ڈھونڈتی ہے آج دنیا ہم میں کردار حسین

Share Article

 

عبدالغفار صدیقی

چیرمین راشدہ ایجوکیشنل اینڈ سوشل ٹرسٹ

محرم کا مہینہ آتے ہی بر صغیر میں عام طور پر اور شیعہ ممالک میں خاص طور پر حضرت امام حسین ؓ اور واقعہ کربلا کی گونج سنائی دینے لگتی ہے ۔کربلا کا واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے ۔یوں تواسلام کے دفاع کے لیے بہت سے صحابہ نے جام شہادت نوش فرمایا ۔حضرت عمر فاروقؓ،حضرت عثمان غنیؓ اور حضرت علی ؓبھی شہید کیے گئے ،ان سب کی شہادت بھی غیر معمولی تھی لیکن حضرت امام حسین ؓ نے جس طرح شہادت پائی وہ تاریخ اسلام کا غیر معمولی واقعہ ہے۔مگرامت مسلمہ نے اس شہادت سے کوئی نصیحت حاصل نہیں کی اور اس شہادت کے جو نتائج نکلنے چاہئے تھے وہ نہیں نکلے۔

مسلمانوں میں حادثات ،واقعات کے نام پر رسمیں تو انجام دی گئیں لیکن ان حادثات و واقعات کے پس منظر میں جو مقاصد پو شیدہ تھے یا جن مقاصد کے لیے یہ واقعات انجام پائے وہ مقاصد نظر انداز کردیے گئے۔اسی طرح مقاصد سے لاپرواہی عبادات اور تیوہار میں بھی دیکھنے کو ملتی ہے ۔نماز کی پابندی کے باوجود فحاشی کے کام ،حج کے باوجود دل کی تنگی،رمضان کے روزوں کے بعد بھی خدا سے بے خوفی،جانور کی قربانی کے ساتھ ہی حب دنیا میں اضافہ یہ سب اسی کا نتیجہ ہے کہ ہم ان امور کے مقاصد کو فراموش کردیتے ہیں۔اسی طرح ہم اپنے بزرگوں کے نام پر عرس اور میلے تو لگاتے ہیں مگر ان کے کارناموں کو نہ یاد رکھتے ہیں اور نہ ان کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔ان کے کارناموں کے نام پر من گھڑت قصے کہانیاں اور مافوق الفطرت واقعات بیان کیے جاتے ہیں ۔

اسی طرح کربلا کا واقعہ ہمارے اندر کوئی تبدیلی پیدا نہیں کرتا۔امام حسین ؓ اور ان کے اہل و عیال کی مظلومانہ شہادت ہمارے اندر کوئی ہل چل نہیں مچاتی۔سنی دنیا اس دن ڈھول تاشوں کے ساتھ ان کا تعزیہ نکالتی ہے،میلہ لگاتی ہے،لاٹھی و تلوار کے کرتب دکھاتی ہے،اس میں شامل افراد کے چہروں پر خوشی و مسرت کے جذبات صاف دیکھے جا سکتے ہیں ،مذہب کے نام پر کاروباری طبقہ میلاد کی محفلیں سجاتا ہے،حسین کے نام پر کھانے تقسیم کراتا ہے ،پیاسوں کے لیے سبیل لگاتا ہے۔مہمانوں کو مدعو کیا جاتاہے ،اچھے کپڑے پہننے اور اچھا کھانا کھانے کو اس دن ثواب سمجھا جاتا ہے۔مگر ان کی شہادت کیوں واقع ہوئی اور ہمیں کیا کرنا چاہئے اس پر بالکل روشنی نہیں ڈالی جاتی۔اسی طرح شیعہ طبقہ یکم محرم سے ہی غم کی چادر اوڑھ لیتا ہے۔کالی پٹیاں باندھی جاتی ہیں ،مجلسیں منعقد کرکے آہ و بکا کی جاتی ہے،تیر ،تلوار ،آگ اور چھریوں کا ماتم ہوتا ہے۔تعزیہ ،پنکھا ،دُ ل دُل نکالے جاتے ہیں ۔مگر یہاں بھی شہادت کی منظر کشی تو کی جاتی ہے مگر شہادت کے مقصد سے پہلو بچالیا جاتا ہے۔یہ ماتم اور مجلسیں چہلم کے بعد ختم ہوجاتی ہیں اور سب لوگ اپنی اپنی دنیا میں مگن ہوجاتے ہیں۔

حضرت امام ؓ کی شہادت کا واقعہ سن ۱۰محرم الحرام 61ہجری میں پیش آیا ۔اس وقت یزیدمسند حکومت پر متمکن تھا۔یزید حضرت امیر معاویہ کا لڑکا تھا ۔ حضرت امیر معاویہ ؓ صحابی رسول تھے۔احادیث کی کتابوں میں ان سے بعض احادیث بھی مروی ہیں۔وہ کاتبین وحی کی جماعت میں شامل تھے۔ان کے ہاتھ پر اس وقت کے موجود تمام صحابہ بشمول حضرت حسن ؓ اور حضرت حسین ؓ نے بیعت کی تھی۔اس کامطلب یہ ہوا کہ حضرت امیر معاویہ حق پر تھے ان کی حکومت حق تھی ،ان کے خلاف کسی نے اعلان بغاوت نہیں کیا تھا ۔امیر معاویہ نے ا پنے انتقال سے چار سال قبل ہی یزید کے لیے بیعت لے لی تھی۔ ان بیعت کرنے والوں میں سعد بن ابی وقاص ؓ بھی تھے جو عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں۔امیر معاویہ کے انتقال کے بعدیزید نے 60ہجری میں حکومت سنبھالی اورچالیس سال حکومت کی،یزید قسطنطنیہ پر فوج کشی کرنے والے لشکر کا امیر تھا جب کہ اس لشکر میں حضرت ابو ایوب انصاری ؓ بھی موجود تھے ،یزید جب خلیفہ ہوا تو اس وقت حضرت عبداللہ بن عمرؓ،عبدالرحمان بن ابی بکر ؓاور ابن زبیر ؓ تھے، زندہ تھے ۔یزید کی شادی حضرت امام حسین کے چچا زاد بھائی حضرت عبداللہ بن جعفر کی بیٹی سے ہوئی تھی اس طرح یزید امام حسین ؓکی بھتیجی کا شوہر تھا،یزید کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ شرابی ،زنا کار،اور جواری تھا وہ نماز کا پابند نہیں تھا۔مگریزید کی مخالفت کرنے والے محض چار افراد تھے اور انھوں نے بھی کبھی اس کے کردار کو نشانہ نہیں بنایا تھا،یہ بات کیسے عقل میں آسکتی ہتے کہ ایک صحابی رسول حضرت امیر معاویہ اس قدر نالائق بیٹے کے لیے بیعت لیتے ،اور صرف چار چھ افراد ہی مخالفت کرتے ۔بہر حال حضرت امیر معاویہ کے بعد یزید نے خلافت سنبھالی اور امام حسین ؓنے بیعت سے انکار کیا ،امام کو کوفہ کے لوگوں نے اس بات کے لیے آمادہ کیا وہ کوفہ تشریف لائیں ہم ان کے ساتھ ہیں ،مگر بعد میں وہ اپنے عہد سے پھر گئے ،ادھر یزید کے خیمہ میںبھی ایسے عناصر موجود تھے جو امام حسین ؓ کو شہید کرنا چاہتے تھے ،اس طرح کربلا کے میدان میں حضرت امام حسینؓ کی شہادت واقع ہوئی۔اگرچہ یہ تاریخی واقعہ ہے اور اس کا دین کے ارکان سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔یہ تو اللہ ہی جانتا ہے کہ کس نے سازش کی اور یزید کا اس میں کردار کیا تھا ۔لیکن بظاہر جو معلومات کا ذخیرہ ہمیں تاریخ سے ملتا ہے اور اس وقت کے سیاسی سسٹم کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ حضرت امام حسین ؓ کو بیعت سے انکار یزید کے کردار کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ حضرت امیر معاویہؓ کے ذریعہ اس کی ولی عہدی کے طریقہ کار سے تھا ۔امام حسینؓ نے اصلا یزید سے نہیں بلکہ امیر معاویہ ؓسے اختلاف کیا تھا،امیر معاویہؓ کو اس کا علم بھی تھا۔

اسلامی خلافت کا زمانہ حضرت ابوبکر صدیق کی خلافت سے شروع ہوتا ہے،ان کے بعد حضرت عمر فاروقؓ،پھر حضرت عثمان غنیؓ اور ان کے بعد حضرت علی ؓہیں ۔حضرت علی کے بعد حضرت حسن ؓ کو لوگ خلیفہ بناتے ہیں لیکن حضرت حسن ؓ حضرت امیر معاویہ کے حق میں دست بردار ہوجاتے ہیں۔ان خلفاء میں اسلام ،ایمان کا رشتہ تو ہوتا ہے لیکن خون کا رشتہ نہیں ہوتا ،یعنی کسی خلیفہ نے اپنے بعد اپنے بیٹے کو خلافت نہیں سونپی،بلکہ یا تو عمر ؓ جیسے بالغ نظر صحابی کا تقرر کیا گیا،یا چھ لوگوں میں ایک کو چن لینے کی بات کہی ،یا پھر عام مسلمانوں کے مشورے سے انتخاب ہوا ۔امیر معاویہ کے ذریعہ ،یزید کی ولی عہدی دراصل خاندانی بادشاہت کا اشارہ تھا ۔اسی خاندانی اور موروثی بادشاہت کی مخالفت حضرت امام حسین ؓنے کی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *