تین طلاق پر جلد قانون بننا چاہئے

Share Article

تین طلاق پر دائر عرضی کی سنوائی کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا ۔اس فیصلے نے ملک کی تمام مسلم خواتین کے لئے سنجیونی کا کام کیا۔لیکن مرکزی سرکار نے اس معاملے میں قانون بنانے کے عمل کو ابھی تک پورا نہیں کیا ہے۔ مسلم عورتوں کو موسم سرما کے پارلیمانی سیشن میں سرکار سے کافی امیدیں ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ مسلم سماج میں جاری ایک بار میں تین طلاق کہنے کی روایت کو پوری طرح ختم کرنے کے لئے سرکار پارلیمنٹ کے سرمائی سیشن میں قانون ضرور بنائے گی۔ ’’چوتھی دنیا‘‘ نے بھی اس مدعے پر کئی مسلم عورتوں کی رائے جاننے کی کوشش کی۔ ہم نے الگ الگ شعبے کی مسلم خواتین سے بات کی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ وہ تین طلاق پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر کیا سوچتی ہیں اور سرمائی سیشن میں انہیں سرکار سے کیا امیدیں وابستہ ہیں۔
پٹنہ یونیورسٹی کی طالبہ نائرہ جمیل کا کہنا ہے کہ ہمارے ملک کے سب سے متنازعہ ایشوز میں سے ایک ہے تین طلاق، جس میں کوئی آدمی اپنی بیوی کو ایک بار میں تین بار طلاق بول کر رشتہ ختم کر دیتاہے۔ مسلم سماج کی عورتوں کے لئے تین طلاق ایک لعنت کی طرح ہے۔اس سال جب سے سپریم کورٹ کے ذریعہ تین طلاق کو غیر قانونی قرار دیا گیا،تب سے مجھے بہت خوشی ملی ہے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے اب ہمارے بنیادی حقوق کی حفاظت ہو سکے گی۔ گھروں میں اب کسی بھی عورت کا استحصال نہیں ہوگا اور کم سے کم وہ اب اپنے حقوق کے لئے مضبوطی کے ساتھ آواز بلند کرسکیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ایک ساتھ تین طلاق پر پوری طرح سے روک لگانے کے لئے سرکار کو قانون بنانے کی ضرورت ہے۔

 

 

 

 

 

اسی طرح سے ایک دوسری مسلم بینکر خاتون شائستہ کا کہنا ہے کہ ہندوستان کے آئین میں کہا گیا ہے کہ جو بھی قانون بنیادی حقوق کے خلاف ہیں،وہ قانون غیر آئینی ہیں۔ تین طلاق عورتوں کے وقار اور اس کی عزت کے حقوق میں دخل دیتی ہے۔ یہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ایسے میں اسے غیر آئینی اعلان کیا جانا سپریم کورٹ کا بہت بڑا فیصلہ ہے۔ اس سے جمہوریت میں ہمارا یقین ایک بار پھر بڑھا ہے۔ میں عدالت کے اس فیصلے سے بہت متفق ہوں۔یہ ہماری اور ہمارے حقوق کی جیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکار کو بھی ایسا قانون لانا چاہئے جس کے تحت کوئی شخص تین طلاق دیتا ہے تو اس کا یہ عمل جرم کے درجے میں شامل کیا جائے گا۔ مجھے موسم سرما کے سیشن میں سرکار سے کافی امیدیں ہیں کہ وہ اس ایشو پر غور ضرور کرے گی۔
شگفتہ شکیل جو کہ ایک گھر بار سنبھالنے والی خاتون ہیں، انہوں نے اپنے نظریہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تین طلاق کا طریقہ پوری طرح غیر انسانی ہے اور ہر مسلم خاتون کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ مجھے بہت خوشی ہے کہ 22 اگست کو سپریم کورٹ نے تین طلاق پر پابندی لگا دی تھی۔ کورٹ کے اس فیصلے کے بعد اب عورتوں کو اس سسٹم سے چھٹکارا پانے میں کافی مدد ملے گی۔ اب مسلم سماج کی عورتوں پر زیادتیاں نہیں ہو سکیں گی، وہ اپنی زندگی خوشی خوشی جئیں گی۔ مسلم سماج میں جاری ایک بار میں تین طلاق کہنے کی روایت کو پوری طرح ختم کرنے کے لئے سرکار کو قانون لانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم عورتوں کی سیکورٹی کرنا سرکار کی جوابدہی ہے۔ سرکار کو زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بیدار کرنا چاہئے ،انہیں طاقتور بنانا چاہئے۔ خاص طو ر سے لڑکیوں، نوجوانوں اور عورتوں کو بیدار کرنے میں بہتر پیش رفت کرنی چاہئے۔
ایک گھریلو خاتون مسرت جہاں عدالت کے اس فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ اب مسلم سماج کی عورتوں پر مظالم نہیں ہوں گے ۔حملہ جیسے برے کردار پر روک لگے گی ،ساتھ ہی عورتوں کو بھی اب برابری کا احساس ہو سکے گا۔ غور طلب ہے کہ یکطرفہ اختیار کے ساتھ شوہر بڑی آسانی سے تین طلاق دے دیتے تھے اور عورتیں کچھ نہیں کر پاتی تھیں۔ لیکن سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے بہت حد تک اس ایشو پر لگام لگ سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ جنس کی بنیاد پر کسی کے ساتھ تفریق نہیں کی جانی چاہئے ۔اس فیصلے سے ہمارے ملک کی غیر جانبداریت اور سیکولرازم کی بنیاد اور مضبوط ہوگی۔ میں عدالت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتی ہوں اور سرکار سے اپیل کرتی ہوں کہ جلد ہی اس پر قانون لے کر آئے۔

 

 

 

 

 

شبیر ہ خاتون جو کہ ایک گھر یلو خاتون ہیں۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ایک اچھا فیصلہ ہے اور میں اس فیصلے کا استقبال کرتی ہوں ۔ سپریم کورٹ کے فیصلے سے مسلم عورتوں کو وقار ملے گا اور ساتھ ہی یہ فیصلہ انہیں طاقتور بنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا عقیدہ قرآن میں ہے اور ہم اسے سب سے اعلیٰ درجہ دیتے ہیں۔ اس میں اللہ کا پیغام ہے ۔ اس میں عورتوں اور مردوں کے درمیان کوئی تفریق نہیں ہے۔ اس لئے سپریم کورٹ نے عورت اور مرد کو برابر سمجھتے ہوئے صحیح فیصلہ سنایا ہے۔ ہمیں عدالت پر پورا بھروسہ ہے۔ لیکن ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ جو قانون بنے ، وہ شریعت کے دائرے میں ہو۔
گھریلو خاتون شبانہ پروین کا کہنا ہے کہ اب عورتوں کو اس فیصلے سے کافی سکون ملا ہے۔ سپریم کورٹ نے تین طلاق پر ہمارے حق میں فیصلہ دیا ہے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ ملک میں قابل عمل ہے۔ تین طلاق ختم ہونے سے مسلم عورتوں کی پوزیشن میں سدھار ہوا ہے۔ سماج میں عورتوں پر زیادتی اور استحصال پر روک لگی ہے۔ تین طلاق کے ذریعہ عورتوں کا استحصال کیا جارہاتھا۔ غیر تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے بھی عورتوں کو کافی پریشانیاں ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر سرکار تین طلاق پر روک لگانے کے لئے قانون بنائے گی تو اس سے مسلم عورتوں کو زیادتیوں سے نجات پانے میں مدد ملے گی۔
غزالہ نکہت جو کہ گھریلو خاتون ہیں ،نے کہا کہ بات صحیح ہے کہ تین طلاق مناسب نہیں ہے لیکن شریعت کے قانونپر ہی اگر صحیح شکل سے تعمیل کی جائے گی تو تین طلاق کی تعداد میں کمی آجائے گی۔انہوں نے اس بات کی حمایت کی کہ عدالت نے جو فیصلہ دیاہے، وہ مناسب ہے اور اگر سرکار تین طلاق پربل لاتی ہے تو یہ ایک اچھا قدم ہوگا کیونکہ اس سے مسلم عورتیں ہمیشہ کے لئے اس دشواری سے نجات پاجائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ شریعت ہمارے لئے سب سے اہم ہے اور شریعت کے مطابق ہی سرکار کو قانون بنانا چاہئے ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *