وسیم راشد 
تینتالیس سالہ کانگریس کا نوجوان شہزادہ آج کل بڑے جوش و خروش سے تقریریں کر رہا ہے۔ انتخاب کے میدان کا رزار میں وہ کبھی ایک معصوم بچے کی طرح دادی ، پاپا اور ممی کی کہانیاں سنانے لگتا ہے اور کبھی وہ غصہ میں آ کر اپوزیشن پر شیر کی طرح گرجنے لگتا ہے۔ مگر اندور میں ایک انتخابی ریلی میں مظفر نگر کے مسلم نوجوانوں سے متعلق تقریر میں جو انکشاف راہل نے کیا ، وہ نہایت خطرناک ہے۔ نہ جانے کون سی خفیہ ایجنسی کے افسر نے ان کے پاس آ کر یہ خبر دی کہ مظفر نگر میں جن مسلمانوں کو قتل کیا گیا ہے ، جن کے بھائی بہنوں کو مارا ڈالا گیا ہے،ان سے پاکستان کی خفیہ ایجنسی کے لوگ بات کر رہے ہیں اور ہم ان سے کہہ رہے ہیں کہ ان کی باتوں میں نہ آئو۔ اس بیان نے پورے ملک کے مسلمانوں کو دہلا کر رکھا دیا ہے۔ پاکستان کی خفیہ ایجنسی یعنی آئی ایس آئی ہمارے نوجوانوں سے بات کر رہی ہے یہ نہایت خطرناک بیان دینے سے پہلے راہل گاندھی کو ہزار بار سوچنا چاہئے تھا، وہ اب 40سال سے اوپر کے ہو چکے ہیں، کوئی الہڑ نوجوان نہیں ہیں، پختہ ذہن رکھنے والی ماں کے بیٹے ہیں۔ایک ایسے معزز خاندان کے چشم و چراغ ہیں ، جہاں سے سیاست کے دائوں پیچ کھیلے جاتے ہیں، جہاں سے بچہ سیاست کا چمچہ لے کر پیدا ہوتا ہے۔ ایسے میں راہل گاندھی کے اس بیان نے چاروں طرف آگ لگا دی ہے۔ ظاہر ہے اس بیان کے سامنے آتے ہی مظفر نگر اور آس پاس کے شہروں میں کھلبلی مچ گئی ہے اور ماں باپ کو یہ ڈر ہے کہ کہیں ، اس طرح کے بیان سے ان کے نوجوان لڑکوں کو پولس پکڑ کر نہ لے جائے۔ کیا راہل گاندھی یہ نہیں جانتے کہ مسلم نوجوانوں کو بغیر ثبوت ، بغیر دلیل کے جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ کیا راہل کو اس جملے کی سنگینی کا ایک بار بھی احساس نہیں ہوا۔ اس سے پہلے راہل پنجاب کی ریلی میں بے انت سنگھ اور ستونت سنگھ کو لے کر غیر ذمہ دارانہ بیان دے چکے ہیں، جس سے سکھ طبقہ کافی ناراض ہے۔ ایسے میں جبکہ انتخابی عمل تیز ہو چکا ہے، یہ وقت کیا کانگریس کا سکھوں سے دشمنی کرنے کا ہے؟ مگر ہمیں ان سب سے کیا سروکار ، ہم صرف بات کرنا چاہتے ہیں مسلم نوجوانوں کے تئیں راہل گاندھی کے حالیہ غیر ذمہ دارانہ بیان پر ، راہل گاندھی اس افسر کا نام اور ایجنسی کا نام بتائیں کہ آخر کون اتنی خطرناک بات ان کو خاموشی سے بتا کر چلا گیا؟ راہل کی یہ بات تو سچ ہوسکتی ہے کہ یہ فساد بی جے پی نے کرایا ہے، مگریہ کیسے مان لیا جائے کہ مسلم نوجوانوں کا رابطہ آئی ایس آئی سے ہو رہا ہے۔ یہ ایک ایسا بیان ہے، جس نے ہندوستانی مسلمانوں کو خوف و دہشت میں مبتلا کر دیا ہے۔
بی جے پی نے اور خاص طور پر مودی نے راہل گاندھی کے اس بیان پر خوب ہی سیاست کی اور راہل سے معافی مانگنے کو کہا ۔ ظاہر ہے بی جے پی کو موقع ملا ہے۔ وہ بھی اس موقع کا خوب فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہی ہے اور ایسا ثابت کر رہی ہے، جیسے کہ وہ مسلمانوں کی بڑی بہی خواہ ہے۔ نہ تو گجرات کے زخم ابھی بھرے ہیں نہ ہی میرٹھ ، ملیانہ ہاشم پورہ کے زخم اور نہ ہی مظفر نگر کے اور ایسے ہی جبکہ ہر فساد کا ٹارگیٹ صرف اور صرف مسلمان ہی ہوتے ہیں، جب ہر بم بلاسٹ کے بعد مسلم نوجوانوں کو ہی پکڑ لیا جاتا ہے۔ ایسے میں بی جے پی راہل سے معافی کا مطالبہ کرنے کی سیاست میں لگ گئی ہے اور راہل سے یہ کہتے ہوئے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے کہ راہل نے مسلمانوں کی حب الوطنی پر شک کیا ہے۔ ہنسی بھی آتی ہے اور دکھ بھی ہوتا ہے کہ ہر کوئی تاک میں لگا ہوا ہے،سب ہی مسلمانوں کے دوست بننے کی کوشش کر رہے ہیں، جیسے ہی ایک کے منھ سے بات نکلی دوسرے نے اچک لی اور پھر شروع ہوگئی سیاست کی گھٹیا بازیگری۔

راہل گاندھی کے اس بیان پر سبھی مسلم تنظیموں نے احتجاج کیا ہے اور مسلم رہنمائوں میں مولانا سیف عباسی نقوی، مولانا کلب صادق، مولانا عرفان فرنگی محلی، کمال فاروقی نے اسے مسلمانوں کے لئے خطرناک قرار دیا ہے۔اس کے علاوہ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت اور دوسری مسلم وفاقی تنظیموں نے اس کو مسلمانوں کے خلاف خطرناک پروپیگنڈہ بتا یا ہے۔ ظفر الاسلام خاں صدر AIMMM کا کہنا ہے کہ یہ بھی ایک من گھڑت آئی بی کی ویسی ہی کہانی ہے جیسی گجرات کے21 فرضی انکائونٹر س اور بٹلہ ہائوس انکائونٹر کی ہے اور یہ بات حقیقت بھی ہے کہ انٹلی جینس بیورو ایک ایسی تنظیم ہے جس نے کافی عرصہ سے کچھ خاص طاقتوں کا غلط استعمال کیا ہے لہٰذا پارلیمنٹ کو چاہئے کہ اسے اپنے لئے جواب دہ بنائے۔

راہل ایک خطرناک بیان دے کر یہ بھول گئے کہ یہ الزام انھوں نے پوری قوم پر لگا دیا ہے۔مظفر نگر میں پہلے تو کانگریس نے بیٹھ کر تماشا دیکھا ، پہلے فساد بھڑکنے دیا۔ اب جب مسلمان بڑی تعداد میں بے گھر ہو گئے ہیں تو ان کے زخموں پر نمک چھڑکا جارہا ہے۔ آخرکون ہے راہل گاندھی ؟نہ تو ہوم منسٹر ہیں ، نہ ہی وہ کسی اہم وزارت میں ہیں، صرف ایک ایم پی ہیں اور کانگریس کے نائب صدر ۔ پھر کوئی سی بی آئی جیسی اہم تنظیم کا فرد ان کے پاس آ کر کیوں ان کو یہ سب بتا ئے گا اور اگر بتایا بھی ہے تو راہل کو اس کا نام بتانا چاہئے۔ راہل نے اتنا بڑا الزام لگا کر پوری مسلمان قوم کو بدنام کیا ہے۔بار بار اس بدنصیب قوم کو اپنے محب وطن ہونے کا ثبوت دینا پڑتا ہے۔راہل گاندھی کو اندازہ بھی نہیں کہ اس طرح کے بیان سے ایک بار پھر ملک میں فرقہ پرستی کا زہر پھیلسکتا ہے۔پھر سے ملک فساد کی زد میں آسکتا ہے اور پھر سے مسلم نوجوانوں کو پکڑ کر جیل میں ڈالنے کا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے۔
ہندوستان کی کسی بھی ریاست میں چلے جائیے،مسلم نوجوانوں کا تناسب جیلوں میں سب سے زیادہ ہے۔ آسام میں 30 فیصد مسلمان، کیرالہ میں 73 فیصد،جھارکھنڈ میں 17.6 ،کرناٹک میں 17.6، دہلی میں 27.9،مہاراشٹر میں 32.4،گجرات میں 25،اور تامل ناڈو میں 9.6 فیصد مسلم نوجوان جیلوں میں بند ہیں۔ابھی میرے پاس مغربی بنگال،یوپی ، بہار اور آندھرا پردیش کا ڈیٹا نہیں ہے وہ بھی ضرور بتاتی کہ ہمارے اتنے جوان جیلوں میں بندہیں۔
راہل گاندھی کے اس بیان پر سبھی مسلم تنظیموں نے احتجاج کیا ہے اور مسلم رہنمائوں میں مولانا سیف عباسی نقوی، مولانا کلب صادق، مولانا عرفان فرنگی محلی، کمال فاروقی نے اسے مسلمانوں کے لئے خطرناک قرار دیا ہے۔اس کے علاوہ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت اور دوسری مسلم وفاقی تنظیموں نے اس کو مسلمانوں کے خلاف خطرناک پروپیگنڈہ بتا یا ہے۔ ظفر الاسلام خاں صدر AIMMM کا کہنا ہے کہ یہ بھی ایک من گھڑت آئی بی کی ویسی ہی کہانی ہے جیسی گجرات کے21 فرضی انکائونٹر س اور بٹلہ ہائوس انکائونٹر کی ہے اور یہ بات حقیقت بھی ہے کہ انٹلی جینس بیورو ایک ایسی تنظیم ہے جس نے کافی عرصہ سے کچھ خاص طاقتوں کا غلط استعمال کیا ہے لہٰذا پارلیمنٹ کو چاہئے کہ اسے اپنے لئے جواب دہ بنائے۔
راہل گاندھی کے اس بیان پر سبھی تنظیموں کو ایک پلیٹ فارم پر آکر سخت احتجاج کرنا چاہئے اور راہل گاندھی کو باقاعدہ معافی مانگنے کے لئے مجبور کیا جانا چاہئے۔ساتھ ہی تمام مسلم تنظیموں کو مظفر نگر کے بد حال مسلم نوجوانوں کی سرپرستی کرنی چاہئے اور با قاعدہ سبھی نوجوانوں کو ایک سائبا ن کی طرح سمیٹ لینا چاہئے اور اگر کسی بھی نوجوان کو پولیس ستاتی ہے یا پکڑ لیتی ہے تو سبھی کو مل کر احتجاج کرنا چاہئے۔ راہل گاندھی نے پوری مسلمان قوم کو شرمسار کیا ہے اور ہم اس کی سخت مذمت کرتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here