آج سماج کو سب سے زیادہ تعلیم کی ہی ضرورت ہے: پروفیسر تبسم شہاب

Prof-Tabassum-shahab
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی(اے ایم یو) کے پالی ٹیکنک آڈیٹوریم میں سماجی تنظیم ڈاکٹر ذاکر حسین فاؤنڈیشن، علی گڑھ کے چودہویں سالانہ اجلاس کے موقع پر منعقد قومی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اے ایم یو کے پرو وائس چانسلر پروفیسر تبسم شہاب نے کہاکہ تعلیم کے بغیر کوئی بھی سماج یا فرد آگے نہیں بڑھ سکتا اور آج سماج کو سب سے زیادہ تعلیم کی ہی ضرورت ہے۔ سیمینار کا موضوع تھا ’سرسید کی بصیرت اور تعلیم نسواں کیلئے ان کے ذریعہ کی گئی کوششیں‘‘ ۔ پروفیسر تبسم شہاب نے کہا کہ ڈاکٹر ذاکر حسین فاؤنڈیشن غریبوں کی مدد اور عوامی بہبود کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے اور وہ تنظیم کو ہر ممکن مدد فراہم کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ اے ایم یو کا کردار ہمیشہ سے ہی سیکولر رہا ہے اور یہاں پربغیر کسی تفریق کے سبھی مذاہب و طبقات کے ماننے والوں کے ساتھ یکساں برتاؤ کیا جاتا ہے۔ پرو وائس چانسلر نے کہا کہ اس ادارے نے تعلیم کے ساتھ ساتھ پولیو کے خاتمہ میں بھی اہم کردار نبھایا ہے، ملک سے پولیو کے خاتمہ کا سہرا اس ادارے کو بھی جاتا ہے۔
ماہر تعلیم و صنعتکار اور اے ایم یو کے سابق طالب علم انجینئر ندیم اختر ترین نے کہاکہ سرسید نے تعلیم کی جو شمع روشن کی تھی آج وہ پوری دنیا میں پھیل گئی ہے اور اس ادارے کے سابق طلبہ ان کے مشن کو کامیاب بنانے میں مصروف ہیں۔ ندیم ترین نے کہا کہ موجودہ وقت میں ڈاکٹر ذاکر حسین فاؤنڈیشن جیسی تنظیم کی بے حد ضرورت ہے تاکہ زمینی سطح پر سماج کے دبے کچلے طبقہ کی بہبود کے لئے کام ہوسکے۔ انھوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ایسی تنظیموں سے وابستہ ہوکر بے سہارا و کمزور افراد کی مدد کے لئے آگے آئیں۔ آر اے ایف 104بٹالین کے کمانڈنٹ ہلال فیروز احمد نے کہا کہ ڈاکٹر ذاکر حسین فاؤنڈیشن جس طرح سے دبے کچلے طبقہ کی مدد کررہی ہے اس کے لئے وہ مبارکباد کی مستحق ہے۔ انھوں نے کہاکہ یہ تنظیم نہ صرف غریبوں کی بلکہ علی گڑھ کی فلاح و بہبود کے لئے بھی کام کررہی ہے۔ انھوں نے مزید کہاکہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پوری دنیا میں تعلیم کے ساتھ ساتھ محبت و بھائی چارہ کا بھی فروغ کررہی ہے۔ سینئر صحافیہ عارفہ خانم شیروانی نے کہاکہ مسلم خواتین کی ترقی کے بغیر سماج کی ترقی نہیں ہوسکتی، خواتین کے آگے بڑھنے سے ہی اعلیٰ خیالات کے حامل سماج کی تشکیل ہوسکتی ہے۔ انھوں نے ملک کی موجودہ سیاسی و سماجی صورت حال پر بھی گفتگو کی۔
چیف سٹی کمشنر سنتوش کمار شرما نے کہاکہ ڈاکٹر ذاکر حسین فاؤنڈیشن جس طرح سے سرسید کے خوابوں کو آگے بڑھارہا ہے اس کے لئے وہ مبارکباد کی مستحق ہے۔ مسٹر شرما نے کہاکہ دو سال کی مدت کار میں انھیں علی گڑھ کے مسائل کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا ہے اور یہ خوشی کی بات ہے کہ علی گڑھ کا انتخاب اسمارٹ شہروں کی فہرست میں کیا گیا ہے۔ چیف سٹی کمشنر نے کہا کہ انھوں نے اس مہم میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو نالج پارٹنر کے طور پر شامل کیا۔ انھوں نے اپیل کی کہ یہاں کے سبھی لوگ سوچھتا کے سروے میں اپنا ردّ عمل ضرور دیں۔ سیمینار میں خطبۂ استقبالیہ ڈاکٹر گیان پرکاش نے پیش کیا ۔ ڈاکٹر ذاکر حسین فاؤنڈیشن کی سکریٹری محترمہ ساجدہ ندیم نے تنظیم کی سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی تنظیم گزشتہ 13؍برسوں سے تعلیم، صحت اور خواتین کے تفویض اختیارات کے لئے لگاتار کام کررہی ہے اور یہ سب ممبران کے تعاون سے ہی ممکن ہوپایا ہے۔ اے ایم یو کے شعبۂ انگریزی کی پروفیسر ثمینہ خاں نے سائنسی سیشن کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہاکہ سرسید نے جس ادارہ کو قائم کیا تھا اس کے نتیجے آج ہمارے سامنے آرہے ہیں اور آج یہاں تقریباً 50؍فیصد لڑکیاں زیر تعلیم ہیں ۔
پروگرام کے دوران مسٹر ندیم اختر ترین کو فاؤنڈیشن کے ایوارڈ ’’شانِ محفل‘‘ سے نوازا گیا جب کہ تقریباً دو درجن لوگوں کو سماجی خدمت، تعلیم، طب، انتظامیہ اور دیگر شعبوں میں قابل ذکر خدمات پر پینٹاگن ایکسیلنس ایوارڈ ۔2018پیش کیا گیا۔ ان میں ہلال فیروزاحمد، سنتوش کمار شرما، پروفیسر حکیم نعیم احمد خاں، عارفہ خانم، ڈاکٹر شارق عقیل، ڈاکٹر دوّیا لہری، ڈاکٹر خاں واثق، گیانیندر شرما، ڈاکٹر زیڈ اے ڈینٹل کالج کی سینئر استاد ڈاکٹر شردھا راٹھی، ڈاکٹر معراج علی اور دنیش جیویلرس شامل ہیں۔ سائنسی سیشن میں ڈاکٹر عُثما خاں، مَنا مشتاق اور مظفر منظور کو بالترتیب اول، دوئم اور سوئم بیسٹ پیپر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ مختلف اسکولوں کے ہونہار طلبہ طالبات اور کھلاڑیوں کو بھی ایوارڈ پیش کئے گئے اور طالبات کو ڈاکٹر ذاکر حسین فاؤنڈیشن اسکالرشپ کے چیک تقسیم کئے گئے۔ اس موقع پر غریب خواتین و لڑکیوں کو 28؍سلائی مشینیں اور 26؍سائیکلیں بھی تقسیم کی گئیں۔
پروگرام کی نظامت ڈاکٹر شارق عقیل نے کی، جب کہ حاضرین کا شکریہ ڈاکٹر ذاکر حسین فاؤنڈیشن کے نائب صدر ایس ایم توقیر عالم نے ادا کیا۔ پروگرام کے انعقاد میں ڈاکٹر ذاکر حسین فاؤنڈیشن کے سرپرست ندیم راجہ نے سرگرم کردار نبھایا ۔ پروگرام کے دوران اے ایم یو پالی ٹیکنک کے سابق پرنسپل پروفیسر صدیق حسن اور اجمل خاں طبیہ کالج کے سابق پرنسپل و مڈیسن فیکلٹی کے سابق ڈین پروفیسر انیس احمد انصاری کے انتقال پر دو منٹ کی خاموشی اختیار کرکے انھیں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *