ہڈیوں کا علاج انڈے کے چھلکے سے

Share Article


صحت کے امور سے متعلق انگریزی ویب سائٹ ’’ہیلتھ لائن ‘‘ کی رپورٹ کے مطابق انڈے کا چھلکا کیلشیم کاربونیٹ پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ بات سب جانتے ہیں کہ کیلشیم بہت سی غذاؤں میں بنیادی مادے کی حیثیت رکھتا ہے جن میں خاص طور پر ڈیری مصنوعات اور عام طور پر بہت سی پتوں والی اور جڑ والی سبزیاں شامل ہیں۔ایک انڈے کا نصف چھلکا ایک بالغ شخص کے لیے ایک دن میں مطلوب کیلشیم کی مقدار فراہم کرتا ہے جو کہ 1000 ملی گرام ہے۔ انڈے کے چھلکے میں 40% کیلشیم موجود ہوتا ہے۔
کیلشیم اور پروٹین کے علاوہ انڈے کے چھلکے میں دیگر معدنیات کی قلیل مقدار پائی جاتی ہے۔ ان میں میگنشیم، سیلینیم، اسٹرونشیم اور فلورائڈ شامل ہیں۔ یہ تمام معدنیات کیلشیم کی طرح ہڈی کی صحت برقرار رکھنے کے سلسلے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔دنیا بھر میں کروڑوں افراد ہڈیوں کے بھربھرے پن کا شکار ہیں جن میں اکثریت خواتین کی ہے۔ اگر کسی شخص کے غذائی نظام میں کیلشیم مفقود ہے تو ایسی صورت میں انڈے کا چھلکا اس کمی کو دور کرنے کے لیے ہر عمر کے انسان کے واسطے مناسب انتخاب ہے۔
ایک سائنسی تحقیق کے مطابق ہڈیوں کے بھربھرے پن کا شکار خواتین جن کی سن یاس کی عمر آ چکی ہوتی ہے، وہ اگر انڈے کے چھلکے کے پاؤڈر کے ساتھ ساتھ وٹامنD3 اور میگنیشیم کا استعمال کریں تو بڑی حد تک ہڈیوں کو مضبوط بنانے میں کامیاب ہو سکتی ہیں۔
البتہ بعض غذائی ماہرین کے نزدیک کیلشیم کی زیادہ مقدار حاصل کرنے سے صحت کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ان میں گردوں کی پتھری اور امراض قلب کا شکار ہونا شامل ہے۔لہٰذا کبھی بھی چھلکے کو استعمال کرنے سے پہلے طبیب سے رابطہ ضرور کرلیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *