بہار میں دہی چوڑ اکے نام پر اس بار بھی سیاست گرمائی

Share Article

بہار میں عام طور پر سماجی، خاندانی اور ثقافتی پروگرام بھی سیاست سے اچھوتے نہیں رہتے اور اگر ایسے میں ثقافتی یا مذہبی پروگراموں کا حصہ سیاست داں یا سیاسی پارٹی ہوںتو سیاسی مواقف فطری طور پر اس پروگرام کا حصہ ہوتے ہیں۔ پٹنہ میں مختلف سیاسی پارٹیوں کے ذریعہ مکر سکرانتی پر منعقد چوڑا دہی بھوج بھی سیاسی زور آزمائی کا شو رہا۔ کہنا یہ چاہئے کہ پچھلے کچھ سالوں میں مکرسکرانتی کا بھوج ،افطار پارٹیوں کی طرح سیاسی زور گھٹائو کے موقع کے طور پر استعمال ہونے لگا ہے۔ اس لحا ظ سے اس سال کی مکر سکرانتی بھی سیاست کا مرکز رہی۔ راشٹریہ جنتا دل اور لیفٹسٹ کو چھوڑ کر اس سال لگ بھگ تمام پارٹیوں نے چوڑا دہی یا کھچڑی چوکھا بھوجن کا انعقاد کیا۔ان تمام بھوجنوں میں سیاست الگ الگ رنگوں میں دکھائی دی۔ ان بھوجوں کا انعقاد جنتاد دل یو، بی جے پی، رالوسپا اور لوجپا کے علاوہ کچھ کانگریسی لیڈروں نے بھی کیا۔ ان میں جنتا دل یو، بی جے پی ، لوجپا اور رالوسپا برسراقتدار این ڈی اے گٹھ بندھن کا حصہ ہے۔
سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں
اگر دیکھیں تو این ڈی اے بہار اور دہلی دونوں کے اقتدار پر قابض ہے ۔لیکن عملی طور پر نتیش کمار کا جنتا دل یو دہلی کے اقتدار کا حصہ نہیں تو اوپندر کشواہا کی رالوسپا بہار کے اقتدار کا سپہ سالار بھی نہیں ہے۔ پھر بھی یہ تمام پارٹیاں این ڈی اے کا ہی حصہ ہیں۔ اس نقطہ نظر سے ان تمام پارٹیوں میں سیاسی یکسانیت تو ہے لیکن ان کے اندر کی سیاسی اسٹیک کو بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔ایسے میں فطری طور سے ان تمام بھوجوں کے انعقاد پر غور کرنے پر دکھائی بھی دیا کہ اندر سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں ہے۔ لہٰذا یہ کہہ سکتے ہیں کہ چوڑا دہی کے ان تمام بھوجوں میں ایک الگ طرح کی کھچڑی کا بھی مزہ دکھائی دیا۔ کیونکہ جب رام ولاس پاسوان تلکوٹ کا ٹکڑا نتیش کمار کے منہ میں ڈال رہے تھے تو شاید انہوں نے تل کے کسیلے پن کو ضرور محسوص کیا، جس پر پردہ ڈالنے کے لئے انہیں کہنا پڑا کہ این ڈی اے پوری طاقت اور اتحاد کے ساتھ 2019 کے لوک سبھاانتخابات لڑے گا اور راشٹریہ جنتاد ل کو صاف کر دے گا۔ پاسوان جب یہ بات کہہ رہے تھے تو اس کے محض 24گھنٹے بعد راشٹریہ لوک سمتا پارٹی (رالوسپا ) کے چیف اوپندر کشواہا نے اپنے بھوج میں ایک ایسا بیان دے ڈالا جس سے این ڈی اے کے اتحاد میں چھپی ہوئی سیاسی اسٹیک ظاہر ہو گئی۔ کشواہانے بکسر کے نندن گائوں کے اس واقعہ کا ذکر چھیڑ دیا جس میں وکاس سمکشا یاترا کے دوران وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے قافلے پر بھاری پتھرائو ہوا تھا۔ کشواہا نے کہاکہ انہیں پتہ چلا ہے کہ اس پتھرائو میں خود نتیش کمار کے جنتاد دل یو کے لوگ بھی شامل تھے۔ کشواہا کا یہ بیان بی جے پی اور جنتاد ل یو دونوں کو پریشان کر دینے والا تھا۔ ایسا اس لئے کیونکہ پتھرائو کے واقعہ کے آدھے گھنٹے کے بعد سے ہی بی جے پی کے ریاستی صدر ستیہ نند رائے نے ٹی وی چینلوں پر راشٹریہ جنتا دل کے خلاف مورچہ کھول دیا تھا۔ وہ لگاتار کہے جارہے تھے کہ نتیش کمار کے قافلے پر ہوئے پتھرائو کے پیچھے راشٹریہ جنتا دل کی سازش ہے۔ ادھر جنتادل یو کے تمام ترجمانوں کے علاوہ نتیش کے قریبی لیدر سنجے جھا بھی کچھ ایسا ہی بیان دیئے جارہے تھے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

پتھربازی کا یہ واقعہ مکر سکرانتی کے تین دن پہلے ہوا تھا۔ وزیراعلیٰ نتیش کمار کا قافلہ بکسر کے نندن گائوں سے گزر رہا تھا۔ تب سینکڑوں کی بھیڑ، جن میں زیادہ تر نوجوان اور عورتیں تھیں ،نے قافلے پر حملہ بول دیا۔ کئی پولیس اور سول آفیسر کو چوٹیں آئیں۔ کچھ پولیس اہلکاروں کے سر پھٹے۔ ایک آفیسر کے سینہ کی ہڈی بھی ٹوٹ گئی۔ خود نتیش کمار اس لئے پتھر کھانے سے بچ گئے کیونکہ ان کے محافظوں نے ان کے چاروں طرف ہیومن چین بنا دیا اور انہیں بڑی مشقت سے نکالا ۔ خبروں میں بتایا گیا کہ نندن گائوں مہا دلت اکثریتی گائوں ہے جہاں کے لوگوں میں اس بات پر اشتعال تھا کہ ان کے گائوں کو نظر انداز کیا گیا۔ وہاں وکاس کا کوئی کام نہیں ہوا۔ جبکہ اس کے ٹھیک بغل کے گائوں میں جہاں نتیش کا پروگرام تھا ، خوب وکاس کیا گیا۔ اس واقعہ کے بعد کا قصہ یہ ہے کہ نتیش کمار نے آناً فاناً میں اس حملے کی جانچ کی ذمہ داری پٹنہ ڈویژن کے کمشنر آنند کیشور اور آئی جی نیر حسنین خان کے ذمہ سونپ دیا۔ دوسرے ہی دن جانچ کے دوران جانچ افسروں میں سے ایک آنند کیشور نے دبی زبان میں کہا کہ یہ پتہ لگایا جارہاہے کہ آخر کن وجوہات سے نندن گائوں میں وکاس کا کام نہیں ہوا۔ آنند کیشور کا ایک طرح سے یہ اعتراف تھاکہ وہاں وکاس کا کام نہیں کیا گیا جس کے سبب وہاں کے لوگوں میں غصہ پنپ گیا۔ ادھر بی جے پی اور جنتا دل یو اس معاملے پر راشٹریہ جنتا دل کی سازش ہونے کا بیان دے رہی تھی تو دوسری طرف راشٹریہ جنتادل بھی زوردار طریقے سے اس حملے کا مائیلیز لینے کے لئے کود پڑا۔ شام کے چھ بجے کے بعد جب جنتا دل یو کے ریاستی صدر وششٹھ نارائن سنگھ کے ہارڈنگ روڈ رہائش گاہو پر کھچڑی چوکھا کا مزہ لینے کی تیاری کر رہے تھے تو اپوزیشن پارٹی راشٹریہ جنتا دل کے لیڈر تیج سوی یادو کا ایک ٹویٹ آگیا۔ تیج سوی نے اس ٹویٹ میں سیدھے نتیش کمار کو للکارتے ہوئے کہا کہ نندن گائوں کے مہا دلتوں پر پولیس ظلم کرر ہی ہے۔ نتیش کمار کان کھول کر سن لیں کہ اب مہا دلتوں پر کوئی بھی ظلم ہوا تو راشٹریہ جنتا دل کوئی بھی قربانی دینے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ اس سے پہلے بی جے پی اور جنتا دل یو کے لیڈروں کے ذریعہ نندن گائوں کی پتھر بازی میں راشٹریہ جنتا دل کی سازش بتانے کے الزام کا جواب دیتے ہوئے راشٹریہ جنتا دل ایم ایل اے تیج پرتاپ یادو نے کہاکہ نتیش کمار کو وکاس کا جائزہ لینے کے بجائے اس بات کا جائزہ لینا چاہئے کہ لوگ ان کی مخالفت کیوں کررہے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

سیاسی رد عمل کا اظہار
نندن گائوں کا واقعہ دراصل این ڈی اے کی تمام اتحادی پارٹی اور اپوزیشن راشٹریہ جنتا دل کے لئے سیاسی رد عمل کا ہتھیار بن گیا تھا۔ ایسے میں اوپندر کشواہا نے جب کہا کہ انہیں پتہ چلا ہے کہ اس پتھر بازی میں خود نتیش کمار کی پارٹی کے لوگ بھی شامل تھے تو یہ بیان کوئی معمولی بیان نہیں تھا۔ اتنا ہی نہیں کشواہا نے ایک مقامی اخبار سے یہاں تک کہا تھاکہ جنتا دل یو کے ذریعہ مخالفت مقامی وجوہات سے ہوئی تھی۔ یہ باتیں کشواہانے بھوج کے دوران ہی کہی تھی لیکن رات ہوتے ہوتے انہوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ انہوں نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا۔
ایسا نہیں ہے کہ کشواہا اپنے ہی اتحادی پارٹی کے خلاف کوئی پہلی بار بولے ہوں۔ وہ پہلے بھی این ڈی اے کے رخ سے الگ کئی ایشوز پر اپنی بیباک رائے رکھتے رہے ہیں۔ جب جنتا دل یو راشٹریہ جنتا دل کا ساتھ چھوڑ کر بی جے پی کے ساتھ آگیا تب سے ہی رالوسپا کچھ غیر مطمئن ہونے لگی۔ ادھر اس کا بخوبی احساس نتیش کمار کے اسٹیپ سے بھی پتہ چلتا ہے ۔ نتیش نے اپنی کابینہ میں رام ولاس کی پارٹی کو شامل کیا لیکن اس کابینہ میں رالوسپا کو شامل نہیں کیا گیا۔ ادھر سیاست پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ رالوسپا کی نزدیکیاں راشٹریہ جنتا دل سے بڑھ رہی ہیں۔ کشواہا کے بارے میں بتایا جاتاہے کہ وہ راشٹریہ جنتا دل صدر لالو پرساد سے ملتے رہے ہیں۔چورا دہی بھوج میں سیاست کی ایسی رنگت بھلے ہی فی الحال کسی نتیجے پر پہنچتی نہیں دکھائی دے رہی ہے لیکن آنے والے دنوں میںاس کا اثر ضرور دکھائی دے سکتا ہے۔
اشوک چودھری نے گرما دی سیاست
راشٹریہ جنتا دل چیف لالو پرساد کے جیل میں ہونے کی وجہ سے ان کی رہائش گاہ پر ہونے والاچوڑادہی بھوج اس بار نہیں ہوا۔ جنتا دل یو کے ریاستی صدر وششٹھ نارائن سنگھ نے ہر سال کی طرح زبردست بھوج منعقد کیا۔ اس میں وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے زیادہ تر وزیروں کے علاوہ بی جے پی کوٹے کے وزیر سشیل کمار اور دیگر بی جے پی کے لیڈر شامل ہوئے۔ لوجپا چیف اپنے خاندان کے تمام لیڈروں اور بیٹے چراغ کے ساتھ حاضر ہوئے۔ رام ولاس پاسوان کے بھوج میں نتیش بھی گئے۔ لیکن ان بھوجوں میں این ڈی اے اتحادی پارٹیوں سے کوئی نہیں دکھائی دیا تو وہ تھی رالوسپا۔ رالوسپا کے صدر اوپندر کشواہا نے دوسرے دن بھوج رکھا۔ مکر سکرانتی کے بھوج کی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ کانگریس صدر عہدہ سے بے دخل کئے جاچکے اشوک چودھری اپنے 2 ایم ایل اے معاونوں کے ساتھ جنتا دل یو کے بھوج میں پہنچ گئے۔ چودھری تیش کمار کے اتنے قریب جاچکے ہیں کہ ان پر کانگریسیوں کو بھروسہ نہیں رہا جس کی قیمت پہلے ہی انہیں کانگریس کے ریاستی صدر کے عہدہ گنوانے کی شکل میں ادا کرنا پڑا ہے۔ اشوک چودھری کی سیاست کا اگلا قدم کیا ہوگا یہ تو ابھی بہت صاف نہیں ہے لیکن سمجھا جاتا ہے کہ اپریل میں ہونے والے راجیہ سبھا انتخابات کے وقت تصویر کافی صاف ہو چکی ہوگی۔ بتایا جاتاہے کہ کانگریس کے کل 24ایم ایل اے میں سے دو ان کے قریب ہیں۔ ساتھ ہی ایک یا دو ایم ایل سی بھی ان کے قریبی ہیں۔یہ ایم ایل اے نہ صرف جنتا دل یو کے چوڑا دہی بھوج میں اشوک چودھری کے ساتھ موجود تھے بلکہ دوسرے دن،جب اشوک چودھری نے اپنے گھر پر بھوج کا اہتمام کیا تو بھی وہ ان کے گھر پردیکھے گئے۔ حالانکہ اشوک چودھری نے اس بھوج کو کسی بھی اٹکل بازی سے الگ رکھنے کی بات کی ا ور کہا کہ وہ ہر سال اپنے قریبی لوگوں کو بھوج پر بلاتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *