ہارٹ اور بلڈ پریشر کی بیماری کی نگرانی کرے گا یہ موبائل ایپلی کیشنز

Share Article

 

 

دیہی علاقوں میں رہ رہے ہائی بلڈ پریشر اور دل کے مریضوں کو بھی اب وقت رہتے علاج مل پائے گا۔ ہندوستان اور آسٹریلیا کے سائنسدانوں کے ایک گروپ نے ایک ایسا موبائل بندر بنایا ہے جو ڈاکٹروں اور صحت کے اہلکاروں (امید) کو ریموٹ دیہی علاقوں میں رہنے والے ہائی بلڈ پریشر اور دل کے مریضوں کے بارے میں بتائے گا اور ان کی نگرانی کا انتظام بھی کرے گا۔ ‘پی ایل او ایس جنرل میں شائع کئے گئے ایک مطالعہ میں یہ معلومات دی گئی۔

 

Image result for heart patient

 

کلینکل ڈسيجن سپورٹ سسٹم
(سی ایس ڈی ایس) کی بنیاد پر یہ بندر اےڈرڈ فون پر انسٹال کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک ایسی نظام ہے جس ہائی رسک والے مریضوں کی معلومات فوری طور پر صحت کے اہلکاروں کو دیتی ہے۔ اس ایپلی کیشنز کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ اس میں منسلک اٹرےكٹو وائس نظام مریضوں کو بتاتا ہے کہ کب انہیں اپنی دوا لینی ہے اور کب ڈاکٹر کے پاس جانا ہے؟

 

Image result for heart patient

 

مطالعہ میں بتایا گیا ہے کہ آندھرا پردیش کے مغربی گوداوری ضلع کے 54 دیہات کے 40 افراد کے دل سے متعلق عوارض کی نگرانی اس بندر کے ذریعے رکھی گئی۔ اس کے لئے مقامی امید کارکنوں کو بھلی-مانند تربیت بھی کیا گیا تھا۔ ٹیبلٹ فون پر ہائی رسک والے مریضوں کا انتباہات ملتے ہی صحت کارکن مریضوں کو بنیادی صحت مراکز (پی ایچ سی) میں بھیج دیتے تھے۔ اس کے لئے 18 صحت مراکز کو تیار کیا گیا تھا، جہاں مرحلہ وار طریقے سے مریضوں کی جانچ کی جاتی تھی۔ مطالعہ میں یہ پایا گیا کہ منتخب کردہ علاقوں میں امید کارکنوں نے تقریبا 86 فیصد لوگوں کی جانچ پڑتال کی اور 70 فیصد ہائی رسک والے ریفری کئے گئے مریضوں کی ڈاکٹروں كيس پورے عمل کے دوران بلڈ پریشر کی دوا کھپت بھی بڑھی اور بلڈ پریشر کنٹرول کرنے والے مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا۔

 

Image result for heart patient

سب سے بڑی بات یہ ہے کہ صحت کارکن جہاں پہلے صرف زچگی اور بچوں کی صحت کی جانچ پڑتال کرتے تھے وہیں اب وہ طبی میدان میں آپ کی شراکت کو اور بڑھا سکتے ہیں اور غیر سنچاری بیماریوں کے انتظام اور روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ حال ہی میں ہریانہ میں بھی آندھرا پردیش جیسا ہی تجربہ کیا گیا ہے تاکہ یہ پتہ چل سکے دوسرے جنوری کمیونٹی کے علاقے میں تفتیش کے دوران مختلف سطحوں پر کیا کیا پریشانیاں آ سکتی ہیں؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *