اقلیت طبقے ووٹ نہ ڈال سکیں اس لئے رمضان کے وقت کرایا جارہا ہے الیکشن: ٹی ایم سی 

Share Article

muslim-womens-voters

گزشتہ کل الیکشن کمیشن نے لوک سبھا الیکشن 2019کی تاریخوں کا کردیا ہے اور سیاسی پارٹیاں پوری طرح سے سیاسی میدان اتر گئی ہیں اورسیاسی پارٹیاں طرح۔ طرح کی بیان بازی کرنے لگی ہیں۔ اسی ضمن میں ترنمول کانگریس لیڈر اور کولکاتا میونسپل کارپوریشن کے میئر فرہد حکیم نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے رمضان کے وقت الیکشن کی تاریخیں رکھی ہیں تاکہ اقلیتیں ووٹ نہ ڈال سکیں۔ انہوں نے کہا کہ رمضان میں الیکشن ہونے کی وجہ سے لوگوں کو ووٹ ڈالنے میں پریشانی ہوگی۔

یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ ٹی ایم سی لیڈر رمضان کا معاملہ اٹھا رہے ہیں۔ گزشتہ پنچایت انتخابات کے دوران بھی ٹی ایم سی لیڈر اور وزیر پارتھ چٹرجی نے مغربی بنگال کے الیکشن کمشنر سے مل کر کہا تھا کہ الیکشن رمضان کے پہلے کروا لیا جائے۔

وہیں بی جے پی نے اس پر پلٹوار کیا ۔ بی جے پی کے اقلیتی مورچہ کے جنرل سکریٹری ارشد عالم نے آئین میں کہیں نہیں لکھا ہے کہ رمضان کے وقت ایئر کنڈیشن کمروں میں بیٹھ کر آرام کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ لیڈروں کو ہر الیکشن میں رمضان کو بیچ لاکاچاہئے۔

قابل غور ہے کہ مغربی بنگال میں 31 فیصدی مسلمان ووٹر ہیں۔ الیکشن کمیشن کے اعلان کے مطابق مغربی بنگال میں سات مرحلوں میں الیکشن ہوں گے۔ اسی بیچ 5 مئی سے 4 جون تک رمضان پڑ رہے ہیں۔ کانگریس نے بھی اس کی حمایت کی ہے۔ مغربی بنگال کے کانگریس چیف سومیندر ناتھ مترا نے کہا کہ پول پینل کو اس معاملہ پر غور کرنا چاہئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *