سعودی عرب میں سیاحت کی اجازت، خواتین کیلئے عبایا کی شرط ختم

Share Article

اہم ترین اسلامی ملک سعودی عرب نے اپنی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے سیاحت کے آغاز کا اعلان کردیا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ دنیا بھر میں اسلام کے مقدس مقامات کی وجہ سے انتہائی اہمیت رکھنے والے ملک میں عام غیر ملکیوں کے لیے سیاحت کا اعلان کردیا گیا۔اس سے قبل سعودی عرب میں صرف مسلمان سیاحوں کو حج یا عمرہ کرنے کی اجازت ہوتی تھی یا پھر ایسے افراد کو وزٹ ویزا جاری کیا جاتا تھا جن کے رشتہ دار وہاں مقیم ہوں۔لیکن حکومت کے حالیہ اعلان کے بعد دنیا کے ہر ملک کا شہری اہم ترین اسلامی ملک کا دورہ کر سکے گا۔

جہاں سعودی عرب نے تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے سیاحت کی اجازت دی ہے، وہیں حکومت نے غیر ملکی خواتین کے لباس میں بھی نرمی کا اعلان کرتے ہوئے انہیں عبایا نہ پہننے کی بھی اجازت دی ہے۔ میڈیا رپورٹوں نے سعودی عرب کے محکمہ سیاحت کے سربراہ احمد الخطیب کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ حکومت کے اس نئے قدم سے سعودی عرب کی مجموعی پیداوار میں 7 فیصد تک اضافہ ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب سیاحت کے حوالے سے دنیا کا اہم ترین ملک ہے اور یہاں پر یونیسکو کی عالمی ورثے کی فہرست میں شامل 5 قدیم ترین تاریخی مقامات بھی موجود ہیں۔

ان کے مطابق سعودی عرب میں دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں کے آثاروں کی موجودگی سمیت خوبصورت ترین مقامات موجود ہیں جو سیاحوں کے لیے انتہائی کشش کا باعث بنیں گے۔سعودی حکومت غیرملکیوں کو 90 دن تک کا سیاحتی ویزا جاری کرے گی جب کہ 28 ستمبر سے ویزوں کا آن لائن اجرا بھی شروع ہو جائے گا۔ غیر ملکیوں کو پورے سعودی عرب کے ویزے جاری کیے جائیں گے لیکن نئے اعلان کے باوجود غیر مسلم سیاحوں کو مسلمانوں کے لیے مقدس ترین شہروں، مکہ اور مدینہ میں موجود مقدس اسلامی مقامات تک رسائی نہیں دی جائے گی۔سعودی حکومت نے غیر ملکیوں کے لیے سیاحت کا آغاز ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب کہ کچھ دن قبل ہی سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر مبینہ طور پر ایران نے حملہ کیا تھا۔

گزشتہ چند سال سے سعودی عرب کی تیل کی کمائی میں مسلسل کمی آرہی ہے اور حکومت تیل کی کمائی پر انحصار کم کرنے کے لیے سیاحت اور انٹرٹنمنٹ سمیت دیگر متبادل ذرائع میں سرمایہ کاری کر رہی ہے۔حکومت کی جانب سے سیاحت کی اجازت دیے جانے سے وہاں سالانہ 10 کروڑ سیاحوں کی آمد کا امکان ہے اور اس منصوبے سے وہاں 10 لاکھ نئی نوکریاں پیدا ہوں گی۔

سیاحت کے لیے دروازے کھولنے سے سعودی عرب کو آنے والے چند سال میں کم سے کم 5 لاکھ کمروں پر مشتمل پرتعیش ہوٹلوں کی ضرورت پڑے گی اور خیال کیا جا رہا ہے کہ سیاحت کے آغاز کے بعد مختلف حصوں میں تعمیراتی منصوبے شروع کیے جائیں گے۔سعودی حکومت پہلے ہی ’نیوم‘ نامی سیاحتی شہر بنانے میں مصروف ہے، ساتھ ہی حکومت ’القدیہ‘ نامی انٹرٹینمنٹ و اسپورٹس شہر بنانے میں بھی مصروف ہے۔علاوہ ازیں سعودی حکومت نے بحیرہ احمر کے کنارے موجود 50 جزیروں پر پْرتعیش ریزورٹس بنانے کا اعلان بھی کر چکی ہے اور ان منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *