مسلم راشٹریہ منچ کے ذریعہ ایوان غالب میں منعقدعلماء کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے آر ایس ایس کے سینئر لیڈراندریش کمار نے کہا ہے کہ برقع مذہب سے جڑا ہوامعاملہ ہے۔ اگر کسی مذہب کے لوگوں کو لگتا ہے کہ یہ غلط رواج ہے تو وہ اسے ختم کرنے کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کسی سیاسی پارٹی یا کسی سیاسی لیڈر کو مدعا نہیں بنانا چاہئے۔ اندریش نے کہا کہ ملک کا مسلمان بیدار ہوچکا ہے اور وہ مودی حکومت میں اپنی ترقی دیکھنے لگا ہے۔انہوں نے کہا کہ قرآن شریف میں شدت پسندی کا کوئی ذکر نہیں ہے اور شدت پسندی شیطان کا راستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کا مسلمان انسانیت کے راستے پر چل رہاہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا قیام جناح اور کانگریس کی ملی بھگت سے ہوا تھا۔ ملک کی تقسیم انگریزوں نے نہرو، جناح اور کانگریس سے مل کر کرایا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ نہ نہرو اور نہ ہی کانگریس ملک کیلئے کبھی ایماندار رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ بالاکوٹ حملے میں جو سچ میں ہندوستانی تھا وہ مسکرایا اور جو صرف نعرے کا ہندوستانی ہے وہ شک کررہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مسلمان اب سوچنے لگا ہے کہ جن کی مخالفت کی انہوں نے ہمارا بگاڑا کیا اور جن کو اپنا مانا انہوں نے ہمیں دیا کیا؟انہوں نے کہا کہ پہلے وطن، پھر مذہب۔ انہوں نے کہا کہ جو مسلمان پہلے مذہب کو لاتے ہیں وہ ملک کے خیرخواہ نہیں ہیں۔اس موقع پرمولانا صہیب قاسمی،محمدافضال،یاسرجیلانی وغیرہ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here