غیر محفوظ جنسی تعلقات سے پھیلتی ہے یہ بیماری، رہیں ہوشیار، ورنہ ہو سکتی ہے آپ کی موت

Share Article
sex

اگر آپ پہلے سے جنسی بیماری میں مبتلا پارٹنر کے ساتھ غیر محفوظ تعلقات بناتے ہیں تو سفلس نامی بیماری خواتین یا مردوں کو ہو سکتی ہے۔ سفلس ایک خطرناک جنسی متعدی بیماری ہے جو غیر محفوظ جسمانی تعلقات بنانے سے پھیلتی ہے۔ اس بیماری کو علاج کے ذریعے ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔ اگر آپ اس کا علاج نہیں کرواتے ہیں تو یہ پریشانی آہستہ آہستہ سنگینہوتی جاتی ہے۔ لہذا سفلس کا پتہ چلتے ہی ڈاکٹر سے مشورہ ضرور لینا چاہئے۔

سب سے پہلے سفلس زخم یا داغ کی طرح نظر آنے لگتے ہیں۔ یہ زخم جسم میں بیکٹیریا کے گھسنے سے بننے لگتا ہے جو کم سے کم تین ہفتے کے بعد تیار ہوتے ہیں۔کبھی یہ صرف ایک زخم تو کبھی یہ جسم میں کئی جگہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ لیکن اکثر لوگ اس پر توجہ نہیں دیتے ہیں۔ کیونکہ ان زخموں میں درد نہیں ہوتا ہے اور کچھ دن بعد ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ جب اس کا علاج نہیں کراتے ہیں تو یہ چند دنوں بعد دوبارہ نظر لگتے ہیں۔ جو آگے چل کر آپ کے لئے بہت سے مسائل کا سبب بنتے ہیں۔ آئیے جانتے ہیں سفلس کے بارے میں:

بخار: آپ کو بخار، گلے میں خراش اور لمف نوڈس میں سوجن ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ طویل عرصے تک کمزوری اور تکلیف بھی ہو سکتی ہے۔

بالوں کو جھڑنا: آپ بال جھڑ سکتے ہیں۔اتنا ہی نہیں آئی برو اور پلکوں کے بال بھی جھڑنے لگتے ہیں۔

پٹھوں میں درد: بخار کے علاوہ آپ کو گلے میں خراش اور جسم کے مختلف حصوں میں درد اور جوڑوں میں بھی درد ہو سکتا ہے۔
سفلیٹکس میننجائٹس: سفلس انفیکشن کے بعد تیار ہونے میں کئی سال لگ سکتا ہے۔ میننجائٹس میں دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کے ارد گرد میں سوجن ہونے لگتا ہے۔ اگر سفلس زیادہ بڑھ جائے تو آپ کے لئے جان لیوا بھی ہو سکتا ہے۔
syphilis
نیوروسفس: اگر اس کا علاج نہیں کرایا جائے، تو یہ اعصابی نظام کو متاثر کر سکتا ہے۔ بیکٹیریا کے اعصابی نظام کو متاثر کرنے کے لیے نیوروسفلس(neurosyphilis) کے طور پر جانا جاتا ہے۔

دل سے متعلق مسائل: سفلس بیکٹیریا آپ کے ہارٹ نظام پر حملہ کر سکتا ہے۔ بلڈسرکولیشن کے کنٹریکشن اور دمنیوں میں سوجن کی وجہ سے بہت سے معاملات میں یہ ہارٹ اٹیک کاسبب بھی بن سکتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات میں اضافے کے لیے شائع کیا گیا ہے۔مضمون میں دی گئی کسی بھی تجویز پر عمل کرنے سے قبل معالج سے مشورہ و ہدایت ضرور حاصل کریں۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *