الیکٹورل بانڈ کو چیلنج دینے والی درخواست پر سپریم کورٹ میں سماعت مکمل، فیصلہ آج

Share Article

 

سیاسی جماعتوں کے چندے کے لئے الیکٹورل بانڈ کے طریقہ کو چیلنج دینے والی درخواست پر سپریم کورٹ 12 اپریل کو فیصلہ سنائے گا۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والی بنچ نے آج تمام فریقین کی دلیلیں سننے کے بعد فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔
دس اپریل کو سماعت کے دوران الیکشن کمیشن نے اپنے پہلے کے موقف سے یو ٹرن لے لیا تھا۔ سماعت کے دوران الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ وہ پارٹیوں کی فنڈنگ کے لئے الیکٹورل بانڈ کے خلاف نہیں ہے بلکہ وہ رقم دینے والوں کے نام خفیہ رکھنے کے خلاف ہے۔

 

 

سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو اس بات کی یاد دلائی تھی کہ اس نے مرکز کو لکھے گئے خط میں الیکٹورل بانڈ کو ایک اچھا قدم نہیں مانا تھا۔ کورٹ نے پوچھا تھا کہ کیا آپ کا موقف بدل گیا ہے۔ تب الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ الیکٹورل بانڈ میں کچھ بھی غلط نہیں ہے لیکن الیکٹور ل بانڈ میں فنڈدینے والوں کے نام عام ہونے چاہئے کیونکہ الیکشن کمیشن اور لوگوں کو سیاسی جماعتوں کی فنڈنگ کے بارے میں جاننے کا حق ہے۔
عرضی میں اس سے بدعنوانی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ وکیل پرشانت بھوشن نے اس پر فوری طور پر روک لگانے کا بھی مطالبہ کیا۔ پانچ اپریل کو سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ آپ مطالبے کے حق میں دلائل پیش کریں، ہم اس پر غور کریں گے۔ الیکشن کمیشن نے پہلے حلف نامہ دائر کر الیکٹورل بانڈ کی مخالفت کی تھی جبکہ مرکزی حکومت نے اس کی حمایت کی ہے۔
دو فروری کو سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا تھا۔ عرضی سی پی ایم کے جنرل سکریٹری سیتا رام یچوری نے بھی دائر کی ہے۔ سپریم کورٹ نے اس درخواست کو ایک این جی اوکے ذریعہ دائر ایک اسی طرح کی درخواست کے ساتھ ٹیگ کر دیا ہے۔

 

 

عرضی میں فائنانس ایکٹ 2017 کے ذریعے الیکٹورل بانڈ کے ذریعے سیاسی جماعتوں کو فنڈنگ کرنے کی تجویز کو چیلنج کیا گیا ہے۔ ایک این جی او ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس (اے ڈی آر) نے بھی درخواست دائر کر اس قانون کی مخالفت کی ہے۔ اے ڈی آر کی جانب سے وکیل پرشانت بھوشن نے کہا تھا کہ اس ترمیم کے تحت کسی کارپوریٹ کے ذریعہ سیاسی جماعتوں کو فنڈ دینے کی زیادہ سے زیادہ 7.5 فیصد کی حد کو ختم کر دیا گیا ہے۔
اس الیکٹورل بانڈ کے ذریعے سیاسی پارٹی بغیر کسی انکشاف کے رقم لے سکتی ہے۔ اس بانڈ کو خریدنے والے کے نام کا انکشاف نہیں ہوگا اور وہ کسی بھی سیاسی پارٹی کو یہ بانڈ چندے کے طور پر دیا جا سکتا ہے۔ اس بانڈ کے ذریعے سیاسی پارٹی غیر ملکی تنظیموں سے بھی چندہ لے سکتے ہیں۔ گزشتہ مارچ میں لوک سبھا نے فائنانس بل ۔2017 میں ترمیم کی تھی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *