تین طلاق…کچھ تو پردے میں ہے۔؟

Share Article

 

ریاض فردوسی

 

طلاق دے تو رہے ہو عتاب و قہر کے ساتھ
مرا شباب بھی لوٹا دو میری مہر کے ساتھ

 

 

اور اگرتم ان دونوں کے درمیان مخالفت سے ڈروتوایک منصف شوہرکے رشتہ داروں میں سے اور ایک منصف بیوی کے رشتے داروں میں سے مقررکردو،اگردونوں اصلاح کاارادہ رکھیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے درمیان موافقت پیدا کردے گابلاشبہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ہی سب کچھ جاننے والا،ہرچیزکی خبررکھنے واالا ہے۔(سورہ النسائ۔آیت۔35)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طلاق کو ابغض الحلال کہا ہے(رواہ ابن ماجہ۔2018)

لیکن اگر صلح ومصالحت کے سارے امکانات ختم ہو تب طلاق کی اجازت اس لئے ہے کہ فتنہ وفساد نہ پھیلے، آپس میں خورینزی نہ ہو، ہماری عزت کا تاتماشہ نہ بنیں ،اغیار کو موقع نہ ملے کہ ہمارے ذریعے مذہب اسلام پر حملہ کرے۔لیکن آج ہمارے سارے فیصلے باطل نظام اور اس سے جڑے لوگ ہی کر رہے ہیں،اور ہماری بہنیں ،بیٹیاں فیصلے کے لئے عدالتی راستوں کے چکّر کاٹتی رہتی ہے۔بڑا شرمناک المیہ ہے یہ؟

 

اے نبی!جب تم لوگ عورتوں کوطلاق دوتوانہیں اُن کی عدت میں طلاق دو اور عدت کو شمار کیا کرو اوراللہ تعالیٰ سے ڈروجوتمہارارب ہے تم اُنہیں اُن کے گھروں سے نہ نکالو اورنہ ہی وہ خود نکلیں مگر یہ کہ وہ کھلی بے حیائی کریں اوریہ اللہ تعالیٰ کی حدود ہیں اورجواللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کرتاہے توبلاشبہ اُس نے خودپرہی ظلم کیاہے آپ نہیں جانتے اس کے بعد شاید اللہ تعالیٰ کوئی نئی بات پیداکردے۔(سورہ۔طلاق آیت۔1) اس آیت مبارکہ میں طلاق کی پہلی قسم بتای گئی ہے۔طلاق کی دوسری قسم کا ذکر اس آیت مبارکہ میں ہے۔

 

طلاق دو مرتبہ ہے۔ پھر دستور کے مطابق یا تو روک لینا ہے، یا احسان کے ساتھ رخصت کردینا ہے اور تمہارے لئے یہ بات جائز نہیں کہ تم نے جو کچھ عورتوں کو دیا ہے، اس میں سے کچھ واپس لو، مگر اس صورت میں کہ دونوں کو اندیشہ ہو کہ وہ حدودِ الہٰی کو قائم نہیں رکھ سکیں گے۔ پس اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ وہ دونوں حدودِ الہٰی پر قائم نہیں رہ سکتے تو ان پر اس چیز کے باب میں کوئی گناہ نہیں ہے جو عورت فدیہ میں دے۔ یہ اللہ کے حدود ہیں تو ان سے تجاوز نہ کرو اور جو اللہ کے حدود سے تجاوز کرتے ہیں تو وہی لوگ ظالم ہیں۔(سورہ البقرہ۔آیت۔229)

 

ایک شخص اپنی بیوی کو طلاق دے اور عدت گزرنے سے پہلے محض اس لیے رجوع کر لے کہ اسے پھر ستانے اور دق کرنے کا موقع ہاتھ آجائے۔ اللہ تعالیٰ ہدایت فرماتا ہے کہ رجوع کرتے ہو تو اس نیت سے کرو کہ اب حُسنِ سلوک سے رہنا ہے۔ ورنہ بہتر ہے کہ شریفانہ طریقے سے رخصت کر دو۔اس حقیقت کو فراموش نہ کر دو کہ اللہ نے تمہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے کر دنیا کی رہنمائی کے عظیم الشان منصب پر مامور کیا ہے۔ تم’’اُمّتِ وَسَط‘‘ بنائے گئے ہو۔ تمہیں نیکی اور راستی کا گواہ بنا کر کھڑا کیا گیا ہے۔ تمہارا یہ کام نہیں ہے کہ حیلہ بازیوں سے آیات الہٰی کا کھیل بناؤ، قانون کے الفاظ سے روح قانون کے خلاف ناجائز فائدے اٹھاؤ اور دنیا کو راہ راست دکھانے کے بجائے خود اپنے گھروں میں ظالم اور بد راہ بن کر رہو۔

 

طلاق کی تین قسمیں ہیں،طلاق احسن، یعنی شوہر بیوی کو ایک طلاق دے، ایسے طہر میں جو جماع سے خالی ہو اور اسی حالت پر بیوی کو چھوڑ دے تا آں کہ عدت پوری ہوجائے یا رجوع کرنا چاہے تو زمانہ عدت میں رجعت کرلے۔طلاق کی دوسری قسم طلاق حسن ہے، یعنی مرد عورت کو تین طلاق الگ الگ طہر میں دے ۔ تیسری قسم کو طلاق بدعی کہتے ہیں۔ اس کی دو صورت ہے: پہلی صورت یہ ہے کہ شوہر بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین طلاق دے اور دوسری صورت یہ ہے کہ ایک ہی طہر میں تین طلاق (الگ الگ مجلس میں) دے۔ (ہدایہ: 1/221، مطبوعہ بیروت، 1995)

 

اخرجہ بروایت۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔ حدیث پاک ﷺ۔سنت طریقے پر طلاق یہ ہے کہ شوہر ایک طلاق دے ایسے طہر میں جس میں جماع نہ کیا ہو، پھر عورت کو حیض آوے اور حیض سے پاک ہوجائے تو دوسری طلاق دی جائے، پھر عورت تیسرے حیض سے بھی پاک ہوجائے تو تیسری طلاق دے اور اب عورت ایک حیض عدت گزارے گی۔ (اخرجہ النسائی۔، 3394وابن ماجہ.2021)

 

اورجب تم اپنی عورتوں کوطلاق دو،پس وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تواچھے طریقے سے اُنہیں روک لویااچھے طریقے سے اُنہیں چھوڑدو اور اُنہیں تکلیف دینے کے لیے نہ روکے رکھو کہ تم زیادتی کرو اور جو ایسا کرے تویقینااُس نے اپنی جان پر ظلم کیا اوراللہ تعالیٰ کی آیات کو مذاق نہ بناؤاور اپنے اوپراللہ تعالیٰ کی نعمت کویادکرواورجوکتاب وحکمت میں سے اس نے تم پرنازل کیا،وہ تمہیں اس کے ساتھ نصیحت کرتاہے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرواورجان لویقینااللہ تعالیٰ ہر چیزکوخوب جاننے والاہے۔(سورہ البقرہ۔آیت۔231)
دو طلاق کا ذکر کرنے میں اللہ کی یہ مصلحت ہے کہ یوں جانے کہ۔چنانچہ جب وہ اپنی مدت کوپہنچ جائیں تواُن کو معروف کے مطابق روک لویامعروف کے مطابق ان کوجدا کردو اوراپنے میں سے دوعادل آدمی گواہ بنالو اورگواہی اللہ تعالیٰ کے لیے قائم کرو۔اس کے ساتھ تم میں سے اُس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اورجو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے،وہ اُس کے لیے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے۔(سورہ طلاق۔آیت۔2)

 

اورتمہاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہوچکی ہیں، اگرتمہیں شک ہوتواُن کی عدت تین ماہ ہے اوراُن کی بھی جنہیں ابھی تک حیض نہیں آیااورحمل والی عورتوں کی عدّت یہ ہے کہ وہ وضعِ حمل کردیں، اورجوشخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے گا،وہ اُس کے کام میں اس کے لیے آسانی پیدا کردے گا۔(سورہ۔طلاق۔آیت۔4)

 

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں ایک طلاق دے دی، حضرت عمر نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ ناراض ہوگئے اور کہا کہ ابن عمر کو رجعت کرلینا چاہئے اور بیوی کو نکاح میں باقی رکھنا چاہئے تاآں کہ عورت کو دوسرا حیض آجاوے اور اس حیض سے پاک ہوجاوے تو اب اگر ابن عمر کو مناسب معلوم ہو تو بیوی کو ایسے طہر میں طلاق دے جس میں جماع نہ کیا ہو الخ۔ (نسائی، 3391بخاری.5251، مسلم۔1471، ابن ماجہ۔2019)

 

امام نووی ایک مجلس کی تین طلاق کے بارے میں ائمہ اربعہ کا نظریہ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ: علماء کا اس شخص کے بارے میں اختلاف ہے جو اپنی بیوی سے انت طالق ثلاثا کہے (میں تجھے تین طلاق دیتا ہوں) امام شافعی، امام مالک، امام ابوحنیفہ، امام احمد اور جمہور علماء سلف و خلف اس بات کے قائل ہیں کہ تینوں واقع ہوجائیں گی۔ (شرح نووی علی صحیح مسلم:5/328 تحقیق حازم محمد و اصحابہ، طباعت:1995)ایک آدمی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو ایک ہزار طلاق دی ہے، آپ نے فرمایا: تین طلاق نے بیوی کو تم پر حرام کردیا۔ یعنی بقیہ نوسو ستانوے لغو ہوگئیں۔ (بیہقی: ۷/۳۳۵)

 

مدینہ میں ایک مسخرے آدمی نے اپنی بیوی کو ایک ہزار طلاق دیدی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس استفتاء آیا، آپ نے کہا – کہ کیا تم نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہے، اس آدمی نے کہا نہیں، میری نیت طلاق کی نہیں تھی میں تو مذاق کررہا تھا، حضرت عمر ؓنے اس کو کوڑے لگائے اور کہا کہ تین طلاق دیناکافی تھا۔ (عبدالرزاق فی ’’المصنف‘‘ ۱۱۳۴۰، والبیہقی: ۷/۳۳۴۔۳۳۴/۸)

 

مجاہد کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا کہ میں نے،اپنی بیوی کو تین طلاق دیدی ہے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما خاموش رہے، مجاہد کہتے ہیں کہ میں نے سوچا کہ ابن عباس بیوی کو اس آدمی کے نکاح میں لوٹادیں گے، پھر ابن عباس ؓنے کہا: تم لوگ حماقت کا کام کرتے ہو، پھر آکر چلاتے ہو اے ابن عباس، اے ابن عباس، اللہ فرماتا ہے: ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجاً، اور تم اللہ سے نہیں ڈرے اسلئے میرے یہاں تمہارے لئے کوئی سبیل نہیں ہے، تم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور تمہاری بیوی تم سے جدا ہوگئی۔ (اخرجہ ابوداؤد:۲۱۹۷،یا۲۱۹۸، والدارقطنی: ۴/۱۳)

 

سوید بن غفلہ کہتے ہیں کہ جب حضرت علی شہید کردئیے گئے تو حسن بن علی کی بیوی عائشہ خثعمیہ نے آکر حضرت حسن سے کہا: آپ کو خلافت مبارک ہو، حضرت حسن نے کہا: امیرالمومنین کی شہادت پر مجھے مبارک باد دیتی ہے، جا! تجھے طلاق دیتا ہوں (ایک روایت میں تین طلاق کا ذکر ہے۔دارقطنی:4/30) اور حضرت حسن نے کہا: اگر میں نے اس کو طلاق بائن نہ دی ہوتی تو میں اس سے رجعت کرلیتا، مگر میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو آدمی اپنی بیوی کو تین طلاق دے ہر طہر میں ایک طلاق، یا ہر مہینے کے شروع میں ایک طلاق یا بیک وقت (ایک مجلس میں) تین طلاق دے تواس کے لیے وہ عورت حلال نہ ہوگی یہاں تک کہ وہ دوسرے شوہر سے نکاح کرلے۔ (اخرجہ الدارقطنی: 4/31 والبیہقی۔۳۳۶۔۸۔۔..7/336)
محمد بن ایاسؒ کہتے ہیں کہ: ابن عباسؓ، ابوہریرہؓ اور عبداللہ بن عمرؓو بن العاص رضی اللہ عنہم تینوں سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کو قبل الدخول طلاق دے دی، تینوں نے کہا: عورت اس کے لیے حلال نہیں ہے جب تک کہ دوسرے شوہر سے شادی نہ کرلے (ابوداؤد:۲۱۹۹) بیہقی کی روایت میں یہ زیادتی ہے کہ: ابن عباس ؓاور ابوہریرہ ؓنے اس آدمی کی مذمت نہیں کی کہ اس نے تین طلاق کیوں دی اور نہ ہی عبداللہ بن عمرو ؓنے یہ کہا کہ تین طلاق دے کر تم نے بہت برا کام کیا۔ (اخرجہ البیہقی: ۷/۳۳۰۔۳۳۰۔۸) لیکن کفر نے ہمارے قوم کی کم علمی کا خوب فائدہ اٹھایا اور تین طلاق کے خلاف بل پاس کر دیا ۔ہمارے ملک ہندوستان کے ایوان زیریں میں تین طلاق بل کے خلاف بولتے ہوے،ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے کہاکہ میں بھی اس بل کے خلاف ہوں کیوں کہ یہ آئین کی دفعہ 14/115/26 اور 29 کے خلاف ہے۔اسد الدین اویسی نے مزید کہاکہ سپریم کورٹ نے ہم جنسی کو جرائم سے خارج کردیاہے۔مرد سے مرد کے ساتھ اور عورت عورت کے ساتھ زنا و فحاشی کرے وہ جرم نہیں ہے۔ایک مرد دس عورتوں کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرے وہ جرم نہیں ہے ،اور چاہے تو وہ بھی ایسا کر سکتی ہے،لیکن طلاق کو کریمنل ایکٹ کے تحت شامل کیاگیاہے۔انہوں نے ایوان زیریںکے صدر کو جواب دیتے ہوئے یہ بھی کہاکہ ہندوئوں میں تین طلاق دینے والے کو صرف ایک سال کی قید سزا ہوتی ہے جبکہ مسلمانوں کیلئے تین سال کی سزا کیوں۔اسد الدین اویسی نے بی جے پی ممبران کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ جب سبریمالہ پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آیاتو آپ لوگوں نے کہاکہ ہماری رسم وروایت کے خلاف ہے کیا صرف آپ کا عقیدہ عقیدہ ہے اور ہمار ے عقیدہ،ہماری شریعت اور ہمارے رواج کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔؟ انہوں نے ان ممبران کو بھی چیلنج کیا جنہوں نے تین طلاق کے سلسلے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا اور کہاکہ ایک بھی اکثریتی فیصلہ میں تین طلاق کو غیر آئینی نہیں بتایاگیا ہے۔اسدالدین اویسی نے می ٹومہم کا تذکرہ کیا اورایم جے اکبر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ گذشتہ سال یہاں ایک ایم پی بہت زور سے تائید کررہے تھے آج کہاں ہیں وہ۔ افسوس ہے بی جے پی پرجو ایسے لوگوں کو پناہ دیتی ہے جو خواتین کو عزت وعصمت سے کھلواڑ کرتے ہیں۔انہوں نے مختار عباس نقوی کو بھی نشانہ بتاتے ہوئے کہا کہ یاد رکھیئے کہ آپ کے شیعہ مسلک میں جو قانون ہے وہ بھی ختم ہوجائے گا۔اسد الدین اویسی نے کہاکہ ہم اس بل کی پرزور مخالفت کرتے ہیں۔بہار کانگریس کی رنجیت راجن صاحبہ نے قرآن کریم کی آیتوں کا حوالہ دے کر ملت اسلامیہ کے سامنے جو سوالات اٹھائے ہیں دراصل وہ ایک آئینہ ہے ،جو ملت کے نام نہاد رہنماؤں کو دکھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلاق کے سلسلے میں قرآن مجید جو طریقہ بتایا گیا ہے وہ انتہائی ایڈوانس اور بہترین ہے اس طریقہ کو ہندوستان کے قانون میں شامل کیا جانا چاہئے۔انہوںنے زعماء ملت اور بالواسطہ طور پر علماء کرام سے سوال کیا کہ انہوں نے اپنی کمیونٹی کو ایجوکیٹ کیوں نہیں کیا۔ایک طرف تو انہوںنے قرآن کے اندر موجود قوانین کو سراہا جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ کوئی بھی انسان تعصب کی عینک نکال کر اگر قرآن کا مطالعہ کرے گا تو وہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا بلکہ قرآن کو الہی کتاب کی حیثیت سے تسلیم کرنے میں اس کو کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہیں آئے گی. اللہ تعالیٰ اس بہن کے دل کو اسلام کے لئے کھول دے آمین.اس خاتون کو اللہ تعالی ہدایت سے نوازے دے۔اس بہن نے اصلاح بین الزوجین اور آخری ــ’’’صورت افتراق و علحیدگی‘‘‘ کے مسئلہ پر سورہ بقرہ اور سورہ نساء کی آیات کا مفہوم سمجھ کر جس خوش اسلوبی سے پیش کیا ہے وہ لایق تحسین ہے دوسری طرف کمیونٹی کو ایجوکیٹ کرنے کی بات نے ملت کے رہنماؤں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے،کہ واقعی یہ بات قابل غور ہے کہ علماء کرام نے ملت کو باشعور بنانے اور اسلام کے صحیح شعور بیدار کرنے کے بجائے مسلکی اختلافات کے اندر الجھے رہے بلکہ مسلمانوں کے مسلکی تشدد کو فروغ دینے کا کام انجام دیا. یہ ایک الارمنگ صورتحال ہے اس پر تمام ہی جماعتوں اور علماء کرام کو مسلکی اختلافات سے اوپر اٹھ کر غوروفکر کرنا چاہیے اور ملت اسلامیہ ہند کو اس گرداب سے نکال کر قرآن کے حقیقی پیرو بناکر ہندوستان میں اسلام کے مثالی کردار کو پیش کرتے ہوئے برادران وطن میں اسلام کی دعوت کو پیش کرنا چاہئے اور پوری امت کو داعی امت بنانے کی کوشش کرنی چاہیئے.۔لیکن۔۔۔۔

 

جو میرے سر سے دوپٹہ نہ ہٹنے دیتا تھا
اسے بھی رنج نہیں میری بے ردائی کا

 

جاہلیت میں ایک ظالمانہ طریقہ یہ تھا کہ لوگ اپنی بیویوں کو طلاق دیتے اور جب عدت گزرنے کے قریب ہوتی تو رجوع کرلیتے، تاکہ وہ دوسرا نکاح نہ کرسکے، پھر اس کے حقوق ادا کرنے کے بجائے کچھ عرصے کے بعد پھر طلاق دیتے اور عدت گزرنے سے پہلے رجوع کرلیتے اور اس طرح وہ غریب بیچ میں لٹکی رہتی نہ کسی اور سے نکاح کرسکتی اور نہ شوہر سے اپنے حقوق حاصل کرسکتی یہ اللہ تعالیٰ اس ظالمانہ طریقے کو حرام قرار دے رہا ہے۔جاہلیت کے اس دستور کو اسلام نے ختم کر دیا کہ طلاق دے دی، عدت ختم ہونے کے قریب رجوع کر لیا، پھر طلاق دے دی پھر رجوع کر لیا، یونہی اس دُکھیا عورت کی عمر برباد کر دیتے تھے کہ نہ وہ سہاگن ہی رہے نہ بیوہ، تو اس سے اللہ نے روکا اور فرمایا کہ ایسا کرنے والا ظالم ہے۔ پھر فرمایا اللہ کی آیتوں کو ہنسی نہ بناؤ۔ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اشعری قبیلہ پر ناراض ہوئے تو حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے حاضرِ خدمت ہو کر (ان اصلاحات طلاق کے بارے میں) سبب دریافت کیا، آپ نے فرمایا کیونکہ یہ لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ میں نے طلاق دی، میں نے رجوع کیا۔ یاد رکھو مسلمانوں کی یہ طلاقیں نہیں۔ عورتوں کی عدت کے مطابق طلاقیں دو۔ اس حکم کا یہ بھی مطلب لیا گیا ہے کہ ایک شخص ہے جو بلاوجہ طلاق دیتا ہے اور عورت کو ضرر پہنچانے کیلئے اور اس کی عدت لمبی کرنے کیلئے رجوع ہی کرتا چلا جاتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک شخص ہے جو طلاق دے یا آزاد کرے یا نکاح کرے پھر کہہ دے کہ میں نے تو ہنسی ہنسی میں یہ کیا۔ ایسی صورتوں میں یہ تینوں کام فی الحقیقت واضح ہو جائیں گے۔ حضرت ابن عباس ؓفرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دی پھر کہہ دیا کہ میں نے تو مذاق کیا تھا، اس پر یہ آیتیںاتری اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ طلاق ہو گئی (ابن مردویہ) حسن بصریؒ فرماتے ہیں کہ لوگ طلاق دے دیتے، آزاد کر دیتے، نکاح کر لیتے اور پھر کہہ دیتے کہ ہم نے بطور دِل لگی کے یہ کیا تھا، اس پر یہ آیت اتری اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو طلاق یا غلام آزاد کرے یا نکاح کرا دے خواہ پختگی کے ساتھ خواہ ہنسی مذاق میں وہ سب ہو گیا (ابن ابی حاتم) طلاق کی احادیث مرسل اور موقوف کئی سندوں سے مروی ہے۔ ابو داؤد ترمذی اور ابن ماجہ میں حدیث ہے کہ تین چیزیں ہیں کہ پکے ارادے سے ہوں، دِل لگی سے ہوں تو تینوں پر اطلاق ہو جائے گا۔ نکاح، طلاق اور رجعت۔ امام ترمذی اسے حسن غریب کہتے ہیں۔ اللہ کی نعمت یاد کرو کہ اس نے رسول بھیجے ہدایت اور دلیلیں نازل فرمائیں، کتاب اور سنت سکھائی حکم بھی کئے، منع بھی کئے وغیرہ وغیرہ۔ جو کام کرو اور جو کام نہ کرو ہر ایک میں اللہ جل شانہ سے ڈرتے رہا کرو اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ ہر پوشیدہ اور ہر ظاہر کو بخوبی جانتا ہے۔ ’’حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے روایت سے اللہ کے رسول ﷺ کے زمانہ، حضرت ابو بکرؓ کے دور خلافت اور حضرت عمر ؓکے دورخلافت کے ابتدائی دو سالوں میں تین طلاقیں ایک ہی شمار ہوتی تھیں۔ پس حضرت عمرؓ نے کہا کہ لوگوں نے طلاق کے معاملے میں جلدی کی ہے(یعنی ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دینے لگے ہیں) حالانکہ انہیں اس بارے مہلت دی گئی تھی(کہ وہ تین طہر یا تین مہینوں میں تین طلاقیں دیں)۔ پس اگر ہم ایسے لوگوں پر تین طلاقیں جاری کر دیں۔ پس حضرت عمرؓ نے انہیں تین طلاقوں کے طور جاری کر دیا۔‘‘

 

1929ء میں مصر میں حنفی، مالکی، شافعی او رحنبلی اہل علم کی ایک جماعت کی سفارشات پر وضع کیے جانے والے ایک قانون کے ذریعے ایک وقت کی متعدد طلاقوں کو قانوناً ایک ہی طلاق شمار کیاجاتا ہے۔ اسی قسم کا قانون سوڈان میں 1935ء میں، اردن میں 1951ء میں، شام میں 1953 ء میں، مراکش میں 1958ء میں، عراق میں 1909ء میں اور پاکستا ن میں 1961ء میں نافذ کیا گیا۔(ایک مجلس کی تین طلاقیں اور ان کا شرعی حل:ص ۲۱۹، مطبع دار السلام، لاہور)ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک شمارکرنے والوں میں حنفی علما میں معروف دیوبندی عالم دین مولانا سعید احمد اکبر آبادی (انڈیا)،مولانا عبد الحلیم قاسمی (جامعہ حنفیہ گلبرگ، لاہور) اور جامعہ ازہر کے فارغ التحصیل بریلوی حنفی عالم دین مولانا پیر کرم شاہ (سابق جج سپریم اپیلیٹ شریعت بنچ، پاکستان) وغیرہ بھی شامل ہیں۔ معاصر علمائے عرب میں شیخ ازہر شیخ محمود شلتوت حنفی (جامعہ ازہر، مصر)، ڈاکٹر وہبہ الزحیلی شافعی (دمشق، شام)، شیخ جمال الدین قاسمی،شیخ سید رشید رضا مصری اور ڈاکٹر یوسف قرضاوی نے بھی ایک وقت کی تین طلاقوں کو ایک ہی شمار کیا ہے۔

 

حضرت عقبہ بن عامر سے روایت کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں کرائے کے سانڈ کے بارے خبر نہ دوں۔ صحابہ نے کہا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول ﷺ! ٓپﷺ نے فرمایا: وہ حلالہ کرنے والا ہے۔ اللہ تعالی حلالہ کرنے والے اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے، دونوں پر لعنت فرمائے۔‘‘(سنن ابن ماجۃ، کتاب النکاح، باب المحلل والمحلل لہ)

 

حوالہ جات۔(تفسیر کبیر۔کاملین۔تفسیر ابن کثیر۔ تفہیم القرآن۔ابن حجر عسکلانی۔اشرف التفاسیر۔از۔مفتی تقی عثمانی صاحب۔(ایک مجلس کی تین طلاقیں اور ان کا شرعی حل، حافظ صلاح الدین یوسف، مشیر وفاقی شرعی عدالت، پاکستان، مطبع دار السلام، لاہور)مضمون ابو طلحہ قاسمی خیرآبادی صاحب۔ابوالحسن علوی صاحب)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *