آج ہر سطح پر عوام پریشان

Share Article
modi priminister of india

تین ریاستوں،راجستھان ، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں کانگریس کے وزیر اعلیٰ بن گئے ہیں۔ ان ریاستوں سے متعلق سارے ایگزٹ پول غلط ثابت ہوئے۔ راجستھان میں کہا گیا کہ کانگریس بھاری اکثریت سے جیتے گی جو غلط ثابت ہوا۔ چھتیس گڑھ میں کہہ رہے تھے کہ بی جے پی جیتے گی، وہ بھی غلط ثابت ہوا۔ مدھیہ پردیش میں کہا گیا کہ ٹکر کا مقابلہ ہے لیکن بی جے پی جیتے گی، وہ بھی نہیں ہوا۔ اس کا مطلب ہے کہ ایگزٹ پول ہندوستان میں صحیح نہیں ثابت ہوتے ہیں۔
یہ پہلی بار نہیں ہوا ہے۔ پہلے بھی کئی بار ایگزٹ پول اور انتخاب سے قبل سروے غلط ثابت ہو چکے ہیں۔ تینوں ریاستوں میں لوگ الگ الگ نتیجوں کی بات کرتے تھے، لیکن میرا ماننا تھا کہ تینوں ریاستوں میں ایک جیسے نتیجے آئیں گے۔ تینوں جگہ بی جے پی یا تو مینیج کر لے گی ( بوتھ مینجمنٹ یا اور طرح کے مینجمنٹ کے دم پر ) یا تینوں جگہ ہار جائے گی۔ الگ الگ نتیجے نہیں آئیں گے۔ لوگوں کی نفسیات ایک ہی ہوتی ہے۔
اگر ان نتیجوں کا تجزیہ کریں تو دو نتیجے سامنے آتے ہیں۔ پہلا پورے ملک کی تصویر ایک ہی ہے۔ بی جے پی کے لوگ اپنی ہیکڑی بازی میں کہتے تھے کہ اتنی ریاستیں ہمارے پاس آئی ہیں۔یہ سب غلط ہیں ۔نارتھ ایسٹ میں آسام کو ملا کر کل 8 ریاستیں ہیں۔اگر آسام کو چھوڑ دیں تو جو باقی ریاستیں ہیں وہ محض نام کی ہیں۔ان کی آبادی بہت کم ہے، وہاں سے لوک سبھا نمائندگی ایک ایک، دو دو ہے اور ان کا ریونیو بھی بہت کم ہے۔ وہاں جو بھی سرکار رہتی ہے، مرکزی سرکار پر منحصر رہتی ہے ۔ اس لئے ان کو گننا یا نہ گننا سیاست کے حساب سے کوئی مطلب نہیں رکھتا ہے۔ ان کو اگر چھوڑ دیںتو باقی ملک کی تصویر پر ایک نظر ڈال لیجئے۔
اوپر سے شروع کیجئے تو صرف ہماچل اور ہریانہ میں بی جے پی سرکار ہے۔ کشمیر اور پنجاب میں نہیں ہے۔ اس کے بعد راجستھان میں نہیں ہے۔ مغرب میں دیکھیں تو مہاراشٹر ، گجرات اور گوا میں ان کی سرکاریں ہیں۔ کرناٹک ، کیرل ، آندھرا پردیش اور تمل ناڈو میں نہیں ہے۔

 

 

مستحسن ہے کسانوں کی قرض معافی کا اعلان

 

اوپر واپس آئیے تو اڑیسہ اور مغربی بنگال میں نہیں ہے۔ بہار اور اترپردیش میں جب بھی انتخابات ہوں گے، وہ بھی صاف ہو جائیں گے۔ بی جے پی کا فٹ پرنٹ بہت کم ہو گیا ہے۔ بی جے پی کو بھی اس بات کا اندازہ ہے، بھلے وہ اسے مانے یا نہ مانے۔ جھوٹ کی ان کی عادت ہے، یہ خود کے جھوٹ میں خود ہی پھنس جاتے ہیں۔ اگر آپ مجھ سے ایمانداری سے پوچھیں گے تو ان تینوں نتیجوں کے بعد میری ہمدردی نریندر مودی جی کے ساتھ چلی گئی ہے۔ وہ اس لئے کہ یہی ہوتاہے۔
گوبلس جرمنی میں ہٹلر کے انفارمیشن منسٹر تھے۔ ان کا کام پروپیگنڈہ پھیلانا تھا۔ ایمرجینسی کے دوران یہاں بھی اخبار بند کر دیئے گئے تھے، تو ظاہر ہے لوگوں کو غلط اندازے ملیں گے اور لوگ گمراہ ہو جائیں گے۔ ابھی بھی یہی ہوا ہے۔ آپ نے سبھی اخبار کے مالکوں کو خرید لیا ہے یا ڈرا دیا ہے۔ ساری غلط خبریں اخبار میں چھپتی ہیں اور آپ خود اس کے شکار ہو گئے ہیں۔ آپ نہیں بھی ہوئے تو آپ کی پارٹی کے لیڈر الگ الگ سطح پر گمراہ ہو گئے ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ یہ کچھ بھی بولیں لیکن مودی جی کی شبیہ کی وجہ سے بی جے پی ایک ایک کرکے ریاست جیت رہی تھی۔ فطرت کا دستور ہے کہ جو اوپر جاتاہے ،وہ نیچے بھی آتا ہے۔ اب جو مودی جی کی شبیہ ہے وہ دھندلی ہو گئی ہے۔ انہوں نے جو وعدے کئے تھے ،وہ پورے نہیں کر پائے ہیں۔ لوگوں کو نوکریاں نہیں ملیں۔ انتخاب کے دوران کہا گیا تھا کہ لوگوں کی زندگی میں خوشحالی آجائے گی اور ہر ایک کے کھاتے میں 15 لاکھ روپے آجائیں گے۔یہ مضحکہ خیز باتیں تھیں، لیکن لوگوں کو امید تھی کہ انہیں کچھ راحت ملے گی۔ راحت کی بجائے آج ہر سطح پر عوام پریشان ہیں۔ ان تینوں ریاستوں کے نتیجے اسی پریشانی کو ظاہر کرتے ہیں۔ اب اس کا قصور وسندھرا راجے پر ڈالنا، رمن سنگھ پر ڈالنا یا شیو راج سنگھ چوہان پر ڈالنا ایک دھوکہ ہے۔
اگر بی جے پی کو اپنا فٹ پرنٹ ٹھیک کرنا ہے تو اسے واپس محنت کرکے مودی جی کی شبیہ سدھارنی پڑے گی۔ ظاہر ہے کہ شبیہ سدھرتی ہے کام کرنے سے، فیصلوں سے، فیصلوں کے نتیجوں سے۔ انہوں نے نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کی غلطیوں کو سدھارنے کی کوشش کی ہے۔جی ایس ٹی کے لئے مودی جی نے کام شروع کر دیاہے۔ وہ کہتے ہیں کہ 28 سے 18 فیصد پر لائیں گے ۔خیر دیر آئے درست آئے۔ میرا ماننا ہے کہ اب جو پارٹی یہ کہہ دے کہ ہم پاور میں آنے کے بعد جی ایس ٹی ہٹا دیں گے، وہ پارٹی الیکشن جیت جائے گی۔ کیونکہ چھوٹے کیرانہ کاروباری، دوکاندار اور چھوٹے لوگ جی ایس ٹی سے پریشان ہیں۔ بڑے صنعتکار گھرانے خوش ہیں۔ لیکن اس سے کیا ہوتاہے جو ووٹ مکیش امبانی کا ہے، وہی کیرانے والے کا ہے۔

 

بیمار پاکستانی طبی خدمات کو درست کرنے کی ضرورت

 

وزیر اعظم جو فیصلے لیتے ہیں، وہ اچھی نیت سے لیتے ہیں ۔ نوٹ بندی کا فیصلہ بھی انہوں نے اچھی نیت سے لیا تھا، جی ایس ٹی کا بھی فیصلہ اچھی نیت سے لیا تھا، لیکن یہ الٹے پڑ گئے۔ اگر پاور میں رہنا ہے ،2019 کے الیکشن میں واپس زور ڈالنا ہے تو اپنے قدم واپس لینے پڑیں گے۔ لیکن جو ان کا مزاج ہے، اس میں تو قدم واپس لینے کی بات تو ان کی ڈکشنری میں ہے ہی نہیں۔
بہر حال وہ جانیں، امیت شاہ جانیں ، مارگ درشک منڈل جانے لیکن اس کا ایک آبجکٹیو تجزیہ میں ہمیشہ کرتاہوں۔ میری اس میں بالکل دلچسپی نہیں ہے کہ کانگریس پاور میں آجائے۔جی ایس ٹی چدمبرم کے دماغ کی پیداوار تھی۔ رگھو رام راجن اور اُرجیت پٹیل تو چدمبرم صاحب کی طرح امریکہ پرست ہیں۔ ہم سماج وادی لوگ تو ان کے سخت خلاف ہیں۔ 1991 کے لبرلائزیشن کے بھی خلاف تھے لیکن آج ایک مزاج بن گیاہے اس ملک میں۔ امریکہ کی نقل کرنے والا ملک تو گڈھے میں ہی گیا ہے۔ اگر ابھی بھی وہ نہیں سدھرے تو ( الیکشن کی ہار جیت کی تو میں نہیں کہتالیکن ) ملک کے لئے یہ صحیح نہیں ہے۔

 

 

نصیرالدین شاہ کے بیان پر پاکستانی وزیراعظم عمران خان کا تبصرہ

 

آج ریزرو بینک کے گورنر کا معاملہ ہے ۔ اب ہم چاہے سرکار کے کتنے بھی خلاف ہوں، لیکن ریزرو بینک آف انڈیا کا گورنر سمجھے کہ میری اٹانومی ،میری آزادی اتنی ہے کہ مجھے وزیر خزانہ سے ملنے کی ضرورت نہیں ہے تو اس کا سیدھا جواب ہے کہ تم نوکر آدمی ہو، راستہ ناپو، کوئی دوسرا آئے گا تمہاری جگہ۔ لیکن یہ سرکار کمزور سرکار ہے۔ میں جیٹلی کی جگہ ہوتا تو جب ریزرو بینک کے ڈپٹی گورنر ویرال اچاریہ کا پہلا بیان آیا تھا ،اسی وقت ان سے کہتا کہ ارجیت پٹیل کی طرح تم بھی استعفیٰ دو۔ ملک میں بہت ٹالنٹ ہے بہت تجربہ ہے۔ ایسی کوئی بات نہیں ہے کہ ہم ریزرو بینک نہیں چلا سکتے یا بینکنگ نہیں چلا سکتے۔ ملک کی اقتصایات کو چرمرانے میں ریزرو بینک کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔
اگر آپ وقت پر نہیں سدھرے تو معاملہ اور بگڑے گا۔ صنعتیں بند ہوں گی، بے روزگاری اور بڑھے گی اس سے کسی کا فائدہ نہیں ہے۔ اگر روزگار بڑھانا ہے تو صنعت چلنی چاہئے۔ چھوٹی درمیانی صنعت چلنے چاہئے۔ صرف دس بڑے گھرانوں سے روزگار نہیں ملتا۔ ان باتوں کو دھیان میں رکھ کر اور اگر یہ ٹھیک پالیسیاں اپنائیں تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ دھیرے دھیرے ہم لوگ واپس ٹھیک نہیں ہو سکتے۔ میرا تو ان تین ریاستوں کے نتیجے کو لے کر یہی تجزیہ ہے۔ ہو سکتا ہے کہ میں غلط ہوں لیکن میر رائے یہی رہے گی کہ اپنے پانچویں سُر کو کم کیجئے، دو قدم پیچھے لیجئے، تجزیہ کیجئے۔ معافی مانگئے عوام سے اور کارگر طریقے سے انتخابات لڑیئے۔ پھر دیکھے کیا ہوتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *