تین طلاق بل پرلوک سبھا میں بحث،سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجنے کا مطالبہ

Share Article
talaq
پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں تین طلاق بل پیش کردیاگیاہے۔مسلم خواتین (شادی کے حقوق کا تحفظ) بل، 2018 پر بحث شروع ہوچکی ہے۔ جہاں ایوان میں اپوزیشن پارٹیاں اس بل کی پرزورمخالفت کررہی ہیں۔وہیں حکومت کی کوشش ہے کہ آج ہی اس کو منظور کرایا جائے۔ مگر تمام اپوزیشن جماعتوں نے اسے جوائنٹ سلیکٹ کمیٹی کو بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔لوک سبھا میں اپوزیشن جماعتوں نے تین طلاق کو غیر آئینی اور جرم بنانے والے بل کو آئین کے خلاف قرار دیتے ہوئے حکومت پر اسے جلدی میں پیش کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ بل کو مضبوط بنانے کے لئے اسے پرور کمیٹی کو سپرد کیا جائے چاہیے۔
مرکزی وزیرقانون روی شنکرپرساد نے بل کو پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ تین طلاق کا غلط استعمال کیا جارہا ہے، اس لئے اس معاملے کوسیاست کے ترازوپرنہ تولا جائے، بلکہ اسے خواتین کو انصاف دلانے کے لئے لایا جارہا ہے۔روی شنکرپرساد نے کہا کہ ایف آئی آرکا غلط استعمال نہ ہو، اس لئے اس میں ترمیم کی گئی ہے۔
این پریم چندرن نے کہا کہ بل غیر آئینی طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل پہلے لوک سبھا میں 2017 میں منظور کیا گیا تھا، لیکن راجیہ سبھا میں اس کو پاس نہیں کیا جا سکا تو حکومت آرڈیننس کے ذریعے اسے دوبارہ لوک سبھا میں لائی ہے جو غیر آئینی ہے۔ تین طلاق بل پرپارلیمنٹ میں بحث مکمل ہونے کے بعد کانگریس سمیت تمام اپوزیشن نے ایوان سے واک آوٹ کردیا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ یہ بل جوائنٹ سلیکٹ کمیٹی کو بھیجی جائے کیونکہ اس بل میں کئی خامیاں ہیں۔ تین طلاق بل کی مخالفت کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر ملکا ارجن کھڑگے نے کہا کہ اگرحکومت کی نیت صاف ہے، تو اس میں جو خامیاں ہیں، اسے دور کیا جائے۔
تین طلاق بل پرآل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کے صدرورکن پارلیمنٹ اسد الدین نے کہا کہ حکومت کے قانون اورجبرودباو سے ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے، ہم اپنے مذہب پرعمل کریں گے اوررہتی دنیا تک اسلام پرعمل کرتے رہیں گے۔ کیونکہ مسلم خواتین کی پوری آبادی اس بل کے خلاف ہے۔ممبرپارلیمنٹ مولانا بدرالدین اجمل نے طلاق ثلاثہ بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسلامی شریعت میں مداخلت ہے۔ یہ بل مسلمانوں کی مذہبی آزادی کو چھیننے کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی بیشترآبادی اس قانون سے متفق نہیں ہے، اس لئے اس کو جوائنٹ سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجا جائے۔ بہرکیف کانگریس کا کہنا ہے کہ طلاق ثلاثہ بل کوجلد بازی میں نہ پیش کیا جائے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *