دلیپ چیرین

آرٹی آئی قانون کے تحت اس دور میں جب سرکاری کام کاج میں شفافیت کے لیے عام لوگوں کا دبائو مسلسل بڑھ رہا ہے،تو نوکر شاہوں کے لیے اس نئے چیلنج سے نمٹنا خاصا مشکل ثابت ہو رہا ہے، لیکن مرکزی وزراء اور سپریم کورٹ کے ججوں کے ذریعہ آرٹی آئی قانون کے تحت اپنی ملکیت کی تفصیل بتانے کے لیے راضی ہونے کے بعد اب نوکرشاہوں پر بھی اس کے لیے دبائو بڑھتا جا رہا ہے۔ چیف انفارمیشن کمشنر کے ذریعہ مانگ کیے جانے کے بعد حکومت نے چار ماہ قبل آئی اے ایس، آئی پی ایس اور آئی ایف ایس افسران کی ملکیتوں کی تفصیل عام کیے جانے کے تعلق سے ان کی رائے پوچھی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آئی پی ایس اور آئی ایف ایس افسران کی تنظیمیں جہاں اس کے لیے راضی ہو گئیں وہیں آئی اے ایس ایسو سی ایشن اب تک اس کا کوئی جواب دینے سے بچ رہی ہے۔ سرکاری طور پر آئی اے ایس ایسو سی ایشن کہنا ہے کہ اس نے اپنی ریاستی اکائیوں سے اس سلسلے میں مشورے مانگے ہیں، لیکن بیشتر لوگ اسے نوکرشاہی کے ٹال مٹول والے رویے کی شکل میں دیکھ رہے ہیں۔ حالانکہ مرکزی وزارت برائے پرسنل امور کے پاس یہ بیورہ پہلے سے ہی موجود ہے، لیکن ذرائع بتاتے ہیں کہ پرسنل سکریٹری شانتنو کانسل کوئی فیصلہ لینے سے قبل آئی اے ایس ایسو سی ایشن کی رائے جاننے کے خواہشمند ہیں۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ ایسو سی ایشن اس کے لیے راضی ہوتی ہے یا پھر چیف انفارمیشن کمشنر اے این تیواری کو خود ہی اس کے لئے آگے پہل کرنی ہوگی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here