صحافیوں کی دنیا میں ان تین الفاظ بہت معنی رکھتے ہیں، پر اب ان کا مطلب ہی ختم ہو گیا

Share Article

 

بہت سارے سینئر صحافی اب اپنے کو نئے ماحول میں ڈھال نہیں پا رہے ہیں۔

 

صحافت کی تعریفیں اور مثالیں اب بالکل بدل گئے ہیں۔ بہت سارے صحافی اب اپنے کو نئے ماحول میں ڈھال نہیں پا رہے ہیں، کیونکہ انہوں نے جو سیکھا، وہ آج بیکار ہو گیا ہے۔ اپنی پوری زندگی ان کے سامنے اصولوں کا پیچھا کرنے کی کہانی ہے اور وہ اصول بہت سادہ ہیں۔ ہماری یعنی صحافیوں کی دنیا میں تین الفاظ بہت معنی رکھتے ہیں۔ رپورٹ، ریکنگ نیوز اور سکوپ۔ آج صحافیوں کے اداروں میں یا پھر جو لوگ ٹی وی صحافت کر رہے ہیں، وہ ان الفاظ کا الگ الگ مطلب ختم کر چکے ہیں۔

 

رپورٹ : وہ ہوتی ہے، جس کے حقیقت سب کے لئے دستیاب ہوتے ہیں۔ یہ صحافیوں کے اوپر ہوتا ہے کہ وہ تمام حقائق اپنی رپورٹ میں شامل کریں یا پھر کچھ کو شامل کریں اور کچھ کو چھوڑ دیں۔ لیکن اکثر دیکھتے ہیں کہ رپورٹ میں بہت سے حقیقت پلٹ کئے جاتے ہیں، جو حقیقت سے تھوڑے مختلف ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی یہ حقیقت صحافی کی سیاسی نظریے کے قریب ہوتے ہیں۔ ہونا یہ چاہیے کہ رپورٹ سچ پر مبنی ہو اور نظریے کی بنیاد پر ایڈٹ صفحے کا مضمون ہو۔

 

دوسرا لفظ ہے بریکنگ نیوز: اس کا مطلب ہوتا ہے کہ کوئی خبر اگر سب سے پہلے کسی نیوز چینل کے پاس آئے تو وہ اس سب سے پہلے دکھائے اور اسے بریکنگ نیوز کہتے ہیں۔ لیکن ایک ہی خبر کسی ایک چینل پر آئی اور اچانک وہ چینل کی بریکنگ نیوز بن گئی۔ شام تک وہ خبر بریکنگ نیوز کے طور پر ایک ہی زیادہ تر چینلز پر آتی رہی۔ ناظرین یہ سمجھ ہی نہیں پاتا کہ کس چینل نے نیوز بریک کی ہے اور کس صحافی کے حصے میں اس کا کریڈٹ جاتا ہے۔ تمام چینل ایک ساتھ خبر کو بریک کرنے کا کریڈٹ لیتے ہیں۔ شام تک ایک ہی خبر کو بریکنگ نیوز میں چلانا سامعین کے ساتھ ناانصافی ہے، جس کا توجہ کوئی نیوز چینل نہیں رکھتا۔

 

تیسرا لفظ ہے سکوپ: اس لفظ کا آج کل کوئی اہمیت نہیں رہ گیا۔ اب ایسے صحافی خاص طور نیوز چینل میں نہیں ہیں، جو سکوپ کر سکیں، کیونکہ اس کے لئے جس محنت، جیسا علم اور جیسی موڈ چاہئے، وہ کہیں چھپ گئی ہے۔ پرنٹ کے علاوہ ٹیلی ویژن میں تو صحافی کی کوئی اہمیت رہ گیا ہے، ایسا لگتا ہے نہیں ہے۔ نیوز اینکر ہی صحافی کی تعریف ہو گیا ہے۔ اگر ہم دیکھیں کہ کتنے نیوز اینکر ہیں، جن کے اکاؤنٹ میں 10 یا 20 رپورٹ بھی ہیں، تو یہ تعداد کافی کم ہے، اسی لیے ان کے سوال بھی بہت ہی ہلکی اور سطحی ہوتے ہیں۔ ان کا ایک ہی کام ہوتا ہے کہ انہوں نے یہ کہا، اب آپ اس کے اوپر کیا کہنا ہے۔ بدقسمتی کی بات ہے کہ اب موضوع کا علم، موضوع کے سماجی، اقتصادی اور سیاسی پہلو کے بارے میں جاننا ابھی ضروری نہیں ہے۔

 

20 سال پہلے تک صحافی اپنے علم، اپنی محنت اور اپنی رپورٹ کے خلاصے کے لئے جانا جاتا تھا، اب وہ اپنی فصاحت کے لئے جانا جاتا ہے۔ لہٰذا صحافت اب جمہوریت کے چوتھے ستون کی جگہ تفریح کے لئے زیادہ جانی جاتی ہے۔ پہلے اگر ہم غلطی سے غلط رپورٹ کر دیتے تھے تو قاری سے معذرت طلب کرتے تھے، لیکن اب بہت سے نیوز چینل گھنٹوں کے حساب سے غلط رپورٹ خاص طور حقائق غلطی کرتے رہتے ہیں، اور ایک بار بھی ناظرین سے معذرت نہیں مانگتے، بلکہ اپنی اس غلطی کو بار بار دہرا کر اسے اور پختہ کرتے ہیں۔

 

شاید اس لئے اب کسی بھی رپورٹ کا اتنا اثر نہیں ہوتا، جتنا ہونا چاہئے۔ فلواپ رپورٹ تو اب خواب ہو گئی ہے۔ صحافت میں اتنی زیادہ جلن ہو گئی ہے کہ کسی دوسرے صحافی کا یا کسی رپورٹ کا وجود ماننا ہی بند ہو گیا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ ان باتوں کا لکھنا اب کوئی اہمیت نہیں رکھتا، کیونکہ آج صحافت کی تعریف کو دوبارہ لکھا جا رہا ہے اور یہ نئی تحریر بحث کا مرکز نہیں ہے۔ کبھی پی آر جرنلزم کو بہت ہی نقطہ نظر سے دیکھا جاتا تھا، لیکن اب یہ سب سے زیادہ عزت دار اور رسوخ دار لفظ ہے۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *