اسد مفتی، ایمسٹرڈیم ، ہالینڈ
بین الاقوامی یہودی کانگریس (WJC)نے’’ یوروپ میں اسلام کا فروغ‘‘ کے نام سے ایک سروے رپورٹ جاری کی ہے۔ اس رپورٹ میں یہودی کانگریس نے لکھا ہے کہ 2015 تک یوروپ میں مسلمانوں کے احوال و کوائف میں غیر معمولی آبادیاتی انقلاب (Revoluton Demograny) ) رونما ہوگا۔ اس سروے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آجکل یوروپ اور امریکہ میں مذہب اسلام کو زبردست فروغ حاصل ہورہا ہے۔حالیہ عرصہ میں یوروپ کے مسلمان قابل لحاظ حد تک سیاسی طاقت کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ اگر مستحکم سیاسی نمائندگی کا یہی رجحان رہا تو 2020 میں یوروپ کی عام آبادی میں ان کی شرح تناسب 10 فیصد ہوگا ۔ یاد رہے کہ ہالینڈ کی جملہ آبادی میں مسلمانوں کی شرح تناسب ابھی سے 10 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
میرے حساب سے یوروپ میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے یہودی عالمی کانگریس دو وجوہ کی بناء پر تشویش میں مبتلا ہے۔ پہلی وجہ سیاسی ہے جو ایک طرف یوروپی ممالک میں یہودی کالونیوں اور ان کے سیاسی اثرات کی اہمیت اور پوزیشن سے تعلق رکھتی ہے تو دوسری طرف ان یوروپی ممالک کے موقف سے تعلق رکھتی ہے، جہاں آنے والے دنوں میں عرب صیہونی کشکمش پر مسلمانوں کے موقف اور ان کے وزن میں گراں قدر اضافہ کی وجہ سے اثر پڑے گا۔ رپورٹ کے مطابق یہودی کالونیوں اور ان کے سیاسی اثرات پر انتخابات میں منفی اثر کا پڑنا فطری ہے کہ دن بدن وہاں مسلمانوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔اس سے ان کا سیاسی وزن بڑھ رہا ہے۔ یورپی سیاسی جماعتوں اور قانون ساز شخصیات کے حامل موثر ترین رول ادا کرنے کا موقف بھی مستحکم ہورہا ہے۔ یہاں تک کہ یوروپی ممالک میں حکومتیں اور سیاسی جماعتیں اسلام سے بڑھتی ہوئی لوگوں کی دلچسپی کو تسلیم کرتے ہوئے علاقائی مسائل میںسیاسی موقف کے تعین کے وقت اس کا لحاظ کرنے پر مجبور ہیں۔رپورٹ میں برطانیہ میں ہونے والے گزشتہ انتخابات کی مثال دیتے  ہوئے کہا گیا  ہے کہ برطانیہ کے مسلم اکثریتی علاقوں میں اسرائیل کی موافقت رکھنے والے امیدواروں کے خلاف ہزاروں پمفلٹ تقسیم کیے گئے اور امریکہ کی طرف سے اسرائیل کو ملنے والی 840 ملین ڈالر اقتصادی اور 3 ارب ڈالر فوجی امداد کو نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ برطانیہ کی مسلم تنظیموں جن میں عرب اور غیر عرب دونوں ہی شامل ہیں نے مارکس اینڈ سپنسر جیسے ڈپارٹمنٹل اسٹوروں کا بائیکاٹ کرنے کے لئے مسلمانوں سے اپیلیں کیں ،کیوں کہ ان کے منافع کے ایک حصے سے، اسرائیل کی مدد کی جاتی ہے۔
یہودی عالمی کانگریس کی تشویش کی دوسری وجہ ’’ امن و سلامتی کو لاحق ہونے والا خطرہ‘‘ ہے کہ یوروپی ممالک میں اسلام کا فروغ یہودیت کے لیے خطرہ اور سیکورٹی کے لیے رِسک ہے۔ رپورٹ میں اس بات کی بھی واضح نشاندہی کی گئی ہے کہ مسلم انتہا پسند حلقوں کی غالب اکثریت یہود مخالف سرگرمیوں میں حصہ لیتی رہتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ جب بھی فلسطین میں انتفاضہ کی آگ بھڑکتی ہے، مغربی یوروپ میں یہودیوں کے خلاف رونما ہونے والے حادثات و واقعات کی تعداد میں تین گنا اضافہ ہوجاتا ہے اوراکثر مزاحمتی واقعات میں یہودیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اسرائیلی تجزیہ نگاروں و سیاست دانوں کا کہنا ہے کہ9/11 کے بعد دنیا میں مسلم برادری کے سیاسی وزن میں نمایاں اضافہ ہونا اور امریکہ و برطانیہ کے انتخابات میں اس کا مستحکم انتخابی موقف ،دونوں اس بات کے متقاضی ہیں کہ یہودی تنظیمیں اور ادارے خوابِ غفلت سے جاگیں اور اس رجحان کے تدارک کی تیاری کریں۔ یہودی و اسرائیلی تجزیہ نگاروں نے اس بات پر زور دے کر کہا ہے کہ یوروپ میں یہودیوں کی تعداد میں کمی اور مسلمانوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ کے باعث یوروپ کے یہودی تشویش میں مبتلا ہوگئے ہیں ۔ انہیں خطرہ لاحق ہوگیا ہے کہ یوروپ میں ہونے والی آبادیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات یہودی باشندوں پر ضرور مرتب ہوں گے۔ اگر یہودی قوم ڈرتی رہی تو مسلم برادری کی قوت میں مزید زبردست اضافہ ہوگا۔ ساتھ ہی مسلمانوں کا یہ انتباہ پیش نظر رہنا چاہیے کہ وہ ماضی کے مقابلے میں اب زیادہ منظم، کار گر، منصوبہ بند اور موثر شکل میں سامنے آئیں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here