کا مقدمہ درج ہونا چاہئے؟ پنجاب پولیس کا وہ اعلی عہدیدار کون ہے جس نے سلوندر پر قتل کا مقدمہ درج نہیں ہونے دیا؟ سب سے اہم یہ کہ سلوندر سنگھ کو قانونی طور پر حراست میں لے کر پوچھ تاچھ کرنے سے این آئی اے کو کون روک رہا ہے؟خیال رہے کہ جس پنج پیر درگاہ پر سلوندر گئے تھے، اسی درگاہ کے نزدیک دہشت گردوں کے پاکستانی برانڈ ایپکوٹ کے جوتوں کے نشان ملے ۔ سلوندر سنگھ کا دوست راجیش ورما بھی درگاہ پر پہلی مرتبہ گیا تھا۔
آپ کو یاد ہو گا کہ کچھ عرصہ پہلے کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے جب کہا تھا کہ پورا پنجاب منشیات کے زد میں ہے اور ہر دس میں سے سات نوجوان نشیلی دواﺅں کی علت کا شکار ہیں تو ان کا خوب مذاق اڑایا گیا تھا ۔ تب مرکز کی سیاست میں ابھرنے کی جدو جہد میں مصروف نریندر مودی نے راہل کے بیان پر طنز کیا تھا۔ لیکن مودی جب گرداس پور میں بی جے پی کے امیدوار ونود کھنہ کے لیے انتخابی مہم میں آئے تو انہوں نے بھی کہا کہ پاکستان کے سرحد سے ملحق پنجاب کے ساڑھے پانچ سو کلومیٹر کے علاقے کو نشیلی دواﺅں کا مرض لگ چکا ہے۔ دونوں رہنماﺅں کے بیانات کا یہاں ذکر کرنے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ پاکستان سے ملحق اس حساس علاقے میں جب منشیات کے مرض کا علم سب کو ہے تو اس تجارت کوکرنے والے لوگوں اور گروہوں کا بھی سب کو علم ہوگا۔ پھر بھی اسے وقت پر کیوں نہیں روکا گیا؟کانگریس نے اپنے دور اقتدار میں نہیں روکا اور بی جے پی نے اپنے دور اقتدار میں اسے روکنے کی پہل نہیں کی۔ نتیجتاً، یہ اتنے بھیانک مرض میں تبدیل ہوگیا۔ نشیلی دواﺅں کے کاروبار کے جتنے معاملے پورے ملک میں درج ہوتے ہیں، اس کے آدھے معاملے صرف پنجاب میں درج ہوتے ہیں۔ پچھلی لوک سبھا انتخاب کے دواران پنجاب میں سب سے زیادہ منشیات اور شراب کی برآمدگی ہوئی تھی۔ اس معاملے میںنوٹ کرنے والی حقیقت یہ ہے کہ پولیس کی نوکری چھوڑکر منشیات کے دھندے میں آئے جگدیش سنگھ بھولا نے اپنی گرفتاری کے بعد کہا تھا کہ نائب وزیراعلٰی کے رشتے دار اور اکالی دل کے رہنما وکرم سنگھ مجیٹھیابھی منشیات کے دھندے میں شامل ہیں۔ اس پر معاملہ بھی درج ہوا اور انفورس مینٹ ڈائریکٹوریٹ نے مجیٹھیا کو بلا کر پوچھ تاچھ بھی لیکن کوئی کارروائی نہیںہوئی۔ اتنا حساس معاملہ اقتدار کے گلیارے اور قانون کے پیچ و خم میںالجھا کر رکھ دیا گیا۔ پنجاب کے ایک ریٹائرڈ آئی پی ایس آفیسر ششی کانت کو پنجاب ۔ہریانہ ہائی کورٹ نے عرضی داخل کرکے کہنا پڑا کہ پنجاب میں نارکو پالیٹکس حاوی ہے اور سیاسی پارٹیوں اور رہنماﺅں کی منشیات اسمگلروں سے ملی بھگت ہے۔ نارکو پالیٹکس کی وجہ سے نارکو دہشت گردی کا بھیانک مرض اس سرحدی علاقوں میں پھیل گیا ہے۔ اس کے بدلے لیڈروں اور دھندھے بازوں نے بے حساب دولت کمائی ہے۔ یہ بات سب جانتے ہیں۔ رہنما جانتے ہیں، پولیس جانتی ہے، انتظامیہ جانتی ہے اور یہ سب مل کر خوب کماتے ہیں۔ بدلے میں لوگ نشے کی گولی سے مرتے ہیں اور اب دہشت گردوں کی گولی سے مررہے ہیں۔ آہستہ آہستہ اس دھندے کو ذریعہ بناکر پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے اس میں پاکستان، کناڈا اور برطانیہ میں اڈا جمائے بیٹھے دہشت گروہوں کو متحد کرنا شروع کردیا ۔
پٹھان کوٹ کے تازہ واقعہ سے پانچ مہینے پہلے گرداس پور کے ہی دینا نگر میں دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا۔ اس وقت بھی مرکزی خفیہ ایجنسیوں اور ملٹری انٹیلی جینس نے نارکوٹکس کے دھندے کے نارکو ٹیروریزم کی شکل میں بدلنے کی باضابطہ تصدیق کی تھی، لیکن پنجاب سرکار اور پنجاب پولیس نے اس معاملے میں کوئی احتیاطی کارروائی نہیں کی اور مرکزی سرکار نے اس پر کوئی توجہ نہیںدی۔ ملٹری انٹیلی جینس کے افسر بتاتے ہیں کہ منشیات سے آنے والی بے شمار دولت اور سیاست کو لے کر لیڈر چپی سادھے رہے اور پولیس بھی اس کا فائدہ اٹھاتی رہی۔ دینا نگر کا دہشت گردانہ حملہ اسی طرح فوجی وردی پوش پاکستانی دہشت گردوں نے کیا تھا اور سات لوگوں کو ہلاک کردیا تھا۔ گرداس پور کے ایس پی بلجیت سنگھ بھی شہید ہوئے تھے۔ تب خفیہ ایجنسی آبی نے مرکزی وزارت داخلہ کو جانکاری دی تھی کہ آئی ایس آئی پاکستان کے دہشت گردی کے سرغناﺅں اور پاکستان اور کناڈا میں بیٹھے خالستان کے حامیوں کو متحد کرنے اور پنجاب میں دہشت گردی کو واپس لوٹانے کی سازشیں کررہی ہے۔ اس سلسلے میں لشکر طیبہ کے طفیل عنایت میر کو کناڈا اور جرمنی میں ببر خالصہ انٹرنیشنل کے رہنماﺅں سے ملنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ ہندوستانی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ انالیسیس ونگ (رائ) کناڈا اور انگلینڈ آئی ایس آئی کے نمائندوں اور کچھ مخصوص خالصتان کے حامیوں سے ملاقات کی تصدیق کرچکی ہے۔ آئی ایس آئی ببر خالصہ انٹرنیشنل کے علاوہ خالصتان زندہ باد فورس، انڈین سکھ یوتھ فیڈریشن اور خالصتان ٹائیگر فورس جیسی تنظیموں کو پھر سے فعال بنانے کی کوششوں میں تیزی سے لگی ہوئی ہے۔ آئی ایس آئی نے خالصتان حمایتی گروہوں اور حرکت الجہاد، حرکت المجاہدین، حزب المجاہدین اور جیش محمد کے خاص نمائندوں کو ملاکر ایک تال میل بٹھایا ہے۔ خالصتان زندہ باد فورس کے رنجیت سنگھ نیتا، انڈین سکھ یوتھ فیڈریشن کے لکھ بیر سنگھ روڑ، دل خالصہ انٹرنیشنل کے پرم جیت سنگھ پنجوار، دل خالصہ کے محال سنگھ اور بلبیر سنگھ جیسے لوگ آئی ایس آئی کے لگاتار رابطے میں ہیں۔ اس تال میل کا ہی نتیجہ ہے پاکستان کے نانکانہ صاحب میں ابھی حال ہی ببر خالصہ اور لشکر کے خاص لوگوں کے درمیان ہوئی ملاقات ۔این آئی اے کے ہاتھ لگے پاکستانی دہشت گرد عبد الکریم ٹنڈا نے بھی آئی ایس آئی کے تحفظ میں پاکستانی اور خالصتانی سرپھروں کے ذریعہ سرحدی علاقے میں دہشت گردانہ واردات کرائے جانے کی تیاریوں کا سراغ دیا تھا۔ ٹنڈا نے کہا تھا کہ کشمیر کو ہندوستان مخالف بنانے کے بعد آئی ایس آئی پڑوسی صوبہ پنجاب کو بھی غیر مستحکم کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ این آئی اے کے ایک آفیسر نے کہا کہ دہشت گردوں کے ذریعہ ایس پی سلوندر سنگھ کو نہ پہچاننے اور راستے میں پھینک دینے کی باتیں سراسر جھوٹی ہیں۔ ایس پی کو نہ مارنے کا دہشت گردوں کو حکم ملا ہوا تھا۔ دہشت گردوں کی آپسی بات چیت، فون پر مل رہے ہینڈلروں کی ہدایتوں اور سلوندر سنگھ، اس کے دوست راجیش ورما اور باورچی کی بات چیت کے تضاد سے یہ حقیقت پکڑ میں آئی ہے۔ اس بنیاد پر یہ جانچ کی جارہی ہے کہ ہندوستان میں داخل ہونے والے دہشت گرد یا سرحد پار سے ہدایت دے رہے ان کے ہینڈلرس کہیں سلوندر کو پہلے سے تو نہیں جانتے تھے۔ ایکاگر سنگھ کو مار ڈالنے اور سلوندر سنگھ پر ہاتھ نہ ڈالنے کی ہدایت سرحد پار بیٹھے آقاﺅں نے کیوں دی تھی؟ایکاگر سنگھ اور سلوندر سنگھ کے فون سے ہی دہشت گردوں نے اپنے پاکستانی آقاﺅں کے فون (+923017775253اور +923000597212) پر بات چیت کی تھی۔
پٹھان کوٹ حملے کا دوسرا پہلو کویک (فوری) سیکورٹی سسٹم کی سمجھداری اور کورڈینیشن کی شدید خامیوں کو اجاگر کررہا ہے۔ پٹھان کوٹ واقعہ کے بعد فوج کی یہ مانگ ٹھوس شکل لینے لگی ہے کہ نیشنل سیکورٹی گارڈ کی کمانڈ اینڈ کنٹرول اس کے ہاتھوں میں دے دی جائے۔ سمجھداری اورکورڈینیشن میں پروفیشنل کمیاں اجاگر ہونے کے مد نظر فوج این ایس جی کی کمان اپنے ہاتھوں میں چاہتی ہے۔ زمینی اور عملی ضرورت بھی یہی ہے۔نیشنل سیکورٹی گارڈ کی پوری ٹریننگ فوج ہی سنبھالتی ہے۔ ایسے میں یہ سوال لازمی ہے کہ اس کی کمان معمولی سیکورٹی صلاحیت والے آئی پی ایس آفیسر کے ہاتھوں میں کیوں ہو؟این ایس جی کے اسپیشل ایکشن گروپ ( ایس اے جی) میں فوج سے ڈیپوٹیشن پر آئے آفیسر اور جوان شامل رہتے ہیں،جبکہ اسپیشل ریزرو گروپ ( ایس آر جی) میںپارا ملٹری فورس اور پولیس سے ڈیپیوٹیشن پر آئے آفیسر اور جوان ہوتے ہیں۔ دہشت گردانہ کارروائیوں میں سیدھے آپریشن کے لئے ایس اے جی کو ہی پہلے اتارا جاتا ہے۔ ممبئی حملے کے وقت سے ہی این ایس جی کی کمانڈ اینڈ کنٹرول کو لے کر فوج میں بات چل رہی ہے۔ یہ ضرورت اور مانگ پٹھان کوٹ حملے کے بعد مضبوط ہو گئی ہے۔ اس صورت حال کی وجہ سے ہی بعد میں وزارت داخلہ کو پیچھے کیا گیا اور وزارت دفاع کو آگے۔ وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کے بجائے وزیر دفاع منوہر پاریکر کو میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا۔
پٹھان کوٹ آپریشن کی خامیوں کو لے کر تمام سوال اٹھے اور مرکزی سرکار کی طرف سے تمام صفائیاں پیش ہوئیں، لیکن سیکورٹی سسٹم سے جڑے ذرائع ہی پٹھان کوٹ انتظامات کی خامیوں کی طرف اشارہ کرہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خفیہ ایجنسی کی درست اطلاع کے بعد بھی سیکورٹی سسٹم پختہ کرنے میں اتنی کوتاہی کیوں ہوئی؟اس کوتاہی کی وجہ سے سب سے زیادہ حساس پٹھان کوٹ ایئر بیس کا تحفظ داﺅ پر لگ گیا۔ سرحد پار سے ہوئی در اندازی پر باڈر سیکورٹی فورس(بی ایس ایف) کی لاپرواہیاں اجاگرہوئیں،لیکن وزارت داخلہ نے اب تک کوئی سخت کارروائی نہیں کی۔ دہشت گردوں کی در اندازی سے سرحد پر بی ایس ایف کے گشت کا نظام اور سسٹم پوری طرح شک کے گھیرے میں آ گیا ہے۔ یہ شبہ بھی پختہ ہونے لگا ہے کہ ڈرگ کارٹیل کے ساتھ کہیں بی ایس ایف کی بھی پولیس جیسی ملی بھگت تو نہیں ہے؟یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ جب پٹھان کوٹ میں فوج کی بھاری کمک اور کریک اسپیشل فورس موجود تھی، تو پھر دہلی سے این ایس جی کو وہاں کیوں بھیجا گیا؟وزارت داخلہ نے وزارت دفاع سے کورڈینیشن کئے بغیر سیدھے این ایس جی کو کیسے بھیج دیا؟فوج میں یہ سوال اٹھ رہاہے کہ این ایس جی کی کمانڈ اینڈ کنٹرول پروفیشنل ہاتھوں میں نہ ہونے کی وجہ سے لیفٹیننٹ جنرل ای کے نرنجن کی بے معنی شہادت ہو گئی۔ ڈھیلے ڈھالے آپریشن کی وجہ سے دنیا میں خراب پیغام گیا، لہٰذا سوال پیدا ہورہا ہے کہ کیا یہ پروفیشنل آپریشن تھا؟36 گھنٹے تک دہشت گرد فضائیہ احاطے میں تانڈو مچاتے رہے اور سات لوگ شہید ہو گئے۔ خفیہ ایجنسیاں اپنا اِن پُٹ دے کر گھر بیٹھ گئیں۔ کیا اطلاعات دینے کے بعد خفیہ ایجنسیوں کی کوئی جوابدہی نہیں ہوتی؟ایک پولیس آفیسر کی گاڑی پر دہشت گرد سڑکوں پر کھلواڑ کرتے رہے ،اس پر کیا ریاستی پولیس کی کوئی جوابدہی نہیں بنتی؟دہشت گرد ایک گاڑی اغوا کرتے ہیں،اس کے ڈرائیور کومارتے ہیں۔ پھر دوسری گاڑی اغوا کرتے ہیں، جس میں ایک ایس پی بیٹھا ہوتا ہے۔ اس کی نیلی بتی والی گاڑی لے کر دشمن ملک سے آئے دہشت گرد ہندوستان کی سڑکوں پر تانڈو کرتے رہے اور ہمارا پولیس انتظامیہ سوتا رہتاہے۔ یہ شرمناک نہیں تو کیا ہے؟جب ایک عام آدمی بھی یہ سمجھ رہا ہے کہ ایسا حملہ پاکستانی فوج کی پروکسی جنگ ہے تو پھر دہلی نے فوج کو آپریشن میں سیدھے طور پر کیوں نہیں شامل کیا؟خفیہ اطلاعات اور سیکورٹی کے خطرے کے بدلتے منظر نامے سے بھی یہ صاف صاف دکھائی دے رہا ہے کہ پاکستان اپنا دھیان کشمیر سے ہٹا کر پنجاب پر مرکوزکر رہا ہے۔ نشے کا جال پھیلانے کے بعد پنجاب اب اس کے لئے زیادہ مفید ثابت ہو رہا ہے ۔ پھر سرکار نے وقت رہتے ہوئے اس کا بندوبست کیوں نہیں کیا ؟پٹھان کوٹ کا آپریشن دہلی سے کنٹرول ہونے کے بجائے سیدھے طور پر مغربی کمان کے تحت ہونا چاہئے تھا ۔ مرکز کو جب یہ خفیہ جانکاری 24گھنٹے پہلے مل چکی تھی کہ پنجاب میں ایسا حادثہ ہونے جارہا ہے تو پھر مکمل انتظام کرنے میں تاخیر کیوں ہوئی؟پٹھان کوٹ میں فوج کی پوری بریگیڈ ہے۔ ایسے میں،آپریشن کو فضائیہ کے گروڈا کمانڈوز اور ڈیفنس سیکورٹی کور ( ڈی ایس سی) پر چھوڑ دیا جانا لاپرواہی کی انتہا ہے۔ ریٹائر ڈ فوجیوں کی بازآبادکاری کے لئے بنائی گئی ڈی ایس سی کی جوابدہی صرف فوجی قیام گاہوں کی چوکیداری کرنا ہے۔ گروڈا فضائیہ احاطے کے اندر کی دیکھ ریکھ کے لئے ہے۔حملوں سے تحفط فراہم کرنے کی ذمہ داری فوج کی ہے، بشرطیکہ اسے صحیح وقت پر ٹارگٹ پورا کرنے کا مکمل آرڈر ملے۔ مرکزی داخلہ سکریٹر ی راجیو مہارشی کو فوج کے رینک اینڈ پروفائل تک کی جانکاری نہیں ہے۔ وہ کہتے رہے کہ فضائیہ کے سات لوگ شہید ہو گئے، جبکہ ان میں الگ الگ محکموں اور الگ الگ رینک کے لوگ تھے۔
فوج کے ساتھ کورڈینیشن کی بھی بھاری کمی رہی۔ حالانکہ فوج کی مغربی کمان کے چیف لیفٹیننٹ جنرل کمل جیت سنگھ نے کہا کہ یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ آپریشن میں فوج کا کردار محدود تھا ،لیکن انہوں نے جو بیورا دیا، اس سے ہی یہ صاف ہوا کہ پٹھان کوٹ آپریشن میں فوج کا کردار محدود تھا ۔ سنگھ کے مطابق، دہشت گردوں سے پہلا مقابلہ ڈی ایس سی اور گروڈ کا ہوا ۔ ڈی ایس سی کے لوگ بہت بہادری سے لڑے۔ ان میں سے ایک نے ایک دہشت گرد کو مار گرایا ،دوسرے دہشت گرد کی گولی سے وہ شہید ہو گیا۔ دوسرا مقابلہ فوجی ٹکڑی سے ہوا۔اس کے بعد این ایس جی نے آپریشن ٹیک اوور کر لیا۔ یہ اسپیشل فورس، گروڈ اور این ایس جی کی مشترکہ مہم تھی۔ فوج کے بم ڈسپوژل دستے نے مہم میں اہم کردار ادا کیا۔ پٹھان کوٹ دہشت گردانہ حملے سے نمٹنے کے معاملے میں مرکزی سرکار کی پالیسی کی تنقید کرر ہے سیکورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ آپریشن میں سیدھے طور پر فوج کا استعمال کیا جانا چاہئے تھا، جو اسی علاقے میں تعینات ہے اور مقامی جغرافیہ سے پوری طرح واقف بھی۔ یہ عجیب ضرور ہے، مگر سچ یہی ہے کہ ریاستی سرکار ایسے آپریشن میں فوج کو شریک کئے جانے کے حق میں نہیں ہے ۔جولائی 2015 میں دینا نگر دہشت گردانہ حملے کے وقت بھی وزیر اعلیٰ پرکاش سنگھ بادل نے فوج کے استعمال کو لے کر عدم اتفاق کا اظہار کیا تھا اور یہ کہہ کر بات سنبھالی تھی کہ فوج کا استعمال بڑے آپریشن میں ہونا چاہئے۔ وہ مانتے ہیں کہ یہ کام ریاستی پولیس کا ہے۔ جبکہ پنجاب پولیس کا کیا حال ہے ،یہ جگ ظاہر ہے۔ دینا نگر حملے کے وقت پولینڈ میں تفریح کررہے نائب وزیر اعلیٰ سکھبیر سنگھ بادل نے بھی ایسا ہی بیان دیا تھا۔
یکم جنوری کو پالم سے روانہ ہوا تھا این ایس جی کا پہلا بیچ
تین سو بلیک کیٹ کمانڈو تھے، جو جدید ہتھیاروں اور آلات سے لیس ہوکر پٹھان کوٹ میں دہشت گردوں سے لڑنے کے لئے دلی سے آئے تھے۔ اس آپریشن کو پہلے کی طرح کوئی نام تو نہیں دیا گیا، لیکن اس میں 21کمانڈو زخمی ہوئے اور ایک آفیسر لیفٹیننٹ کرنل ای کے نرنجن شہید ہوئے۔ این ایس جی کے ایس اے جی کمانڈو کا پہلا بیچ دہلی کے پالم ملٹری ایئر بیس سے ایک جنوری کو تین بجے روانہ ہوا تھا۔ جس میں کرنل نرنجن بھی سوار تھے۔ ایس اے جی کمانڈو میں صرف فوج کے آفیسر اور جوان ہی رہتے ہیں۔ پہلے بیچ میں 160 لوگ تھے۔ این ایس جی کی 80-80 کی دو اسٹرائک یونٹس دو اور تین جنوری کو پٹھان کوررٹ پہنچیں اور آپریشن میں شامل ہوئیں۔ این ایس جی کو پٹھان کوٹ پر دھاوا بولنے کا حکم وزارت داخلہ سے موصول ہوا تھا۔ پہلی ٹیم میجر جنرل دشینت سنگھ کی قیادت میں پٹھان کوٹ پہنچی تھی۔ لیفٹیننٹ کرنل نرنجن این ایس جی کے 19ویں شہید ہیں ۔ 2014 کے مئی مہینے میں ہی نرنجن این ایس جی میں شامل ہوئے تھے۔ 2004 میں فوج کی انجینئرنگ کور میں انہیں کمیشن ملا تھا۔ بم ڈسپوژل کی اسپیشل ٹریننگ انہیں امریکہ میں ایف بی آئی کے ساتھ ملی تھی۔
جیش سے جگ تار تک جڑ رہے ہیںخفیہ اطلاعات کے تار
پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے لئے جاسوسی کرنے کے سلسلے میں پکڑے گئے فضائیہ ملازم رنجیت سے ملی اطلاعات جتنی اہم ہیں، اتنی ہی فکر مند کرنے والی بھی، جیش محمد اور ببر خالصہ انٹرنیشنل کے آپسی لنک کی اطلاعات ۔ دلی میں فوج کے ایک میجر اور اس کے دو گرگوں کی گرفتاری کے بعد خلاصہ ہوا کہ وہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ بے انت سنگھ کے قتل کرنے والے جگتار سنگھ ہوارا کے لگاتار رابطے میں تھے۔ جگتار سنگھ ہوارا اپنی سرگرمیاں تہاڑ جیل سے ہی آپریٹ کررہا ہے اور میجر کے ذریعہ آئی ایس آئی کے لگاتار ر بط میں ہے۔ گرفتار میجر دہشت گرد تنظیم ببرخالصہ انٹر نیشنل ( بی کے آئی ) کے رابطے میں تھا اور فوج کی حساس اطلاعیں آئی ایس آئی اور بی جے آئی تک پہنچاتا تھا ۔ پٹھان کوٹ حملے میں بھی میجر کے مشتبہ کردار سامنے آئے ہیں ۔اسی میجر کے دو گرگے کچھ عرصہ پہلے انبالہ چھاﺅنی علاقے سے پکڑے گئے، جن کے پاس سے بھاری تعداد میں آر ڈی ایکس برآمد ہوا تھا۔ وہ ببرخالصہ انٹرنیشنل کے ممبر بتائے گئے تھے۔ ابھی حال ہی میں پنجاب کے بھٹنڈہ میں تعینات فضائیہ کے جوان رنجیت کو پاکستانی خفیہ ایجنسی کو اطلاعیں دینے کے سلسلے میں پکڑا گیا۔ لندن سے آپریٹ کررہی خوبصورت خاتون دامنی میک ناٹ کے ذریعہ رنجیت فضائیہ کی حساس اطلاعیں آئی ایس آئی تک پہنچا رہا تھا۔ رنجیت کو ایک بار پہلے بھی پکڑ کر چھوڑ دیا گیا تھا، لیکن بعد میں جاسوسی کی تصدیق کے بعد اسے پھر سے دبوچ لیا گیا۔ فضائیہ سے رنجیت کو فوراً برخاست کر دیا گیا۔ لیکن مانا جارہا ہے کہ پٹھان کوٹ فضائیہ بیس کی اندرونی جانکاریاں رنجیت نے ہی آئی ایس آئی تک پہنچائی تھیں۔ رنجیت فضائیہ بیس کے طیاروں، ان کی تعداد اور ان کی تعیناتیوں کے بارے میں جانکاریاں دینے کے ساتھ ساتھ فوجی مشق کی بھی اطلاع لیک کر رہا تھا۔ پٹھان کوٹ کیس کے معاملے میں ایجنسیاں فضائیہ کے جوان سنیل کمار کی بھی فائلیں کھنگال رہی ہیں، جسے آئی ایس آئی کے لئے جاسوسی کرتے ہوئے پٹھان کوٹ فضائیہ اسٹیشن سے 29اگست 2014 کو گرفتار کیا گیا تھا۔

سلوندر بھی تو نہیں تھا آئی ایس آئی کے خوبصورت جال میں
پٹھان کوٹ کیس میں مرکزی کردار ادا کرنے کے لےے مشتبہ پولیس آفیسر سلوندر سنگھ پر این آئی اے کو شک ہے کہ وہ بھی آئی ایس آئی کے خوبصورت جال میں پھنسا تھا۔ سلوندر کی فائلیں اور پس منظر کو کھنگالا گیا تو اس کی عاشق مزاجی کی تاریخ سامنے آئی ہے۔ سلوندرسنگھ کے خلاف پنجاب پولیس کی پانچ خاتون سپاہیوں کے جنسی استحصال کا معاملہ چل رہاہے۔ مذکورہ پولیس ملازمین کی شکایت پر پنجاب پولیس کے ڈائریکٹر جنرل نے باقاعدہ آئی جی گرپریت کور دیو کو معاملے کی جانچ کا حکم دیا تھا۔ یہ بھی سامنے آیا کہ سلوندر سنگھ نے شادی شدہ ہوتے ہوئے بھی غیر قانونی طریقے سے ٹانڈا کی رہنے والی ایک خاتون سے شادی کر لی تھی، اس سے بیٹا بھی ہے۔ ٹانڈا کے بارہ دری محلہ کے وارڈ نمبر 12 کی باشندہ کرن جیت کور کا کہنا ہے کہ اپنے رسوخ کے سبب سلوندر سنگھ نے معاملے کو دبوا دیا ۔ کرن جیت کور نے سلوندر اور اس کے بیٹے ساحل پریت سنگھ کا ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کی مانگ کی ہے۔ خاتون کا کہنا ہے کہ 9اپریل 1994 کو سلوندر سنگھ نے جالندھر کے گورودوارہ شہیدا سمست پور میں اس کے ساتھ شادی کی تھی۔ اس وقت سلوندر اے ایس آئی تھا۔ 21ستمبر 1999 کو کرن جیت کور نے سلوندر کے بیٹے کو جنم دیا۔ جون 2000 میں سلوندر اسے چھوڑ کر بھاگ گیا۔

سلگتے سوال جن پر سرکار کا دھیان نہیں ہے
پٹھان کوٹ حملے میں فوج، پولیس ، ایئر فورس اور بوڈر سیکورٹی فورس کے آئی ایس آئی سے تال میل ہونے کے اشارے مل رہے ہیں۔ کیا اس کی جانچ نہیں ہونی چاہے؟
حملہ کرنے والے دہشت گردوں کو سرحد پار کے ہینڈلرس نے ایس پی سلوندر سنگھ کو مارنے سے کیوں منع کیا ؟
اپنے سینئر افسروں کو اطلاع کئے بغیر سلوندر دیر رات پنج پیر کیوں گئے تھے؟
جب پٹھان کوٹ میں موجود تھی فوج، تو دہلی سے کیوں بھیجے گئے این ایس جی کمانڈو؟
وزارت داخلہ نے وزارت دفاع سے کورڈینیشن کئے بغیر سیدھے این ایس جی کو کیسے بھیج دیا ؟
خفیہ ایجنسی کی صحیح معلومات کے باوجود سیکورٹی بندوبست پختہ کرنے میں اتنی کوتاہی کیوں؟
جب یہ جانکاری 24گھنٹے پہلے مل چکی تھی کہ پنجاب میںایسے حادثے ہونے جارہے ہیں تو مکمل انتظام کرنے میں تاخیر کیوں ہوئی؟
ملک کے اندر بیٹھے ہینڈلرس اور گائڈوں کی شناخت عوامی کرنے میں کیا رکاوٹ ہے؟
کیا نارکو پالٹیکس اور نارکو ٹیرورزم کے پنجاب میں بنے گٹھ جوڑ کے پیچھے کے چہرے خفیہ ایجنسیاں نہیں پہچانتیں؟
پاکستان سے ملے اس حساس علاقے میں جب ڈرگس کی بیماری کے بارے میں سب کو پتہ ہے تو اس کا دھندہ کرنے والے لوگوں اور گروہوں کا بھی سب کو پتہ ہوگا۔ پھر اسے وقت پر کیوں نہیں روکا گیا؟

پاکستان نے دیا کارروائی کا بھروسہ
ایسا پہلی بار ہوا ہے، جب پاکستان اور ہندوستان کی سرکاروں نے کسی دہشت گردانہ حملے کے لئے ایک دوسرے پر الزام تراشی کے بجائے مثبت طریقے سے بات چیت کی۔ اس سے امید کی جاسکتی ہے کہ پٹھان کوٹ حملے میں شامل دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کارروائی کرسکتا ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے پٹھان کوٹ دہشت گردانہ حملے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کو خود فون کرکے بات چیت کی۔ نریندر مودی نے کہا کہ پاکستان کے لئے یہ لازمی ہے کہ وہ اس حملے کے لئے ذ مہ دار تنظیموں اور افراد کے خلاف ٹھوس اور فوری کارروائی کرے۔ ہندوستان کی طرف سے پٹھان کوٹ حملہ سے متعلق ضروری کارروائی کرنے کے لئے کافی معلومات پاکستان کو فراہم کرا دی گئی ہےں۔ نواز شریف نے بھروسہ دلایا ہے کہ ان کی سرکار دہشت گردوں کے خلاف فوری اور فیصلہ کن قدم اٹھائے گی۔ پاکستان کی وزارت خارجہ نے بیان جاری کرکے کہا ہے کہ پٹھان کوٹ پر شدت پسند حملے کے بارے میں وہ ہندوستان سے ملے سراغوں پر کام کر رہا ہے۔ غور طلب ہے کہ اس حملے کی ذمہ داری پاکستان کے شدت پسند گروپ یونائٹیڈ جہادی کونسل نے لی ہے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ نے کہاکہ یہ ہندوستانی سرکار کے رابطے میں ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستانی سرکار شدت پسندوں سے موثر طریقے سے نمٹنے اور اسے ختم کرنے کی پابند ہے۔ پاکستانی صحافی حامد میر نے کہا کہ نواز سرکار اس سلسلے میں سخت قدم اٹھا سکتی ہے۔ میر نے کہا کہ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے پاکستان کو جو ثبوت دیئے گئے ہیں، ان کی بنیاد پر نواز شریف پر کارروائی کرنے کا دباﺅ بنا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے کئی میٹنگیں کیں ۔ جن میں ضروری قدم اٹھانے پر غور و فکر کیا گیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here