تین طلاق دینے پرہوگی تین سال کی جیل اورجرمانہ

Share Article

 

تین طلاق بل لوک سبھا کے بعد راجیہ سبھا میں بھی پاس ہوگیا ہے۔ راجیہ سبھا میں بل کے حق میں 99 اوربل کی مخالفت میں 84 ووٹ پڑے ہیں۔ اس بل کے پاس ہونےکے بعد تین طلاق کی روایت پوری طرح سے جرم کے زمرے میں آگئی ہے۔ ہم یہاں پرآپ کو بتارہےہیں کہ اب تین طلاق دینےکے معاملے میں کسی ملزم کوکتنی سزا ملنےکی تجویز کی گئی ہے۔

Image result for triple talaq bill

تین طلاق بل کا پورا نام مسلم خواتین (تحفظ خواتین حقوق ایکٹ) بل 2019 ہے۔ اس بل کے قانون بن جانےکے بعد زبانی، تحریری اوردیگرسبھی ذرائع میں تین طلاق دینا جرم کے زمرے میں اعلان کیا جا چکا ہے۔ ایسے میں اگرکوئی شخص اپنی بیوی کوتین طلاق دیتا ہے تویہ جرمانہ ہوگا اورایسے میں اس کےخلاف اس قانون کےتحت کارروائی کی جاسکے گی۔

Image result for triple talaq bill

تین طلاق بل میں تین طلاق دینے پرکسی شخص کےخلاف تین سال تک جیل کی سزا کی تجویزہے۔ اس کےساتھ ہی اس شخص پرجرمانہ بھی لگایا جائےگا۔ تین طلاق کے معاملے میں ضمانت کےلئے مجسٹریٹ کے پاس جانا ہوگا۔ اگرکسی خاتون کوتین طلاق دیا جاتا ہےتووہ اپنے شوہرسےمعاوضے کا مطالبہ کرسکتی ہے۔

Image result for triple talaq bill

حالانکہ ان معاملات میں کسی یقینی رقم کومعاوضے کے طور پر طے نہیں کیا گیا ہےاورمتاثرہ خاتون کوکتنا معاوضہ دینا ہے، اسے مجسٹریٹ سماعت کے بعد طے کریں گے۔ اس بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ متاثرہ خاتون کونابالغ بچوں کی کسٹڈی کا مطالبہ کرسکتی ہے۔ ساتھ ہی بچےکس کے پاس رہیں گے، اس کا فیصلہ بھی مجسٹریٹ سماعت کے بعد کریں گے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *