ٹونک کا مسلمان بھی کانگریس مخالف

Share Article

شاہد نعیم 
p-5bایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاست راجستھان میں عوام بشمول مسلمان کانگریس سے اکتا چکا ہے۔ تبھی تو گزشتہ 6ماہ سے ریاست کے مختلف شہروں میں مائنارٹی ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کے زیر اہتمام متعدد کانفرنسوں میں یہی رجحان ابھر کر سامنے آیا ہے۔ اس سے پہلے الور ، جے پور، بیکانیر، بھرت پوراور کوٹا کے بعد 22ستمبر کو ٹونک میں منعقد ہوئی کانفرنس میں یہی بات دیکھنے کو ملی۔ اس میں راجستھان کے دور دراز علاقوں میں رہنے والے مسلمانوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر علاقے کی سرکردہ مسلم شخصیات نے موجودہ کانگریسی سرکار کی نااہلی اور ناکار کردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ سرکار نکمی ہے، نا اہل ہے، اس نے اپنی مدت کار میں ہمیں محض اپنے پُرکشش منصوبوں اور اسکیموں سے رجھایا ہے، ہمیں سبز دکھائے ہیں، لیکن انھیں عملی جامہ پہنانے میں ابھی تک کوئی دلچسپی نہیں دکھائی ہے۔ سرکار نے اپنے منشور میں مسلمانوں کے تعلق سیبڑے لمبے چوڑے وعدے کیے تھے،مسلمانوں کی قسمت بدلنے کے دعوے کیے تھے، لیکن وہ تمام وعدے اور دعوے آج تک وفا نہیں ہوسکے ہیں، سچر کمیٹی کی سفارشات سے مسلمانوں کو امید تھی کہ اس کے سہارے ہماری حالت سدھرسکتی ہے، ہمارے دلدر دور ہو سکتے ہیں، مگر سرکار کے ذریعے سچر کمیٹی کی سفارشات کے نفاذ کا صرف اور صرف ڈھنڈورہ پیٹا جا رہا ہے، انھیں نافذ کرنے کا پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے، جب کہ حقیقت میںسچر سفارشات کو ابھی تک لاگو ہی نہیں کیا گیا ہے، مسلمانوںمیں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور ناخواندگی کی شرح اس کی گواہ ہے اور یہ سوچنے پر مجبور کر رہی ہے کہ اپنے مسائل کے حل کے لیے ہمیں خود ہیبیدار ہونا ہوگا، حکومت کے بھروسے نہیں بیٹھنا ہوگا، کیونکہ موجودہ سرکار کی مدت کار مکمل ہونے والی ہے اور اگلے اسمبلی انتخاب کی تیاری بھی شروع ہونے لگی ہے، ایسی صورتحال میں موجودہ سرکار سے کوئی اچھی توقع رکھنا خود کو خود فریبی میں مبتلا رکھنے کے مترادف ہے، لہٰذا آنے والے اسمبلی انتخاب میں ہمیں کوئی نیا متبادل تلاش کرنا ہوگااور اس کانگریسی سرکار کو بدلنا ہی ہوگا۔

مائنارٹی ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کے سیمینار میں مسلمانوں کے حالات و واقعات پر سنجیدگی کے ساتھ گفتگو ہوئی ۔ مقررین نے قوم کو بیدار کرنے کے ساتھ ساتھ سرکار پر بے توجہی اور مسلمانوں کے تئیں غفلت برتنے کا الزام لگایا اور سرکار سے مطالبہ کیا کہ اس نے اپنے منشور میں مسلمانوں کے تعلق سے جو وعدے کیے تھے، انھیں پایہ تکمیل تک پہنچائے، اگر ایسا نہیں ہوا اور ان کے مسائل پر رتوجہ نہیں دی گئی ، تو پھر یقیناً مسلمان کانگریس سے رشتہ توڑ لے گا۔

اس سیمینار میں یہ بات خاص طور سے بحث کا موضوع رہی کہ آزادی کے بعد ملک پر تقریباً کانگریس نے ہی راج کیا ہے اور کانگریس کا یہ دعویٰ ہے کہ اس کے دور اقتدار میں ملک و قوم نے ترقی کی بہت سی منازل طے کی ہیں، لیکن جب ہم اس ترقی کے آئینے پر نظر ڈالتے ہیں ، تو مسلمانوں کی صورت اس میں کہیں نہیں نظر نہیں آتی۔ وہ آج بھی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں، تعلیم، صحت و بے روزگاری کے تعلق سے ان کی تنزلی کا گراف روز بروز اوپر اٹھ رہا ہے، ان کی سماجی اور اقتصادی صورتحالتیزی سے زوال پذیر ہے۔ ظاہر ہے آزادی کے بعد 65 سالوں میںاگر ملک وقوم نے ترقی کی منازل طے کی ہیں، تو ملک کی سب سے بڑی اقلیت نے تنزلی کے معیار قائم کیے ہیں۔ آزادی کے بعد مسلمانوں میں پسماندگی کی شرح بڑھی ہے بے روزگاری اور غریبی نے ابھی بھی مسلمانوں کو پوری طرح گھیر رکھا ہے۔ مسلمان آج بھی دو وقت کی روٹی کے لیے جو جھ رہا ہے۔
مسلمانوں کی صرف اور صرف تنزلی ہوئی ہے، ترقی کا منہ اس نے دیکھا تک نہیں ہے ۔ وہ آج بھی دو جون کی روٹی کے لیے محنت و مشقت کر رہا ہے، اس کے بچے اسکولوں میں پڑھنے کے بجائے مزدوری کر رہے ہیں، جو پڑھ لکھ گئے ہیں وہ ملازمت کے لیے در در کی خاک چھان رہے ہیں، سرکاری ملازمت میں ان کی حصہ داری برائے نام رہ گئی ہے۔ اور یہ سب کچھ کانگریسی راج میں اور اس کی ہیمہربانی سے ہوا ہے۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کا کانگریس پر سے اعتبار اٹھنا فطری ہے۔
اس موقع پر سوسائٹی کے چیئر مین سید اصغر علی ایڈووکیٹ نے کہا کہ سماج کے سبھی طبقے کے لوگ منظم ہو کر اپنے مطالبات سرکار کے سامنے رکھ رہے ہیں، اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس سوسائٹی کے ذریعے ہم بھی اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مسلمان اتنے زیادہپسماندگی کے شکار ہو چکے ہیں کہ اب ریزرویشن کے بغیر ان کا ڈگر پر آنا ممکن نہیں ہے اور یہ ریزرویشن محض تعلیم و سرکاری ملازمتوں میں ہی نہیں، بلکہ ریاستی اور قومی سیاست میں بھی آبادی کے تناسب سے ہونا چاہیے۔ سوسائٹی کے ڈویژنل کنوینر سلیم نقوی نے کہا کہ آزادی کے بعد مسلمان ترقی کی راہ میں بہت زیادہ پچھڑ گیا ہے، اس لیے آگے آنے کے لیے اسے تعلیم کی اشد ضرورت ہے، چنانچہ مسلمانوں کو ہر حال میں تعلیم حاصل کرنا چاہیے۔ بشیر میو نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ملازمتوں میں پہلے مسلمانوں کا تناسب 35-36فیصد تھااور اب یہ گھٹ کر محض 5-6فیصد ہی رہ گیا ہے۔ اس لیے سرکار اور مسلمان کو اس طرف توجہ دینی چاہیے۔
مائنارٹی ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کے سیمینار میں مسلمانوں کے حالات و واقعات پر سنجیدگی کے ساتھ گفتگو ہوئی ۔ مقررین نے قوم کو بیدار کرنے کے ساتھ ساتھ سرکار پر بے توجہی اور مسلمانوں کے تئیں غفلت برتنے کا الزام لگایا اور سرکار سے مطالبہ کیا کہ اس نے اپنے منشور میں مسلمانوں کے تعلق سے جو وعدے کیے تھے، انھیں پایہ تکمیل تک پہنچائے، اگر ایسا نہیں ہوا اور ان کے مسائل پر رتوجہ نہیں دی گئی ، تو پھر یقیناً مسلمان کانگریس سے رشتہ توڑ لے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *