rs-photo-by-ani
rajya sabha file photo by ani
لوک سبھامیں 28دسمبر2017کوطلاق ثلاثہ بل پاس ہونے کے بعدطلاق ثلاثہ بل راجیہ سبھامیں پاس نہیں ہوسکا ہے اور راجیہ سبھا کے سرمائی اجلاس کی کارروائی غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی ہے۔ سرمائی اجلاس کے آخری دن آج 5جنوری کوراجیہ سبھا کے چیئرمین وینکیا نائیڈو نے طلاق ثلاثہ بل پر اتفاق رائے قائم کرنے کی ہرممکن کوشش کی ، لیکن وہ بھی ناکام رہے۔ جہاں اپوزیشن بل کو سلیکٹ کمیٹی میں بھیجنے پر اٹل رہی، وہیں حکومت اس کیلئے قطعی تیار نہیں تھی۔
عیاں رہے کہ 3 جنوری کو یہ بل راجیہ سبھا میں پیش کیا گیاتھا جہاں اپوزیشن نے سخت مخالفت کرتے ہوئے اسے سلیکٹ کمیٹی میں بھیجنے کا مطالبہ کیااور شدیدہنگامہ کے بعد کاروائی ملتودی کرد ی گئی تھی ،اسکے بعد4 جنوری کو بھی حزب اقتداربل پر بحث کرکے پاس کرانے اور اپوزیشن سے حمایت کرنے کی اپیل کی لیکن کانگریس سمیت متحد اپوزیشن پارٹیوں نے سخت احتجاج کرتے ہوئے اسے سلیکٹ کمیٹی میں بھیجنے کا مطالبہ کیا جس کے بعد کاروائی ملتوی کردی گئی تھی۔
ادھر اپوزیشن کے مطالبہ پر مرکزی وزیر مختار عباس نقوی کا کہنا ہے کہ کانگریس کی وجہ سے تاخیر ہوسکتی ہے ، مگر اندھیر نہیں۔ بی جے پی کی ممبر پارلیمنٹ روپا گنگولی کا کہنا ہے کہ بل پر ایوان میں ہی بحث ہو یہی بہتر ہے ، سلیکٹ کمیٹی میں کچھ منتخب لوگ ہی بل پر بحث کر سکیں گے۔بتایا جاتا ہے کہ بل پر بحث کے پیش نظر کانگریس اور بی جے پی دونوں نے اپنی اراکین کو وہپ جاری کرکے ایوان میں موجود رہنے کیلئے کہا تھا۔
متحد اپوزیشن کے سلیکٹ کمیٹی کو بھیجنے کے مطالبہ کی وجہ سے بدھ اور جمعرات کو ایوان بالا میں اس پر بحث نہیں ہوسکی اور دونوں دن کارروائی ملتوی کرنی پڑ گئی تھی۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ بل کی رو سے اگر شوہر تین سال کیلئے جیل چلا جائے گا تو پھر بیوی اور بچوں کے اخراجات کون برداشت کرے گا۔بہرکیف اپوزیشن کی سخت مخالفت کے سامنے سرمائی اجلاس کے آخری سیشن میں بھی بل پاس نہ ہوسکا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here