…..مجسمے کے ساتھ خزانہ

Share Article


مصر کے شہر لکسور میں اساسیف نامی وادی میں 3500 سال پرانے اہرام مصر کی دریافت ہوئی ہے اس کے ساتھ کچھ خزانے بھی ملے ہیں۔فرانس کی سٹراس بورگ یونی ورسٹی کے آثار قدیمہ کی کھوج لگانے والے ایک مشن نے مصر کے شہر لکسور میں اساسیف نامی وادی میں اس اہرام مصر کو دریافت کیا ہے۔
اس اہرام مصر سے ٹیم کو دو حنوط شدہ لاشوں (ممی) کے کفن ملے ہیں۔اس کے علاوہ وہاں سے اس ٹیم کو ایک ہزار کے قریب پرانے مجسمے بھی ملے۔حقیق کے مطابق یہ اہرام مصر 1550 قبل مسیح سے 1300 قبل مسیح کے درمیان تعمیر ہوا تھا۔یاد رہے کہ فرانسیسی ٹیم اس سال مارچ سے اس مقام پر کام کر رہی تھی اور آثار قدیمہ کی تلاش میں تھی۔

 

ٹیم کی یہ ایک بڑی کامیابی ہے اور اس کامیابی سے ٹیم کا حوصلہ مزید بڑھا ہے اور توقع کی جاتی ہے کہ یہ اپنا اگلا کام مزید تفتیش میں لگائے گی۔قابل ذکر ہے کہ مصر میں حنوط شدہ مجسموں کا سراغ گاہے بگاہے تفتیشی ٹیم لگتا رہتا ہے اور پھر اس سراغ کے بعد وہ پتہ لگاتے ہیں کہ اس سرزمین پر ماضی میں کیا کیا تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں۔
حالیہ اہرام مصر کی حصولیابی اور اس کے ساتھ خزانے کا ملنا ایک بری کامیابی ہے۔اس سے نہ صرف یہ پتہ چل سکے گا کہ اس دور کے لوگ کیسے رہتے تھے، ان کی سائنسی ترقی کتنی تھی اور سماجی طرز کیا تھا بلکہ یہ بھی معلوم ہوسکے گا کہ اس دور کی کرنسی کیسی تھی، تب حکمراں کون تھے ۔اس طرح کی دیگر بہت سی معلومات مل سکیں گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *