تین طلاق بل: واک آؤٹ پر بھڑکا مسلم پرسنل لاء بورڈ- اپوزیشن نے حقیقی رنگ دکھایا

Share Article

 

تین طلاق بل کے راجیہ سبھا میں پاس ہونے پر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے کانگریس، جنتا دل یونائٹیڈ اور بہوجن سماج پارٹی سمیت کئی پارٹیوں کو لتاڑ لگائی ہے۔ بورڈ نے کہا ہے کہ ان پارٹیوں نے بی جے پی کے سیاسی ایجنڈے کو اپنی حمایت دیا اور ووٹنگ کے وقت واک آئوٹ کر اپنا حقیقی رنگ دکھا دیا۔

تین طلاق بل پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی مہر لگ چکی ہے، اس فیصلے کو مودی حکومت تاریخی بتا رہی ہے تو بہت تنظیم اور لیڈر ایسے بھی ہیں جو اس کے خلاف ہیں اور مسلم معاشرے میں غیر ضروری مداخلت مان رہے ہیں۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ AIMPLB نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپوزیشن پارٹیوں کے رویہ کی سخت مذمت کرتے ہیں۔

مسلم سماج میں جاری تین طلاق بل پر روک لگنے کے بعد آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اس کی سخت مذمت کی ہے۔ بورڈ نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ہم کانگریس، جنتا دل یونائٹیڈ، مایاوتی کی بہوجن سماج پارٹی، اےآئی دیم کے، تلنگانہ راشٹر سمیتی (ٹی آر ایس)، وائی ایس آركانگریس پارٹی کی سخت مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سیاسی ایجنڈے کو اپنی حمایت دی اور راجیہ سبھا میں ووٹنگ کے وقت واک آئوٹ کر گئے۔ انہوں نے اپنا حقیقی رنگ دکھا دیا ہے۔

AIMPLB نے بل پاس ہونے کے لیے ہندوستانی جمہوریت کا سیاہ دن قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یقینی طور پر بھارتی مسلم خواتین تین طلاق بل کے خلاف ہیں۔ مودی حکومت کی قیادت میں دونوں ایوانوں میں یہ بل پاس کرا دیا گیا ہے۔ ہم لاکھوں مسلم خواتین کی جانب سے اس کی مذمت کرتے ہیں۔

تاریخی فیصلہ نہیں
تین طلاق بل پر ایوان کے فیصلے پر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی طرح اےآئی ایم آئی ایم AIMIM کی بانی اور حیدرآباد سے ممبر پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے بھی سوال کھڑے کئے۔ آج تک سے خاص بات چیت میں انہوں نے کہا کہ تین طلاق بل پاس ہونا کوئی تاریخی فیصلہ نہیں ہے۔ رہنما اویسی نے کہا کہ یہ بل مسلم خواتین کے خلاف ہے اور یہ ان کے ساتھ ناانصافی ہے۔

Image result for asaduddin owaisi

حیدرآباد سے ممبر پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے کہا کہ تین طلاق گناہ ہے، لیکن جو بل پاس ہوا ہے، اس سے مسلم خواتین کی پریشانی بڑھ جائے گی۔ یہ قانون ایک کلاس آف گروپ کے لئے بنایا گیا ہے۔ یہ قانون سپریم کورٹ میں نہیں ٹکنے والا۔

تین طلاق بل کے آج منگل کو راجیہ سبھا میں پاس ہونے کے ساتھ ہی پارلیمنٹ سے منظوری مل گئی ہے۔ لوک سبھا کے بعد تین طلاق بل راجیہ سبھا سے بھی پاس ہو گیا ہے۔ منگل کو وزیر قانون روی شنکر پرساد نے تین طلاق بل منظور کرنے کے لیے ایوان بالا میں پیش کیا تھا۔ اس بل میں مسلم کمیونٹی میں فوری طلاق دینے کے معاملے میں مردوں کے لئے سزا کا قانون رکھا گیا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *