Tik Tok ایپ کا معاملہ پہنچاسپریم کورٹ،عدالت کا جلد سماعت سے انکار

Share Article
Tik-Tok

نئی دہلی: ٹک۔ٹاک ایپ کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔سپریم کورٹ نے پیر کو ٹک ٹاک اپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے پر پابندی عائد مدراس ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کو چیلنج دینے والی درخواست پر فوری سماعت سے انکار کر دیا۔ مدراس ہائی کورٹ نے ایپ پر دستیاب فحش مواد کو لے کر اس کے ڈاؤن لوڈ پر پابندی لگانے کا حکم دیا تھا۔
مدراس ہائی کورٹ کی مدورے بنچ کی پابندی کے حکم کے خلاف ایپ ڈیولپر کمپنی نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے۔سوموار کو درخواست گزار کی جانب سے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے سپریم کورٹ سے جلد سماعت کا مطالبہ کیا تو کورٹ نے انکار کر دیا۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والی بنچ نے کہا کہ سماعت ضابطے کے عمل کے تحت ہوگی۔

ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا کہ اس ایپ کو ایک ارب مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے، لیکن ہائی کورٹ نے ایک وکیل کی درخواست پر اس کے ڈاؤن لوڈ کرنے پر پابندی لگا دی۔ ہائی کورٹ نے ہمیں اپنی بات رکھنے کا موقع بھی نہیں دیا۔ایپ بنانے والی کمپنی نے مدراس ہائی کورٹ کے حکم پر روک کا مطالبہ کیا ہے۔مدراس ہائی کورٹ نے حکومت کو ہدایت دی تھی کہ ایپ کے ڈاؤن لوڈ کرنا پر روک لگے۔

ایک درخواست میں مدراس ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے اور ہائی کورٹ کے حکم پر روک لگانے کی کوشش کی گئی ہے۔حالانکہ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں جلد سماعت سے انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ اس معاملے کو دیکھیں گے اور لسٹ کے مطابق ہی سماعت ہوگی۔آپ کو بتا دیں کہ مدراس ہائی کورٹ کی مدورے بنچ نے مرکزی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ ویڈیو ایپ ٹک ٹاک کی ڈاؤن لوڈ نگ پر پابندی لگائے۔ ساتھ ہی عدالت نے میڈیا کو ہدایت دی ہے کہ ٹک ٹاک پر بنے ویڈیو نشر نہ کریں۔ دیہات اور چھوٹے شہروں میں فیمس ٹک ٹاک کے ذریعے 15 سیکنڈ تک کے ویڈیو بنا کر شیئرکئے جا سکتے ہیں۔ لوگ اس پلیٹ فارم پر ڈانسنگ، سنگنگ،فنی اور ہر طرح کی ویڈیو بناتے ہیں۔ہائی کورٹ کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاک کے ذریعے فحش مواد پھیلائی جارہی ہے جو بچوں کے لئے نقصان دہ ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *