تین طلاق بل: ہنگامے کے بعد راجیہ سبھاکی کارروائی 2جنوری تک کیلئے ملتوی

Share Article
rajya-sabha
تین طلاق کے رواج پرروک لگانے کے مقصد سے لائے گئے تین طلاق (2018)بل کولوک سبھا میں منظورکرانے کے بعداب اسے راجیہ سبھا میں پاس کرانے کیلئے مرکزی حکومت بضدہے۔تین طلاق بل کو پیرکے روزراجیہ سبھا میں پیش کیا جاناتھا۔ لیکن مرکزی سرکارآج راجیہ سبھا میں تین طلاق بل پیش نہیں کرپائی ۔راجیہ سبھا کی کارروائی (2جنوری)بدھ تک کے لئے ملتوی کردی گئی۔دراصل اپوزیشن کی طرف سے ہنگامہ آرائی کے بعد یہ بل راجیہ سبھا پیش نہیں کیا جاسکا ۔
کانگریس کا مسلسل مطالبہ ہے کہ اس بل کو جوائنٹ سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجا جائے، جبکہ مرکزی حکومت اسے منظورکرانے کے لئے بضد ہے۔ کانگریس سمیت تمام اپوزیشن جماعتیں اس بل کے خلاف ہیں۔ بی جے پی کی اتحاد جنتا دل یونائیٹیڈ (جے ڈی یو) کا بھی مطالبہ ہے کہ اس بل کو جوائنٹ سلیکٹ کمیٹی کو بھیجا جائے۔ مرکزی حکومت اوربی جے پی اس بل کوراجیہ سبھا میں منظورکرانے کیلئے بضدہے۔جبکہ اپوزیشن اسے جوائنٹ سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجنے کا مطالبہ کررہی ہیں۔کانگریس اوربی جے پی دونوں نے آج راجیہ کے لئے وہپ جاری کیا تھا تاکہ تمام ممبران پارلیمنٹ موجود رہیں۔ حالانکہ ہنگامہ آرائی کی وجہ سے یہ بل پیش نہیں کیا جاسکا ہے۔
آپ کوبتادیں کہ لوک سبھامیں تویہ بل پاس ہوگیاہے لیکن راجیہ سبھا میں اس بل کو پاس کراپانا مودی حکومت وبی جے پی کے لئے بڑا چیلنج ہوگا، کیونکہ یہاں حکومت کے پاس اکثریت نہیں ہے۔ گذشتہ روزبی جے پی نے اس کولے کراپنے ممبران پارلیمنٹ کوراجیہ سبھا میں موجود رہنے کے لئے وہپ جاری کیا بھی کیاتھا۔27دسمبرکو بل میں ضروری ترامیم کولے کرکانگریس اے آئی اے ڈی ایم کے سمیت کئی جماعتوں نے ایوان سے واک آوٹ کردیا۔ حالانکہ اس کے بعد بھی بل پرووٹنگ کرائی گئی۔ بل کے حق میں 245 اورخلاف میں 11 ووٹ پڑے تھے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *